<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک ازبک تجارتی تعلقات: وزیراعظم کا بزنس کمیونٹی کو نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282539/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے تاجر برادری پر زور دیا ہے کہ وہ نئے کاروباری مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں جن میں ازبکستان کی جانب سے پاکستانی تاجروں کو دی جانے والی 10 سالہ ٹیکس چھوٹ بھی شامل ہے جبکہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ پانچ برس میں باہمی تجارت کا حجم 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران پاکستان۔ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر شوکت مرزائیوف اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کے مثبت اور تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے رجحان کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان موجود سیاسی خیرسگالی کو ٹھوس معاشی اقدامات سے تقویت دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں باتوں سے آگے بڑھ کر عملی نتائج پر توجہ دینا ہوگی، گزشتہ سال تاشقند کے اپنے دورے کو دوطرفہ تجارت کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا اور بتایا کہ اس وقت باہمی تجارتی حجم سالانہ تقریباً 45 کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس نئے دستخط شدہ پروٹوکول کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا، جسے پانچ سالہ ایکشن پلان تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ 2 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری اداروں کے باہمی روابط (بی ٹو بی) کو مزید براہِ راست اور مؤثر بنانے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ معاشی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل 3.4 ارب ڈالر مالیت کے وہ معاہدے ہیں جن پر دونوں ممالک کے نجی شعبوں نے دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بزنس فورم خود بھی ایک نہایت اہم پلیٹ فارم ہے جو سائنس و ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت اور ٹیکسٹائل جیسے شعبوں میں معاشی اشتراک کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک میں باہمی تجارت کے مزید فروغ کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے حکومت کے معاشی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی کی شرح کو 30 فیصد سے کم کر کے سنگل ڈیجٹ پر لائے ہیں،پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی ہوئی ہے،2023ء میں اقتصادی حالت خراب تھی، معاشی چیلنجز پر کامیابی سے قابو پایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کے آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال 18 فیصد اضافے کے ساتھ برآمدات 3.8 ارب ڈالر ممکن ہوئیں،ازبکستان کے صدر اس سلسلے میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں، ان کی قابلیت، وژن اور غیرمتزلزل عزم سے استفادہ چاہتے ہیں، ان کی قیادت میں ازبکستان کی مجموعی پیداوار گزشتہ دس سال میں دو گنا ہوئی،ازبک قیادت نے 85 لاکھ افراد کو غربت سے نکالا، بیروزگاری میں کمی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے بتایا کہ دورے کے دوران قدرتی وسائل، صحت، ٹرانسپورٹ اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا،ازبکستان میں چاول اور آلو کی مانگ کو پورا کیا جائے گا، چمڑے کی مصنوعات، مائنز اینڈ منرلز، حلال گوشت سمیت پاکستان کئی اشیاء برآمد کر سکتا ہے،پاکستان کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان ازبکستان میں پلانٹس لگانے کے خواہاں ہیں، ٹیکسٹائل پلانٹس سے دونوں ممالک کو معاشی فائدہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے بھرپور ملک ہے، ازبکستان اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے،ہم ازبک کمپنیوں کو سرمایہ کاری کا محفوظ اور پرکشش ماحول فراہم کریں گے،ازبک تاجر تجارتی تجاویز لائیں، بیورو کریسی کسی قسم کی رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گی،کاروبار کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا اور کاروبار کو سرخ فیتے کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لئے پی آئی اے پروازیں بڑھائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ سال تاشقند میں وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے مثبت اثرات کا اعتراف کیا، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تجارت کا موجودہ حجم اگرچہ حوصلہ افزا ہے، لیکن اب بھی ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا، ”بزنس کمیونٹی وہ سب سے اہم پل ہے جو ہمارے دونوں ممالک کو جوڑتی ہے۔ بحیثیت رہنما یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کامیابی کے لیے سازگار حالات پیدا کریں،“ اور انہوں نے بزنس کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ازبک حکومت اور عوام پاکستان سے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، دونوں ممالک کے سرمایہ کار اور تاجر ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہو رہے ہیں، بزنس فورم اور دورے سے دونوں ممالک میں تجارتی تعاون کو وسعت ملے گی۔ انہوں نے طے پانے والے باہمی سمجھوتوں پر موثر عملدرآمد کے لئے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ازبکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے لئے سازگار ماحول دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ ازبکستان آئیں اور مارکیٹ کا جائزہ لیں، دونوں ممالک کے سرمایہ کار مل کر کام کریں تو عالمی مارکیٹ میں اپنا مقام پیدا کر سکتے ہیں۔ ازبکستان کے صدر نے کہا کہ پاکستان کو آلات جراحی اور ادویات کی تیاری میں تعاون فراہم کریں گے، ٹیکسٹائل میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستانی تاجروں کے لئے 10 سال کے لئے ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بھرپور تعاون کے لئے تیار ہیں، 2026ء باہمی تعاون پر مبنی شراکت داری کے فروغ کا سال ہوگا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین پروازیں بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔ ازبکستان کے صدر نے پروفیسر اور ڈاکٹر کا ٹائٹل دینے پر بھی شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام اور دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کی ممتاز شخصیات بھی موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران قدرتی وسائل، صحت، نقل و حمل (ٹرانسپورٹ) اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ پاکستان ازبکستان کو چاول اور آلو فراہم کرے گا جبکہ چرمی مصنوعات (لیدر)، معدنیات اور حلال گوشت بھی برآمد کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان ازبکستان میں مینوفیکچرنگ پلانٹس لگانے پر بھی غور کر رہے ہیں، جس سے دونوں معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ان معاہدوں میں ٹیکسٹائل کی تیاری، تاشقند لیدر زون، کان کنی، اور زراعت، لائیو اسٹاک اور صحت کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مضبوط ہوتے یہ تعلقات دونوں ممالک کے لیے ایک روشن مستقبل کی نوید ہیں، جہاں دونوں اطراف تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے تاجر برادری پر زور دیا ہے کہ وہ نئے کاروباری مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں جن میں ازبکستان کی جانب سے پاکستانی تاجروں کو دی جانے والی 10 سالہ ٹیکس چھوٹ بھی شامل ہے جبکہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ پانچ برس میں باہمی تجارت کا حجم 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔</strong></p>
<p>اپنے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران پاکستان۔ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر شوکت مرزائیوف اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کے مثبت اور تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے رجحان کو اجاگر کیا۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان موجود سیاسی خیرسگالی کو ٹھوس معاشی اقدامات سے تقویت دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں باتوں سے آگے بڑھ کر عملی نتائج پر توجہ دینا ہوگی، گزشتہ سال تاشقند کے اپنے دورے کو دوطرفہ تجارت کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا اور بتایا کہ اس وقت باہمی تجارتی حجم سالانہ تقریباً 45 کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس نئے دستخط شدہ پروٹوکول کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا، جسے پانچ سالہ ایکشن پلان تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ 2 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری اداروں کے باہمی روابط (بی ٹو بی) کو مزید براہِ راست اور مؤثر بنانے میں مدد دے گا۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ معاشی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل 3.4 ارب ڈالر مالیت کے وہ معاہدے ہیں جن پر دونوں ممالک کے نجی شعبوں نے دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بزنس فورم خود بھی ایک نہایت اہم پلیٹ فارم ہے جو سائنس و ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت اور ٹیکسٹائل جیسے شعبوں میں معاشی اشتراک کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک میں باہمی تجارت کے مزید فروغ کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے حکومت کے معاشی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی کی شرح کو 30 فیصد سے کم کر کے سنگل ڈیجٹ پر لائے ہیں،پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی ہوئی ہے،2023ء میں اقتصادی حالت خراب تھی، معاشی چیلنجز پر کامیابی سے قابو پایا ہے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کے آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال 18 فیصد اضافے کے ساتھ برآمدات 3.8 ارب ڈالر ممکن ہوئیں،ازبکستان کے صدر اس سلسلے میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں، ان کی قابلیت، وژن اور غیرمتزلزل عزم سے استفادہ چاہتے ہیں، ان کی قیادت میں ازبکستان کی مجموعی پیداوار گزشتہ دس سال میں دو گنا ہوئی،ازبک قیادت نے 85 لاکھ افراد کو غربت سے نکالا، بیروزگاری میں کمی کی۔</p>
