<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئندہ دہائی کے دوران 3 کروڑ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282552/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب ریاست سرحدی تنازعات، دہشت گردی کے خطرات اور منقسم سیاست سے نبرد آزما ہے، پاکستان کے نوجوان مایوسی، محرومی اور محدود ہوتی معاشی مواقع کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ خلیج خطرناک ہے، کیونکہ جب نوجوان ملکی معیشت پر اعتماد کھو دیتے ہیں تو نتائج واضح ہوتے ہیں: غیرقانونی ہجرت، برین ڈرین، سماجی بے چینی اور انتہاپسند بیانیوں کی طرف جھکاؤ۔ ورلڈ بینک کے انتباہ کے مطابق یہ خطرہ محض نظری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے مسئلے کو غیرمعمولی حد تک سنگین بنانے والی بات یہ ہے کہ معاشی دباؤ، سیاسی عدم استحکام، سیکورٹی خدشات اور بار بار کی علاقائی کشیدگی ایک دوسرے پر منطبق ہو جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی عالمی سطح پر بے روزگاری سے متعلق ریسرچ اینڈ اینالیسز کے مطابق پاکستان کو اپنی آبادیاتی حقیقت کے ساتھ قدم ملانے کے لیے اگلی ایک دہائی تک ہر سال 25 سے 30 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی — یعنی مجموعی طور پر 2 کروڑ 50 لاکھ سے 3 کروڑ نوکریاں۔ یہ کوئی بلند پروازی ہدف نہیں بلکہ بقا کی حد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کی پاکستان کو حالیہ وارننگ، کہ ناکامی غیرقانونی ہجرت یا اندرونی عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے، کو کسی بیرونی خطرے کی گھنٹی کے بجائے ریاست کے سامنے رکھا گیا آئینہ سمجھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر کئی پالیسی چیلنجز کے برعکس جنہیں موخر کیا جا سکتا ہے، پاکستان میں ایمپلوئمنٹ جنریشن ترقی کے راستے کی ایک بائنڈنگ کنسٹرینٹ ہے۔ یہ میکرو اسٹیبلٹی یا ریفارم سیکوینسنگ کا ثانوی نتیجہ نہیں بلکہ مرکزی چیلنج ہے۔ جیسا کہ بنگا نے بجا طور پر کہا، یہ ایک جنریشنل ٹیسٹ ہے — جو اس بات کا تعین کرے گا کہ پاکستان کا یوتھ ڈیویڈنڈ ایک اثاثہ بنتا ہے یا عدم استحکام کی قوت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی لیبر فورس میں ہر سال تقریباً 22 سے 25 لاکھ افراد کا اضافہ ہوتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں نیٹ جاب کری ایشن اس تعداد سے خاصی کم رہی ہے۔ اندازوں کے مطابق بہترین حالیہ برسوں میں بھی معیشت سالانہ صرف 12 سے 15 لاکھ نئی نوکریاں پیدا کر سکی، جبکہ سیاسی عدم استحکام، وبا، سیلاب اور میکرو اکنامک سکڑاؤ کے ادوار میں یہ تعداد اس سے کہیں کم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزگار کے متلاشی افراد اور دستیاب مواقع کے درمیان اس خلا کے نتیجے میں نوجوانوں میں بے روزگاری میں اضافہ، وسیع پیمانے پر انڈر ایمپلائمنٹ اور تعلیم یافتہ مگر معاشی طور پر غیر فعال نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری بے روزگاری کی شرح اصل دباؤ کو چھپا دیتی ہے: لاکھوں افراد غیر رسمی، کم پیداواری کام میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں نہ تو روزگار کا تحفظ ہے اور نہ ہی ترقی کے مواقع۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دس برسوں میں 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی تاریخی ایمپلائمنٹ ابزورپشن ریٹ کو تقریباً دوگنا کرنا ہوگا۔ یہ غیرمعمولی حد تک مشکل ضرور ہے، مگر علاقائی تقابلی مثالوں کے تناظر میں ناممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت، مثال کے طور پر، مینوفیکچرنگ، سروسز، کنسٹرکشن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں سالانہ تقریباً 70 سے 80 لاکھ نوکریاں پیدا کرتا ہے، جسے 6 فیصد سے زائد کی مسلسل گروتھ کی معاونت حاصل ہے۔ بنگلہ دیش، کم آبادی کے باوجود، ایکسپورٹ لیڈ مینوفیکچرنگ، بالخصوص ٹیکسٹائل کے ذریعے مستقل طور پر روزگار پیدا کرتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں خواتین فارمل ورک فورس میں شامل ہوئیں۔ ویتنام نے گلوبل ویلیو چینز میں انضمام، ایف ڈی آئی کے حصول اور اسکلز و صنعتی کلسٹرز پر مسلسل توجہ کے ذریعے اپنی لیبر مارکیٹ کو تبدیل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، پاکستان کسی بھی لیبر اِنٹینسیو گروتھ انجن کو وسعت دینے میں ناکام رہا ہے۔ مینوفیکچرنگ کا جی ڈی پی میں حصہ جمود کا شکار ہے۔ ایکسپورٹس محدود اور کم ویلیو ایڈڈ ہیں۔ ایگریکلچر اب بھی ایک تہائی سے زائد ورک فورس کو روزگار فراہم کرتا ہے، مگر جی ڈی پی میں اس کا حصہ ایک چوتھائی سے کم ہے، جو کم پیداواری صلاحیت اور ڈسگائزڈ ان ایمپلائمنٹ ( غیر موثر روزگار) کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ وابستگی میکرو اکنامک اسٹیبلائزیشن کے لیے ناگزیر رہی ہے، جبکہ ورلڈ بینک کا 10 سالہ “کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک” طویل المدتی ترقیاتی نقطۂ نظر فراہم کرتا ہے۔ تاہم، صرف اسٹیبلائزیشن سے نوکریاں پیدا نہیں ہوتیں۔ فِسکل کنسولیڈیشن اگرچہ ضروری ہے، مگر قلیل مدت میں یہ اکثر پبلک انویسٹمنٹ کو محدود اور گروتھ کو سست کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اصل سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان “پرفیکٹ کنڈیشنز” کے انتظار کے بغیر، جو شاذ و نادر ہی میسر آتی ہیں، کرائسس مینجمنٹ سے نکل کر جاب سینٹرک گروتھ کی جانب رخ موڑ سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوکریاں پیدا کرنے کے ذرائع ایک بزنس اینیبلنگ انوائرمنٹ میں کثیرالجہت ہوتے ہیں؛ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ایسا بزنس اینیبلنگ انوائرمنٹ عملاً موجود نہیں۔ ایکسپورٹ اورینٹڈ مینوفیکچرنگ کی بحالی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ پاکستان محض سروسز کے ذریعے لاکھوں نوجوان ورکرز کو جذب نہیں کر سکتا۔ ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، لائٹ انجینئرنگ، فارماسیوٹیکلز اور کنسٹرکشن میٹیریلز ایسے شعبے ہیں جن میں بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے — بشرطیکہ توانائی کی قیمتوں، ٹیکسیشن اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال کو حل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، سروسز سیکٹر کو محض توسیع نہیں بلکہ فارملائزیشن کی ضرورت ہے۔ لاجسٹکس، ریٹیل، آئی ٹی اینیبلڈ سروسز، ٹورازم اور ہیلتھ کیئر معیاری روزگار کے وسیع مواقع فراہم کر سکتے ہیں — لیکن اسی صورت میں جب اسکلز ٹریننگ، ڈیجیٹل پیمنٹس اور ایس ایم ای فنانسنگ کو ہم آہنگ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا، ایگریکلچر کو چھپی ہوئی بے روزگاری کے بجائے پروڈکٹیوٹی سے جڑے روزگار کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ ایگری ویلیو چینز، اسٹوریج، پروسیسنگ اور ایکسپورٹس نوجوانوں کو جذب کر سکتی ہیں — مگر صرف اس صورت میں جب زمین، پانی اور مارکیٹ ریفارمز کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا، اسکلز اور ہیومن کیپیٹل کو اکنامک انفرااسٹرکچر کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کا تعلیمی نظام اب بھی نوجوانوں کو ان نوکریوں کے لیے تیار کرتا ہے جو اب موجود نہیں رہیں، جبکہ صنعتیں اسکل شارٹیجز کی شکایت کرتی ہیں۔ یہ عدم مطابقت نوجوانوں کی نہیں بلکہ پالیسی کی ناکامی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالآخر، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا صرف معاشیات کا معاملہ نہیں؛ یہ اعتماد کا مسئلہ ہے۔ نوجوان پاکستانیوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ محنت کا صلہ ملے گا، کہ ٹیلنٹ ملک کے اندر ترقی کر سکتا ہے، اور یہ کہ نظام ان کے خلاف طے شدہ نہیں۔ امید اس وقت بحال ہوتی ہے جب پالیسیاں قابلِ پیش گوئی ہوں، میرٹ کو اہمیت دی جائے، کاروبار خوف کے بغیر سرمایہ کاری کر سکیں، اور ریاست مشکل فیصلوں پر دیانت داری سے بات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دس سالہ ایمپلائمنٹ چیلنج نعروں یا عارضی اسکیموں سے حل نہیں ہو سکتا؛ اس کے لیے سیاسی ادوار سے بالاتر تسلسل درکار ہے۔ پاکستان کا یوتھ بلج اب بھی ایک موقع کی کھڑکی ہے، مگر کھڑکیاں بند بھی ہو جاتی ہیں۔ ریاست کے سامنے انتخاب واضح ہے: یا تو ابھی جاب کری ایٹنگ گروتھ میں سرمایہ کاری کی جائے، یا بعد میں عدم استحکام، ہجرت اور ضائع ہوتی نسلوں کی قیمت ادا کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب ریاست سرحدی تنازعات، دہشت گردی کے خطرات اور منقسم سیاست سے نبرد آزما ہے، پاکستان کے نوجوان مایوسی، محرومی اور محدود ہوتی معاشی مواقع کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ خلیج خطرناک ہے، کیونکہ جب نوجوان ملکی معیشت پر اعتماد کھو دیتے ہیں تو نتائج واضح ہوتے ہیں: غیرقانونی ہجرت، برین ڈرین، سماجی بے چینی اور انتہاپسند بیانیوں کی طرف جھکاؤ۔ ورلڈ بینک کے انتباہ کے مطابق یہ خطرہ محض نظری نہیں ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان کے مسئلے کو غیرمعمولی حد تک سنگین بنانے والی بات یہ ہے کہ معاشی دباؤ، سیاسی عدم استحکام، سیکورٹی خدشات اور بار بار کی علاقائی کشیدگی ایک دوسرے پر منطبق ہو جاتی ہیں۔</p>
<p>ورلڈ بینک کی عالمی سطح پر بے روزگاری سے متعلق ریسرچ اینڈ اینالیسز کے مطابق پاکستان کو اپنی آبادیاتی حقیقت کے ساتھ قدم ملانے کے لیے اگلی ایک دہائی تک ہر سال 25 سے 30 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی — یعنی مجموعی طور پر 2 کروڑ 50 لاکھ سے 3 کروڑ نوکریاں۔ یہ کوئی بلند پروازی ہدف نہیں بلکہ بقا کی حد ہے۔</p>
<p>اسی تناظر میں ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کی پاکستان کو حالیہ وارننگ، کہ ناکامی غیرقانونی ہجرت یا اندرونی عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے، کو کسی بیرونی خطرے کی گھنٹی کے بجائے ریاست کے سامنے رکھا گیا آئینہ سمجھا جانا چاہیے۔</p>
