<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تلسی گبارڈ نے کانگریس سے وسل بلوئر کی شکایت روکنے کے الزامات مسترد کر دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282578/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے ہفتے کے روز ان الزامات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے کانگریس کو ایک وسل بلوئر کی شکایت تک رسائی سے روکنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی انہیں شکایت کے اجرا کے لیے سیکیورٹی رہنمائی فراہم کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیا گیا، انہوں نے فوری اقدام کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خفیہ ترین شکایت گزشتہ مئی میں انٹیلی جنس کمیونٹی کے انسپکٹر جنرل کو ایک نامعلوم سرکاری اہلکار کی جانب سے جمع کرائی گئی تھی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس چیف کے دفتر نے سیاسی وجوہات کی بنا پر بعض خفیہ معلومات کی معمول کی ترسیل روکنے کی کوشش کی۔ تلسی گبارڈ کو گزشتہ سال ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عہدے پر مقرر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسل بلوئر کے وکیل اینڈریو باکاج نے نومبر میں تلسی گبارڈ کے دفتر کو ایک خط لکھا، جس کی نقول ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹیوں کو بھی بھیجی گئیں۔ خط میں الزام لگایا گیا کہ تلسی گبارڈ نے مئی میں جمع کرائی گئی شکایت کو قانون سازوں تک پہنچانے میں رکاوٹ ڈالی کیونکہ اس کے لیے درکار سیکیورٹی ہدایات فراہم نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹ سینیٹر مارک وارنر سمیت بعض ارکانِ کانگریس کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر پر لازم تھا کہ وہ شکایت 21 دن کے اندر کانگریس کو بھجواتا، نہ کہ فروری تک انتظار کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تلسی گبارڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان الزامات کو کھلا جھوٹ قرار دیا۔ ان کے مطابق ٹرمپ اور سابق صدر جو بائیڈن کے ادوار میں تعینات مختلف انسپکٹر جنرلز نے اس شکایت کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 21 دن کی مدت صرف اسی صورت لاگو ہوتی ہے جب شکایت کو فوری اور بظاہر قابلِ اعتبار قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تلسی گبارڈ کا مزید کہنا تھا کہ جیسے ہی انہیں 4 دسمبر کو سیکیورٹی ہدایات جاری کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیا گیا، انہوں نے فوراً اس پر عمل کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے ہفتے کے روز ان الزامات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے کانگریس کو ایک وسل بلوئر کی شکایت تک رسائی سے روکنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی انہیں شکایت کے اجرا کے لیے سیکیورٹی رہنمائی فراہم کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیا گیا، انہوں نے فوری اقدام کیا۔</strong></p>
<p>یہ خفیہ ترین شکایت گزشتہ مئی میں انٹیلی جنس کمیونٹی کے انسپکٹر جنرل کو ایک نامعلوم سرکاری اہلکار کی جانب سے جمع کرائی گئی تھی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس چیف کے دفتر نے سیاسی وجوہات کی بنا پر بعض خفیہ معلومات کی معمول کی ترسیل روکنے کی کوشش کی۔ تلسی گبارڈ کو گزشتہ سال ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عہدے پر مقرر کیا تھا۔</p>
<p>وسل بلوئر کے وکیل اینڈریو باکاج نے نومبر میں تلسی گبارڈ کے دفتر کو ایک خط لکھا، جس کی نقول ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹیوں کو بھی بھیجی گئیں۔ خط میں الزام لگایا گیا کہ تلسی گبارڈ نے مئی میں جمع کرائی گئی شکایت کو قانون سازوں تک پہنچانے میں رکاوٹ ڈالی کیونکہ اس کے لیے درکار سیکیورٹی ہدایات فراہم نہیں کی گئیں۔</p>
<p>ڈیموکریٹ سینیٹر مارک وارنر سمیت بعض ارکانِ کانگریس کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر پر لازم تھا کہ وہ شکایت 21 دن کے اندر کانگریس کو بھجواتا، نہ کہ فروری تک انتظار کرتا۔</p>
<p>تاہم تلسی گبارڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان الزامات کو کھلا جھوٹ قرار دیا۔ ان کے مطابق ٹرمپ اور سابق صدر جو بائیڈن کے ادوار میں تعینات مختلف انسپکٹر جنرلز نے اس شکایت کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 21 دن کی مدت صرف اسی صورت لاگو ہوتی ہے جب شکایت کو فوری اور بظاہر قابلِ اعتبار قرار دیا جائے۔</p>
<p>تلسی گبارڈ کا مزید کہنا تھا کہ جیسے ہی انہیں 4 دسمبر کو سیکیورٹی ہدایات جاری کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیا گیا، انہوں نے فوراً اس پر عمل کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282578</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Feb 2026 14:58:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/081451394b0bd76.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/081451394b0bd76.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
