<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 03:57:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 03:57:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمدات میں اضافے کی حکمتِ عملی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282550/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے 2024-25 کے ٹاپ ایکسپورٹرز ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز ایکسپورٹرز کے لیے بلیو پاسپورٹ کا اعلان کیا اور صنعتوں پر مالی دباؤ کم کرنے کے لیے ایکسپورٹ ری فنانس ریٹ، بجلی کے نرخ اور ویلنگ چارجز میں کمی کے اقدامات کا اعلان کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیو پاسپورٹ عام طور پر حکومتی اہلکاروں، سینیٹرز اور پارلیمنٹ کے اراکین کے لیے جاری کیے جاتے ہیں تاکہ وہ سرکاری بیرون ملک امور کے لیے آسانی سے ویزا حاصل کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید یہ کی جارہی تھی کہ حکومت اس کے بجائے ملک کے (عام) شہریوں کے لیے ویزا سہولیات فراہم کرنے پر زیادہ توجہ دیتی کیونکہ عام شہری دنیا کے بیشتر ممالک، بشمول وہ مسلم ممالک جن کے ساتھ پاکستان کے خصوصی تعلقات، تجارتی اور بعض اوقات سیکیورٹی معاہدے ہیں، میں انتہائی سخت ویزا شرائط کا سامنا کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرتوانائی اویس لغاری نے اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم کے خصوصی ریلیف پیکیج کے تحت صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی کر دی گئی ہے۔ اس پیکیج سے وہیلنگ چارجز میں کمی آئے گی جس کے نتیجے میں صنعتوں کے لیے بجلی کی فی یونٹ لاگت 11 سے 11.5 سینٹ تک کم ہو جائے گی، تاہم یہ شرح اب بھی علاقائی حریف ممالک (جیسے بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام) کے مقابلے میں زیادہ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں بجلی کے نرخ ریاست در ریاست مختلف ہوتے ہیں اور یہ 3 سے 9 سینٹ فی یونٹ کے درمیان ہیں جبکہ چین میں ہائی وولٹیج صنعتی نرخ تقریباً 8.4 سے 8.8 سینٹ فی یونٹ کے قریب ہیں۔ تاہم، بھارت کی طرح چین میں بھی یہ نرخ خطے اور استعمال کی سطح کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس پاکستان مسلسل یکساں ٹیرف پر اصرار کر رہا ہے جس کے لیے ہر سال خطیر سبسڈیز کی ضرورت ہوتی ہے (رواں سال کے بجٹ میں ایک کھرب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں)۔ یہ عمل مالی گنجائش میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے، ساتھ ہی ساتھ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے ناقص معاہدے بھی ذمہ دار ہیں جن کے تحت بجلی کی اصل خریداری سے قطع نظر کیپیسٹی پیمنٹس اور ڈالر کی شکل میں منافع کی واپسی کا وعدہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ یہاں تک کہ کےالیکٹرک  بھی جسے 2005 میں نجی ملکیت میں دیا گیا تھا، اسی مقصد کیلئے سالانہ سبسڈی وصول کرتی ہے۔ ملک بھر میں یکساں ٹیرف کی پالیسی کی وجہ سے رواں سال کے بجٹ میں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے 125 ارب روپے کےالیکٹرک کے لیے مختص کیے گئے ہیں، یہ وہ عنصر ہے جو مزید تین تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی مجوزہ نجکاری کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال میں مزید اضافے کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے مقصد سے قابلِ تجدید توانائی (سولر، ونڈ وغیرہ) کے ذریعے بجلی کی پیداوار کی حوصلہ افزائی تو شروع کی لیکن اس سے کیپیسٹی پیمنٹس (بجلی گھروں کو ہونے والی واجب الادا ادائیگیاں) کے واجبات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں حکومت نے گردشی قرضے کی ادائیگی کیلئے کمرشل بینکوں سے 1.25 کھرب روپے قرض لیا ہے، یہ ایک ایسا قرض ہے جس کا مقصد بجلی کے شعبے کی نااہلیوں کا بوجھ بے بس صارفین پر ڈالنا ہے۔ ساتھ ہی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت یہ عہد کیا ہے کہ بجلی کی فراہمی کی مکمل لاگت کی وصولی کو یقینی بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ڈسکاؤنٹ ریٹ (شرحِ سود) موجودہ 10.5 فیصد سے کم نہیں ہوتا، جیسا کہ توقع کی جا رہی ہے، تو حکومت آئی ایم ایف  کے ساتھ اپنے معاہدے کے مطابق ’ڈیٹ سروس سرچارج کو ایڈجسٹ کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں حکومت کو تقریباً یقینی طور پر (صنعتوں کے لیے) اعلان کردہ ریلیف پیکیج واپس لینا پڑے گا۔ اس لیے بجلی کے شعبے میں ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کی ضرورت انتہائی شدید ہے اور صرف یہی امید کی جا سکتی ہے کہ ایک جامع اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل کیا جائے گا تاکہ موجودہ خامیوں کو ہمیشہ کے لیے دور کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ بیرونِ ملک سے قرض لینے (بشمول دوست ممالک سے حاصل کردہ 12 ارب ڈالر سے زائد کے رول اوورز) کے مقابلے میں برآمدی آمدن ہی آمدنی کا سب سے پسندیدہ ذریعہ ہے، تاہم اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گزشتہ برسوں کے دوران غیر ملکی زرِ مبادلہ کے حصول کے ذریعے کے طور پر پاکستان کی برآمدات میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات زیادہ تر خام مال  پر مشتمل ہیں جن میں ویلیو ایڈیشن بہت کم ہے اور ٹیکسٹائل جو ملک کیلئے زرمبادلہ کمانے والا سب سے بڑا شعبہ ہے کی برآمدات میں 2014 کے بعد یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس  کا درجہ ملنے کی وجہ سے تیزی سے اضافہ ہوا تھ،۔ تاہم حالیہ بھارت-یورپی یونین فری ٹریڈ ڈیل کے بعد ان برآمدات کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلاتِ زر کی آمد اب برآمدی آمدن سے تجاوز کرگئی ہے: ستمبر 2025 میں برآمدات 2,609 ملین ڈالر تھیں، جو اکتوبر میں 2,532 ملین ڈالر، نومبر میں 2,277 ملین ڈالر اور دسمبر میں 2,751 ملین ڈالر رہیں۔ اس کے مقابلے میں درآمدات (بشمول خام مال اور نیم تیار شدہ مصنوعات) میں کہیں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مہینوں کے لیے ترسیلاتِ زر کی آمد درج ذیل رہی: ستمبر 2025 میں 3,184 ملین ڈالر، اکتوبر میں 3,420 ملین ڈالر، نومبر میں 3,188 ملین ڈالر اور دسمبر میں 3,589 ملین ڈالر۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت نہ صرف برآمدات پر توجہ دے، بلکہ ویلیو ایڈیشن کے ساتھ ساتھ ترسیلاتِ زر میں مزید اضافے کی حوصلہ افزائی پر بھی توجہ مرکوز کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختصر یہ کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا حکومت نے اس ریلیف پیکیج کی تفصیلات آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی ہیں یا نہیں، لیکن اگر ایسا کیا بھی گیا ہے تو اس پیکیج کا تسلسل نہ صرف ایندھن کی بین الاقوامی قیمتوں پر منحصر ہوگا (جو بجلی کے شعبے کے لیے ایک کلیدی جزو ہے) بلکہ اس کا دارومدار بجلی کے شعبے کی مجموعی کارکردگی پر بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، موجودہ صنعتی بنیاد پر نظرِ ثانی کرنے اور ٹیکنالوجی بشمول مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیاری میں زیادہ ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر اعظم شہباز شریف نے 2024-25 کے ٹاپ ایکسپورٹرز ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز ایکسپورٹرز کے لیے بلیو پاسپورٹ کا اعلان کیا اور صنعتوں پر مالی دباؤ کم کرنے کے لیے ایکسپورٹ ری فنانس ریٹ، بجلی کے نرخ اور ویلنگ چارجز میں کمی کے اقدامات کا اعلان کیا۔</strong></p>