<p>دیگر کئی پالیسی چیلنجز کے برعکس جنہیں موخر کیا جا سکتا ہے، پاکستان میں ایمپلوئمنٹ جنریشن ترقی کے راستے کی ایک بائنڈنگ کنسٹرینٹ ہے۔ یہ میکرو اسٹیبلٹی یا ریفارم سیکوینسنگ کا ثانوی نتیجہ نہیں بلکہ مرکزی چیلنج ہے۔ جیسا کہ بنگا نے بجا طور پر کہا، یہ ایک جنریشنل ٹیسٹ ہے — جو اس بات کا تعین کرے گا کہ پاکستان کا یوتھ ڈیویڈنڈ ایک اثاثہ بنتا ہے یا عدم استحکام کی قوت۔</p>
<p>پاکستان کی لیبر فورس میں ہر سال تقریباً 22 سے 25 لاکھ افراد کا اضافہ ہوتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں نیٹ جاب کری ایشن اس تعداد سے خاصی کم رہی ہے۔ اندازوں کے مطابق بہترین حالیہ برسوں میں بھی معیشت سالانہ صرف 12 سے 15 لاکھ نئی نوکریاں پیدا کر سکی، جبکہ سیاسی عدم استحکام، وبا، سیلاب اور میکرو اکنامک سکڑاؤ کے ادوار میں یہ تعداد اس سے کہیں کم رہی۔</p>
<p>روزگار کے متلاشی افراد اور دستیاب مواقع کے درمیان اس خلا کے نتیجے میں نوجوانوں میں بے روزگاری میں اضافہ، وسیع پیمانے پر انڈر ایمپلائمنٹ اور تعلیم یافتہ مگر معاشی طور پر غیر فعال نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری بے روزگاری کی شرح اصل دباؤ کو چھپا دیتی ہے: لاکھوں افراد غیر رسمی، کم پیداواری کام میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں نہ تو روزگار کا تحفظ ہے اور نہ ہی ترقی کے مواقع۔</p>
<p>دس برسوں میں 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی تاریخی ایمپلائمنٹ ابزورپشن ریٹ کو تقریباً دوگنا کرنا ہوگا۔ یہ غیرمعمولی حد تک مشکل ضرور ہے، مگر علاقائی تقابلی مثالوں کے تناظر میں ناممکن نہیں۔</p>
<p>بھارت، مثال کے طور پر، مینوفیکچرنگ، سروسز، کنسٹرکشن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں سالانہ تقریباً 70 سے 80 لاکھ نوکریاں پیدا کرتا ہے، جسے 6 فیصد سے زائد کی مسلسل گروتھ کی معاونت حاصل ہے۔ بنگلہ دیش، کم آبادی کے باوجود، ایکسپورٹ لیڈ مینوفیکچرنگ، بالخصوص ٹیکسٹائل کے ذریعے مستقل طور پر روزگار پیدا کرتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں خواتین فارمل ورک فورس میں شامل ہوئیں۔ ویتنام نے گلوبل ویلیو چینز میں انضمام، ایف ڈی آئی کے حصول اور اسکلز و صنعتی کلسٹرز پر مسلسل توجہ کے ذریعے اپنی لیبر مارکیٹ کو تبدیل کیا۔</p>
<p>اس کے برعکس، پاکستان کسی بھی لیبر اِنٹینسیو گروتھ انجن کو وسعت دینے میں ناکام رہا ہے۔ مینوفیکچرنگ کا جی ڈی پی میں حصہ جمود کا شکار ہے۔ ایکسپورٹس محدود اور کم ویلیو ایڈڈ ہیں۔ ایگریکلچر اب بھی ایک تہائی سے زائد ورک فورس کو روزگار فراہم کرتا ہے، مگر جی ڈی پی میں اس کا حصہ ایک چوتھائی سے کم ہے، جو کم پیداواری صلاحیت اور ڈسگائزڈ ان ایمپلائمنٹ ( غیر موثر روزگار) کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ وابستگی میکرو اکنامک اسٹیبلائزیشن کے لیے ناگزیر رہی ہے، جبکہ ورلڈ بینک کا 10 سالہ “کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک” طویل المدتی ترقیاتی نقطۂ نظر فراہم کرتا ہے۔ تاہم، صرف اسٹیبلائزیشن سے نوکریاں پیدا نہیں ہوتیں۔ فِسکل کنسولیڈیشن اگرچہ ضروری ہے، مگر قلیل مدت میں یہ اکثر پبلک انویسٹمنٹ کو محدود اور گروتھ کو سست کر دیتی ہے۔</p>
