<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 07:01:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 07:01:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیمہ شدہ شخص کی وفات کی اطلاع میں تاخیر کلیم مسترد کرنے کیلئے کافی وجہ نہیں، آئینی عدالت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282569/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ بیمہ شدہ شخص کی وفات کی اطلاع انشورنس کمپنی کو تاخیر سے دینا، کلیم مسترد کرنے کی کوئی معقول یا قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے یہ فیصلہ میسرز پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ کی جانب سے دائر درخواست پر سناتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی بنیادی دلیل یہ تھی کہ مرحوم کی وفات کی اطلاع فوری طور پر نہیں دی گئی، تاہم محض تاخیر کو کلیم کو مسترد کے لیے کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیس کے حقائق کے مطابق محمد وقاص انجم نے 05 مارچ 2019 کو پاک قطر فیملی تکافل سے لائف انشورنس پالیسی حاصل کی تھی، جس کے تحت انہیں 38 لاکھ 50 ہزار روپے کی ڈیٹھ کوریج فراہم کی گئی۔ یہ پالیسی تین سالہ باقاعدہ شراکت اور پانچ سالہ رکنیت کی مدت پر مشتمل تھی۔ مرحوم نے اپنی بہن ارشیہ کنول کو قانونی طورپر نامزد کرکے مستحق قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد وقاص انجم 08 مئی 2019 کو، یعنی پالیسی کے آغاز کے چند ہی دن بعد، انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی اطلاع ای میل کے ذریعے ارشیہ کنول کے سوتیلے والد محمد خالد نے انشورنس کمپنی کو دی۔ تاہم کمپنی نے یکم اکتوبر 2021 کو کلیم مسترد کر دیا، جس کی وجوہات میں وفات کی اطلاع میں تاخیر، نامزد فرد کا حقیقی بہن نہ ہونے، مطلوبہ میڈیکل ریکارڈ کی عدم فراہمی اور مرحوم کے مبینہ منشیات کے عادی ہونے کے الزامات شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلیم مسترد ہونے پر ارشیہ کنول نے 08 اکتوبر 2019 کو فیڈرل انشورنس محتسب سے رجوع کیا، جس نے 06 جون 2022 کو فیصلہ دیتے ہوئے انشورنس کمپنی کو حکم دیا کہ وہ 30 دن کے اندر کلیم کی رقم ادا کرے۔ محتسب نے یہ بھی قرار دیا کہ کمپنی بلاجواز تاخیر کی مرتکب ہوئی اور اسے ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی محتسب کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا، جس کے خلاف کمپنی نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔ جسٹس محمد کریم خان آغا کے تحریر کردہ فیصلے میں عدالت نے کہا کہ وفات ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے اور ارشیہ کنول واحد نامزد مستحق ہیں، جبکہ کلیم مسترد کرنے کے لیے کوئی ٹھوس یا دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ محتسب کا فیصلہ درست اور قانونی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ بیمہ شدہ شخص کی وفات کی اطلاع انشورنس کمپنی کو تاخیر سے دینا، کلیم مسترد کرنے کی کوئی معقول یا قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔</strong></p>
<p>عدالت نے یہ فیصلہ میسرز پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ کی جانب سے دائر درخواست پر سناتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی بنیادی دلیل یہ تھی کہ مرحوم کی وفات کی اطلاع فوری طور پر نہیں دی گئی، تاہم محض تاخیر کو کلیم کو مسترد کے لیے کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔</p>
<p>کیس کے حقائق کے مطابق محمد وقاص انجم نے 05 مارچ 2019 کو پاک قطر فیملی تکافل سے لائف انشورنس پالیسی حاصل کی تھی، جس کے تحت انہیں 38 لاکھ 50 ہزار روپے کی ڈیٹھ کوریج فراہم کی گئی۔ یہ پالیسی تین سالہ باقاعدہ شراکت اور پانچ سالہ رکنیت کی مدت پر مشتمل تھی۔ مرحوم نے اپنی بہن ارشیہ کنول کو قانونی طورپر نامزد کرکے مستحق قرار دیا تھا۔</p>
<p>محمد وقاص انجم 08 مئی 2019 کو، یعنی پالیسی کے آغاز کے چند ہی دن بعد، انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی اطلاع ای میل کے ذریعے ارشیہ کنول کے سوتیلے والد محمد خالد نے انشورنس کمپنی کو دی۔ تاہم کمپنی نے یکم اکتوبر 2021 کو کلیم مسترد کر دیا، جس کی وجوہات میں وفات کی اطلاع میں تاخیر، نامزد فرد کا حقیقی بہن نہ ہونے، مطلوبہ میڈیکل ریکارڈ کی عدم فراہمی اور مرحوم کے مبینہ منشیات کے عادی ہونے کے الزامات شامل تھے۔</p>
<p>کلیم مسترد ہونے پر ارشیہ کنول نے 08 اکتوبر 2019 کو فیڈرل انشورنس محتسب سے رجوع کیا، جس نے 06 جون 2022 کو فیصلہ دیتے ہوئے انشورنس کمپنی کو حکم دیا کہ وہ 30 دن کے اندر کلیم کی رقم ادا کرے۔ محتسب نے یہ بھی قرار دیا کہ کمپنی بلاجواز تاخیر کی مرتکب ہوئی اور اسے ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p>بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی محتسب کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا، جس کے خلاف کمپنی نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔ جسٹس محمد کریم خان آغا کے تحریر کردہ فیصلے میں عدالت نے کہا کہ وفات ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے اور ارشیہ کنول واحد نامزد مستحق ہیں، جبکہ کلیم مسترد کرنے کے لیے کوئی ٹھوس یا دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ محتسب کا فیصلہ درست اور قانونی تھا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282569</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Feb 2026 11:14:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیرنس جے سگامونی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/081113080edbea9.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/081113080edbea9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