<p>بلیو پاسپورٹ عام طور پر حکومتی اہلکاروں، سینیٹرز اور پارلیمنٹ کے اراکین کے لیے جاری کیے جاتے ہیں تاکہ وہ سرکاری بیرون ملک امور کے لیے آسانی سے ویزا حاصل کرسکیں۔</p>
<p>امید یہ کی جارہی تھی کہ حکومت اس کے بجائے ملک کے (عام) شہریوں کے لیے ویزا سہولیات فراہم کرنے پر زیادہ توجہ دیتی کیونکہ عام شہری دنیا کے بیشتر ممالک، بشمول وہ مسلم ممالک جن کے ساتھ پاکستان کے خصوصی تعلقات، تجارتی اور بعض اوقات سیکیورٹی معاہدے ہیں، میں انتہائی سخت ویزا شرائط کا سامنا کررہے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیرتوانائی اویس لغاری نے اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم کے خصوصی ریلیف پیکیج کے تحت صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی کر دی گئی ہے۔ اس پیکیج سے وہیلنگ چارجز میں کمی آئے گی جس کے نتیجے میں صنعتوں کے لیے بجلی کی فی یونٹ لاگت 11 سے 11.5 سینٹ تک کم ہو جائے گی، تاہم یہ شرح اب بھی علاقائی حریف ممالک (جیسے بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام) کے مقابلے میں زیادہ ہوگی۔</p>
<p>بھارت میں بجلی کے نرخ ریاست در ریاست مختلف ہوتے ہیں اور یہ 3 سے 9 سینٹ فی یونٹ کے درمیان ہیں جبکہ چین میں ہائی وولٹیج صنعتی نرخ تقریباً 8.4 سے 8.8 سینٹ فی یونٹ کے قریب ہیں۔ تاہم، بھارت کی طرح چین میں بھی یہ نرخ خطے اور استعمال کی سطح کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتے ہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس پاکستان مسلسل یکساں ٹیرف پر اصرار کر رہا ہے جس کے لیے ہر سال خطیر سبسڈیز کی ضرورت ہوتی ہے (رواں سال کے بجٹ میں ایک کھرب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں)۔ یہ عمل مالی گنجائش میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے، ساتھ ہی ساتھ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے ناقص معاہدے بھی ذمہ دار ہیں جن کے تحت بجلی کی اصل خریداری سے قطع نظر کیپیسٹی پیمنٹس اور ڈالر کی شکل میں منافع کی واپسی کا وعدہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ یہاں تک کہ کےالیکٹرک  بھی جسے 2005 میں نجی ملکیت میں دیا گیا تھا، اسی مقصد کیلئے سالانہ سبسڈی وصول کرتی ہے۔ ملک بھر میں یکساں ٹیرف کی پالیسی کی وجہ سے رواں سال کے بجٹ میں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے 125 ارب روپے کےالیکٹرک کے لیے مختص کیے گئے ہیں، یہ وہ عنصر ہے جو مزید تین تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی مجوزہ نجکاری کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال میں مزید اضافے کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے مقصد سے قابلِ تجدید توانائی (سولر، ونڈ وغیرہ) کے ذریعے بجلی کی پیداوار کی حوصلہ افزائی تو شروع کی لیکن اس سے کیپیسٹی پیمنٹس (بجلی گھروں کو ہونے والی واجب الادا ادائیگیاں) کے واجبات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>مزید برآں حکومت نے گردشی قرضے کی ادائیگی کیلئے کمرشل بینکوں سے 1.25 کھرب روپے قرض لیا ہے، یہ ایک ایسا قرض ہے جس کا مقصد بجلی کے شعبے کی نااہلیوں کا بوجھ بے بس صارفین پر ڈالنا ہے۔ ساتھ ہی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت یہ عہد کیا ہے کہ بجلی کی فراہمی کی مکمل لاگت کی وصولی کو یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p>اگر ڈسکاؤنٹ ریٹ (شرحِ سود) موجودہ 10.5 فیصد سے کم نہیں ہوتا، جیسا کہ توقع کی جا رہی ہے، تو حکومت آئی ایم ایف  کے ساتھ اپنے معاہدے کے مطابق ’ڈیٹ سروس سرچارج کو ایڈجسٹ کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں حکومت کو تقریباً یقینی طور پر (صنعتوں کے لیے) اعلان کردہ ریلیف پیکیج واپس لینا پڑے گا۔ اس لیے بجلی کے شعبے میں ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کی ضرورت انتہائی شدید ہے اور صرف یہی امید کی جا سکتی ہے کہ ایک جامع اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل کیا جائے گا تاکہ موجودہ خامیوں کو ہمیشہ کے لیے دور کیا جا سکے۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ بیرونِ ملک سے قرض لینے (بشمول دوست ممالک سے حاصل کردہ 12 ارب ڈالر سے زائد کے رول اوورز) کے مقابلے میں برآمدی آمدن ہی آمدنی کا سب سے پسندیدہ ذریعہ ہے، تاہم اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گزشتہ برسوں کے دوران غیر ملکی زرِ مبادلہ کے حصول کے ذریعے کے طور پر پاکستان کی برآمدات میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات زیادہ تر خام مال  پر مشتمل ہیں جن میں ویلیو ایڈیشن بہت کم ہے اور ٹیکسٹائل جو ملک کیلئے زرمبادلہ کمانے والا سب سے بڑا شعبہ ہے کی برآمدات میں 2014 کے بعد یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس  کا درجہ ملنے کی وجہ سے تیزی سے اضافہ ہوا تھ،۔ تاہم حالیہ بھارت-یورپی یونین فری ٹریڈ ڈیل کے بعد ان برآمدات کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ترسیلاتِ زر کی آمد اب برآمدی آمدن سے تجاوز کرگئی ہے: ستمبر 2025 میں برآمدات 2,609 ملین ڈالر تھیں، جو اکتوبر میں 2,532 ملین ڈالر، نومبر میں 2,277 ملین ڈالر اور دسمبر میں 2,751 ملین ڈالر رہیں۔ اس کے مقابلے میں درآمدات (بشمول خام مال اور نیم تیار شدہ مصنوعات) میں کہیں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>ان مہینوں کے لیے ترسیلاتِ زر کی آمد درج ذیل رہی: ستمبر 2025 میں 3,184 ملین ڈالر، اکتوبر میں 3,420 ملین ڈالر، نومبر میں 3,188 ملین ڈالر اور دسمبر میں 3,589 ملین ڈالر۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت نہ صرف برآمدات پر توجہ دے، بلکہ ویلیو ایڈیشن کے ساتھ ساتھ ترسیلاتِ زر میں مزید اضافے کی حوصلہ افزائی پر بھی توجہ مرکوز کرے۔</p>
<p>مختصر یہ کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا حکومت نے اس ریلیف پیکیج کی تفصیلات آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی ہیں یا نہیں، لیکن اگر ایسا کیا بھی گیا ہے تو اس پیکیج کا تسلسل نہ صرف ایندھن کی بین الاقوامی قیمتوں پر منحصر ہوگا (جو بجلی کے شعبے کے لیے ایک کلیدی جزو ہے) بلکہ اس کا دارومدار بجلی کے شعبے کی مجموعی کارکردگی پر بھی ہوگا۔</p>
<p>مزید برآں، موجودہ صنعتی بنیاد پر نظرِ ثانی کرنے اور ٹیکنالوجی بشمول مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیاری میں زیادہ ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282550</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Feb 2026 15:10:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/07150705fbfcee9.webp" type="image/webp" medium="image" height="550" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/07150705fbfcee9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