<p>لہٰذا اصل سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان “پرفیکٹ کنڈیشنز” کے انتظار کے بغیر، جو شاذ و نادر ہی میسر آتی ہیں، کرائسس مینجمنٹ سے نکل کر جاب سینٹرک گروتھ کی جانب رخ موڑ سکتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>نوکریاں پیدا کرنے کے ذرائع ایک بزنس اینیبلنگ انوائرمنٹ میں کثیرالجہت ہوتے ہیں؛ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ایسا بزنس اینیبلنگ انوائرمنٹ عملاً موجود نہیں۔ ایکسپورٹ اورینٹڈ مینوفیکچرنگ کی بحالی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ پاکستان محض سروسز کے ذریعے لاکھوں نوجوان ورکرز کو جذب نہیں کر سکتا۔ ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، لائٹ انجینئرنگ، فارماسیوٹیکلز اور کنسٹرکشن میٹیریلز ایسے شعبے ہیں جن میں بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے — بشرطیکہ توانائی کی قیمتوں، ٹیکسیشن اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال کو حل کیا جائے۔</p>
<p>دوسرا، سروسز سیکٹر کو محض توسیع نہیں بلکہ فارملائزیشن کی ضرورت ہے۔ لاجسٹکس، ریٹیل، آئی ٹی اینیبلڈ سروسز، ٹورازم اور ہیلتھ کیئر معیاری روزگار کے وسیع مواقع فراہم کر سکتے ہیں — لیکن اسی صورت میں جب اسکلز ٹریننگ، ڈیجیٹل پیمنٹس اور ایس ایم ای فنانسنگ کو ہم آہنگ کیا جائے۔</p>
<p>تیسرا، ایگریکلچر کو چھپی ہوئی بے روزگاری کے بجائے پروڈکٹیوٹی سے جڑے روزگار کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ ایگری ویلیو چینز، اسٹوریج، پروسیسنگ اور ایکسپورٹس نوجوانوں کو جذب کر سکتی ہیں — مگر صرف اس صورت میں جب زمین، پانی اور مارکیٹ ریفارمز کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا جائے۔</p>
<p>چوتھا، اسکلز اور ہیومن کیپیٹل کو اکنامک انفرااسٹرکچر کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کا تعلیمی نظام اب بھی نوجوانوں کو ان نوکریوں کے لیے تیار کرتا ہے جو اب موجود نہیں رہیں، جبکہ صنعتیں اسکل شارٹیجز کی شکایت کرتی ہیں۔ یہ عدم مطابقت نوجوانوں کی نہیں بلکہ پالیسی کی ناکامی ہے۔</p>
<p>بالآخر، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا صرف معاشیات کا معاملہ نہیں؛ یہ اعتماد کا مسئلہ ہے۔ نوجوان پاکستانیوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ محنت کا صلہ ملے گا، کہ ٹیلنٹ ملک کے اندر ترقی کر سکتا ہے، اور یہ کہ نظام ان کے خلاف طے شدہ نہیں۔ امید اس وقت بحال ہوتی ہے جب پالیسیاں قابلِ پیش گوئی ہوں، میرٹ کو اہمیت دی جائے، کاروبار خوف کے بغیر سرمایہ کاری کر سکیں، اور ریاست مشکل فیصلوں پر دیانت داری سے بات کرے۔</p>
<p>دس سالہ ایمپلائمنٹ چیلنج نعروں یا عارضی اسکیموں سے حل نہیں ہو سکتا؛ اس کے لیے سیاسی ادوار سے بالاتر تسلسل درکار ہے۔ پاکستان کا یوتھ بلج اب بھی ایک موقع کی کھڑکی ہے، مگر کھڑکیاں بند بھی ہو جاتی ہیں۔ ریاست کے سامنے انتخاب واضح ہے: یا تو ابھی جاب کری ایٹنگ گروتھ میں سرمایہ کاری کی جائے، یا بعد میں عدم استحکام، ہجرت اور ضائع ہوتی نسلوں کی قیمت ادا کی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282552</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Feb 2026 16:14:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/07154142c467c07.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/07154142c467c07.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
