<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 03 Oct 2026 14:14:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 03 Oct 2026 14:14:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کو امریکہ کی مذاکرات میں سنجیدگی پر شک ہے، عباس عراقچی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282579/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا ہے کہ تہران کو اس بات پر شبہ ہے کہ امریکہ مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ بحران حل کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں اے ایف پی بھی شریک تھا، عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیوں کا تسلسل اور حالیہ فوجی تعیناتیاں اس بات پر سوالات اٹھاتی ہیں کہ دوسرا فریق سنجیدہ ہے اور حقیقی مذاکرات کے لیے تیار ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، تمام اشاروں کا جائزہ لے رہے ہیں اور اسی بنیاد پر یہ فیصلہ کریں گے کہ مذاکرات کو جاری رکھا جائے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی کے مطابق ایران کسی بھی ممکنہ پیش رفت یا تبدیلی کو نظرانداز نہیں کر رہا، تاہم موجودہ اقدامات اعتماد سازی کے بجائے شکوک و شبہات کو بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات اسی صورت بامعنی ہو سکتے ہیں جب عملی اقدامات سے سنجیدگی کا ثبوت دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تہران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے اور کسی بھی فیصلے میں زمینی حقائق اور عالمی حالات کو مدنظر رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا ہے کہ تہران کو اس بات پر شبہ ہے کہ امریکہ مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ بحران حل کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے۔</strong></p>
<p>تہران میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں اے ایف پی بھی شریک تھا، عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیوں کا تسلسل اور حالیہ فوجی تعیناتیاں اس بات پر سوالات اٹھاتی ہیں کہ دوسرا فریق سنجیدہ ہے اور حقیقی مذاکرات کے لیے تیار ہے یا نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، تمام اشاروں کا جائزہ لے رہے ہیں اور اسی بنیاد پر یہ فیصلہ کریں گے کہ مذاکرات کو جاری رکھا جائے یا نہیں۔</p>
<p>عباس عراقچی کے مطابق ایران کسی بھی ممکنہ پیش رفت یا تبدیلی کو نظرانداز نہیں کر رہا، تاہم موجودہ اقدامات اعتماد سازی کے بجائے شکوک و شبہات کو بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات اسی صورت بامعنی ہو سکتے ہیں جب عملی اقدامات سے سنجیدگی کا ثبوت دیا جائے۔</p>
<p>ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تہران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے اور کسی بھی فیصلے میں زمینی حقائق اور عالمی حالات کو مدنظر رکھا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282579</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Feb 2026 15:03:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/081501420a7c28b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/081501420a7c28b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
