<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 2026 : اسٹیٹ بینک نے ترسیلات زر کے متوقع ہدف میں اضافہ کر دیا، 42 ارب ڈالر کا نیا تخمینہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282536/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک  کے گورنر جمیل احمد نے جاری مالی سال 2025-26 کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے مجموعی تخمینے کو بڑھا کر 42 ارب ڈالر کر دیا ہے۔ انہیں توقع ہے کہ مارچ سے جون 2026 کے درمیان آنے والی دو عیدوں کے موقع پر یہ ترسیلات نئی بلندیوں کو چھو لیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو کراچی میں مرکزی بینک کے ہیڈ آفس میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے جمیل احمد نے توقع ظاہر کی کہ زیرِ جائزہ سال کے دوران ترسیلاتِ زر 42 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی، جبکہ جنوری 2026 میں مرکزی بینک کا تخمینہ تقریباً 41 ارب ڈالر تھا۔ اس اضافے کی وجہ یہ ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے مہینوں میں اپنے اہلخانہ اور دوستوں کو بڑی رقوم بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ رواں مالی سال میں دو عیدیں آ رہی ہیں اس لیے ہم زیادہ ترسیلاتِ زر کی توقع کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی رجحانات بتاتے ہیں کہ عید کے مہینوں میں ترسیلاتِ زر عروج پر ہوتی ہیں۔ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق  مارچ 2025 میں جب عید الفطر آئی تھی تو ترسیلاتِ زر 4.05 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ مالی سال 2025 میں ترسیلاتِ زر 26 فیصد اضافے کے ساتھ 38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر رہیں، جبکہ مالی سال 2024 میں یہ حجم 30.3 ارب ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمیل احمد نے مزید بتایا کہ پاکستان کے ڈیجیٹل پیمنٹ انفرااسٹرکچر کو عرب دنیا کے ’بُنا‘ پلیٹ فارم (جو کثیر کرنسیوں میں سرحد پار ادائیگی کا نظام ہے) کے ساتھ منسلک کرنے کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا اس کا جلد آغاز کر دیا جائے گا، جس سے عرب ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے رقوم کی تیزی سے منتقلی ممکن ہو سکے گی اور ترسیلاتِ زر میں مزید اضافے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی اپنے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو منسلک کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ 70 فیصد سے زائد پاکستانی تارکینِ وطن انھی ممالک میں رہتے ہیں اور سب سے زیادہ ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="برآمدات-کا-منظرنامہ-بہتری-کے-باوجود-رجحان-منفی" href="#برآمدات-کا-منظرنامہ-بہتری-کے-باوجود-رجحان-منفی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;برآمدات کا منظرنامہ: بہتری کے باوجود رجحان منفی&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے سربراہ نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے برآمدات کے حوالے سے بھی اپنے تخمینے میں بہتری کی ہے اور توقع ہے کہ یہ جنوری 2026 میں لگائے گئے 6 فیصد کمی کے تخمینے سے بہتر رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات میں یہ بہتری وزیراعظم کی جانب سے حال ہی میں برآمد کنندگان کے لیے اعلان کردہ پیکیج کے نتیجے میں متوقع ہے۔ گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم میں 3 فیصد کمی (7.5 فیصد سے کم کر کے 4.5 فیصد)، بجلی کے نرخوں میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی اور صنعت کے لیے بجلی کے وہیئلنگ چارجز 9 روپے فی یونٹ سے کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمیل احمد نے کہا اس پیکیج سے مالی سال 2026 میں چاول کی برآمدات میں بہتری متوقع ہے۔ چاول کی برآمدات رواں مالی سال کے دوران 2 ارب ڈالر سے زائد رہنے کی امید ہے، جبکہ پیکیج سے قبل ہمارا تخمینہ 2 ارب ڈالر تھا۔انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال چاول کی برآمدات 3.3 سے 3.4 ارب ڈالر کے لگ بھگ تھیں، جس کی بڑی وجہ بھارت کی جانب سے چاول کی برآمد پر پابندی تھی جس کا فائدہ پاکستانی برآمد کنندگان کو ہوا۔ تاہم بھارت اس سال دوبارہ عالمی مارکیٹ میں واپس آ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک  کے گورنر جمیل احمد نے جاری مالی سال 2025-26 کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے مجموعی تخمینے کو بڑھا کر 42 ارب ڈالر کر دیا ہے۔ انہیں توقع ہے کہ مارچ سے جون 2026 کے درمیان آنے والی دو عیدوں کے موقع پر یہ ترسیلات نئی بلندیوں کو چھو لیں گی۔</strong></p>