<p>وزیراعظم نے بتایا کہ دورے کے دوران قدرتی وسائل، صحت، ٹرانسپورٹ اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا،ازبکستان میں چاول اور آلو کی مانگ کو پورا کیا جائے گا، چمڑے کی مصنوعات، مائنز اینڈ منرلز، حلال گوشت سمیت پاکستان کئی اشیاء برآمد کر سکتا ہے،پاکستان کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان ازبکستان میں پلانٹس لگانے کے خواہاں ہیں، ٹیکسٹائل پلانٹس سے دونوں ممالک کو معاشی فائدہ ہوگا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے بھرپور ملک ہے، ازبکستان اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے،ہم ازبک کمپنیوں کو سرمایہ کاری کا محفوظ اور پرکشش ماحول فراہم کریں گے،ازبک تاجر تجارتی تجاویز لائیں، بیورو کریسی کسی قسم کی رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گی،کاروبار کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا اور کاروبار کو سرخ فیتے کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لئے پی آئی اے پروازیں بڑھائے گی۔</p>
<p>ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ سال تاشقند میں وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے مثبت اثرات کا اعتراف کیا، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تجارت کا موجودہ حجم اگرچہ حوصلہ افزا ہے، لیکن اب بھی ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا، ”بزنس کمیونٹی وہ سب سے اہم پل ہے جو ہمارے دونوں ممالک کو جوڑتی ہے۔ بحیثیت رہنما یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کامیابی کے لیے سازگار حالات پیدا کریں،“ اور انہوں نے بزنس کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔<br></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ازبک حکومت اور عوام پاکستان سے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، دونوں ممالک کے سرمایہ کار اور تاجر ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہو رہے ہیں، بزنس فورم اور دورے سے دونوں ممالک میں تجارتی تعاون کو وسعت ملے گی۔ انہوں نے طے پانے والے باہمی سمجھوتوں پر موثر عملدرآمد کے لئے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ازبکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے لئے سازگار ماحول دستیاب ہے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ ازبکستان آئیں اور مارکیٹ کا جائزہ لیں، دونوں ممالک کے سرمایہ کار مل کر کام کریں تو عالمی مارکیٹ میں اپنا مقام پیدا کر سکتے ہیں۔ ازبکستان کے صدر نے کہا کہ پاکستان کو آلات جراحی اور ادویات کی تیاری میں تعاون فراہم کریں گے، ٹیکسٹائل میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے پاکستانی تاجروں کے لئے 10 سال کے لئے ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بھرپور تعاون کے لئے تیار ہیں، 2026ء باہمی تعاون پر مبنی شراکت داری کے فروغ کا سال ہوگا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین پروازیں بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔ ازبکستان کے صدر نے پروفیسر اور ڈاکٹر کا ٹائٹل دینے پر بھی شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>اس موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام اور دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کی ممتاز شخصیات بھی موجود تھیں۔</p>
<p>دورے کے دوران قدرتی وسائل، صحت، نقل و حمل (ٹرانسپورٹ) اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ پاکستان ازبکستان کو چاول اور آلو فراہم کرے گا جبکہ چرمی مصنوعات (لیدر)، معدنیات اور حلال گوشت بھی برآمد کیے جائیں گے۔</p>
<p>پاکستانی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان ازبکستان میں مینوفیکچرنگ پلانٹس لگانے پر بھی غور کر رہے ہیں، جس سے دونوں معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ان معاہدوں میں ٹیکسٹائل کی تیاری، تاشقند لیدر زون، کان کنی، اور زراعت، لائیو اسٹاک اور صحت کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔</p>
<p>پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مضبوط ہوتے یہ تعلقات دونوں ممالک کے لیے ایک روشن مستقبل کی نوید ہیں، جہاں دونوں اطراف تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p><br>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282539</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Feb 2026 10:36:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/071032179b3cc95.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/071032179b3cc95.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