<p>جمعہ کو کراچی میں مرکزی بینک کے ہیڈ آفس میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے جمیل احمد نے توقع ظاہر کی کہ زیرِ جائزہ سال کے دوران ترسیلاتِ زر 42 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی، جبکہ جنوری 2026 میں مرکزی بینک کا تخمینہ تقریباً 41 ارب ڈالر تھا۔ اس اضافے کی وجہ یہ ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے مہینوں میں اپنے اہلخانہ اور دوستوں کو بڑی رقوم بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ رواں مالی سال میں دو عیدیں آ رہی ہیں اس لیے ہم زیادہ ترسیلاتِ زر کی توقع کر سکتے ہیں۔</p>
<p>تاریخی رجحانات بتاتے ہیں کہ عید کے مہینوں میں ترسیلاتِ زر عروج پر ہوتی ہیں۔ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق  مارچ 2025 میں جب عید الفطر آئی تھی تو ترسیلاتِ زر 4.05 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ مالی سال 2025 میں ترسیلاتِ زر 26 فیصد اضافے کے ساتھ 38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر رہیں، جبکہ مالی سال 2024 میں یہ حجم 30.3 ارب ڈالر تھا۔</p>
<p>جمیل احمد نے مزید بتایا کہ پاکستان کے ڈیجیٹل پیمنٹ انفرااسٹرکچر کو عرب دنیا کے ’بُنا‘ پلیٹ فارم (جو کثیر کرنسیوں میں سرحد پار ادائیگی کا نظام ہے) کے ساتھ منسلک کرنے کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا اس کا جلد آغاز کر دیا جائے گا، جس سے عرب ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے رقوم کی تیزی سے منتقلی ممکن ہو سکے گی اور ترسیلاتِ زر میں مزید اضافے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی اپنے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو منسلک کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ 70 فیصد سے زائد پاکستانی تارکینِ وطن انھی ممالک میں رہتے ہیں اور سب سے زیادہ ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں۔</p>
<h3><a id="برآمدات-کا-منظرنامہ-بہتری-کے-باوجود-رجحان-منفی" href="#برآمدات-کا-منظرنامہ-بہتری-کے-باوجود-رجحان-منفی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>برآمدات کا منظرنامہ: بہتری کے باوجود رجحان منفی</strong></h3>
<p>مرکزی بینک کے سربراہ نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے برآمدات کے حوالے سے بھی اپنے تخمینے میں بہتری کی ہے اور توقع ہے کہ یہ جنوری 2026 میں لگائے گئے 6 فیصد کمی کے تخمینے سے بہتر رہیں گی۔</p>
<p>برآمدات میں یہ بہتری وزیراعظم کی جانب سے حال ہی میں برآمد کنندگان کے لیے اعلان کردہ پیکیج کے نتیجے میں متوقع ہے۔ گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم میں 3 فیصد کمی (7.5 فیصد سے کم کر کے 4.5 فیصد)، بجلی کے نرخوں میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی اور صنعت کے لیے بجلی کے وہیئلنگ چارجز 9 روپے فی یونٹ سے کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>جمیل احمد نے کہا اس پیکیج سے مالی سال 2026 میں چاول کی برآمدات میں بہتری متوقع ہے۔ چاول کی برآمدات رواں مالی سال کے دوران 2 ارب ڈالر سے زائد رہنے کی امید ہے، جبکہ پیکیج سے قبل ہمارا تخمینہ 2 ارب ڈالر تھا۔انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال چاول کی برآمدات 3.3 سے 3.4 ارب ڈالر کے لگ بھگ تھیں، جس کی بڑی وجہ بھارت کی جانب سے چاول کی برآمد پر پابندی تھی جس کا فائدہ پاکستانی برآمد کنندگان کو ہوا۔ تاہم بھارت اس سال دوبارہ عالمی مارکیٹ میں واپس آ چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282536</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Feb 2026 20:44:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/06203607d4fd0f7.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/06203607d4fd0f7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
