<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی معیشت آئندہ دو سال تک استحکام کے مرحلے میں رہے گی، گورنر اسٹیٹ بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282533/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے  کہا ہے کہ ملکی معیشت اگلے دو سالوں تک بحالی اور استحکام کے مرحلے میں رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس دوران ایسی بلند شرحِ نمو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی جو موجودہ حالات میں برقرار نہ رکھی جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی معیشت اور مستقبل کے منظر نامے پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مرکزی بینک کے سربراہ نے کہا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی پالیسیاں اور اقدامات اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا موجودہ قرض پروگرام پاکستان کے لیے آخری ثابت ہوگا یا نہیں۔ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی(ای ایف ایف) کے تحت جاری 7 ارب ڈالر کا موجودہ آئی ایم ایف پروگرام ستمبر،اکتوبر 2027 میں ختم ہوگا۔ یاد رہے کہ 1958 سے اب تک گزشتہ سات دہائیوں میں پاکستان کا یہ 24واں آئی ایم ایف پروگرام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر جمیل احمد نے موقف اختیار کیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران ملکی معیشت مستحکم رہی ہے اور اس میں بتدریج بہتری آئی ہے، جو مستقبل میں پائیدار ترقی کے حصول کی راہ ہموار کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمیل احمد نے کہا کہ ہم جو کچھ بھی کریں گے، اس  استحکام کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے کریں گے۔ ہم اگلے دو سال تک اس رفتار کو برقرار رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا مستقبل میں ادائیگیوں کے توازن  کا کوئی مسئلہ پیدا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ درآمدی بل میں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باوجود موجودہ مالی سال بہتر حالت میں ختم ہوگا۔ غیر ملکی قرضوں کی واپسی بروقت متوقع ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی پیش گوئی ہے اور رواں مالی سال  میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی قابو میں رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے تخمینے کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کی حد میں رہے گا۔ جمیل احمد نے کہا میری ذاتی رائے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے نصف فیصد (0.5 فیصد) کے آس پاس رہے گا۔ مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رہنے کی توقع ہے، جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر  میں اضافے کا امکان ہے، جو مالی سال 2025 کے 38.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 42 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل جنوری 2026 میں جمیل احمد نے کہا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر دسمبر 2026 کے آخر تک 20.20 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھو لیں گے، جو اس وقت 16.2 ارب ڈالر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک نے یاد دلایا کہ مالی سال 2021-22 میں مرکزی بینک نے مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انٹربینک مارکیٹ میں 8 ارب ڈالر فروخت کیے تھے، جس سے اس وقت کی غیر پائیدار شرحِ نمو کو سہارا دینے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر کا بڑا حصہ ضائع ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں مالی سال 2022 میں جی ڈی پی کا 4.7 فیصد (یا 17.6 ارب ڈالر) کا ریکارڈ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہوا، جس نے حکومت اور اسٹیٹ بینک کو معیشت درست کرنے کے لیے سخت اقدامات پر مجبور کیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں درآمدات کو کنٹرول کیا گیا اور مئی 2023 میں مہنگائی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح یعنی 38 فیصد تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قوم دوبارہ 6 فیصد کی بلند شرحِ نمو حاصل کر سکتی ہے، تاہم موجودہ حالات و واقعات میں اسے برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ مرکزی بینک کے سربراہ نے عزم ظاہر کیا کہ  ہم ماضی کی غلطیاں (غیر پائیدار ترقی کے لیے ذخائر کا استعمال) دہرانے سے گریز کریں گے، بلکہ بتدریج اور پائیداری کے ساتھ بلند شرحِ نمو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے  کہا ہے کہ ملکی معیشت اگلے دو سالوں تک بحالی اور استحکام کے مرحلے میں رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس دوران ایسی بلند شرحِ نمو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی جو موجودہ حالات میں برقرار نہ رکھی جا سکے۔</strong></p>
<p>ملکی معیشت اور مستقبل کے منظر نامے پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مرکزی بینک کے سربراہ نے کہا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی پالیسیاں اور اقدامات اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا موجودہ قرض پروگرام پاکستان کے لیے آخری ثابت ہوگا یا نہیں۔ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی(ای ایف ایف) کے تحت جاری 7 ارب ڈالر کا موجودہ آئی ایم ایف پروگرام ستمبر،اکتوبر 2027 میں ختم ہوگا۔ یاد رہے کہ 1958 سے اب تک گزشتہ سات دہائیوں میں پاکستان کا یہ 24واں آئی ایم ایف پروگرام ہے۔</p>
<p>گورنر جمیل احمد نے موقف اختیار کیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران ملکی معیشت مستحکم رہی ہے اور اس میں بتدریج بہتری آئی ہے، جو مستقبل میں پائیدار ترقی کے حصول کی راہ ہموار کر رہی ہے۔</p>
<p>جمیل احمد نے کہا کہ ہم جو کچھ بھی کریں گے، اس  استحکام کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے کریں گے۔ ہم اگلے دو سال تک اس رفتار کو برقرار رکھیں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا مستقبل میں ادائیگیوں کے توازن  کا کوئی مسئلہ پیدا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ درآمدی بل میں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باوجود موجودہ مالی سال بہتر حالت میں ختم ہوگا۔ غیر ملکی قرضوں کی واپسی بروقت متوقع ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی پیش گوئی ہے اور رواں مالی سال  میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی قابو میں رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے تخمینے کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کی حد میں رہے گا۔ جمیل احمد نے کہا میری ذاتی رائے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے نصف فیصد (0.5 فیصد) کے آس پاس رہے گا۔ مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رہنے کی توقع ہے، جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر  میں اضافے کا امکان ہے، جو مالی سال 2025 کے 38.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 42 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا۔</p>
<p>اس سے قبل جنوری 2026 میں جمیل احمد نے کہا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر دسمبر 2026 کے آخر تک 20.20 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھو لیں گے، جو اس وقت 16.2 ارب ڈالر ہیں۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک نے یاد دلایا کہ مالی سال 2021-22 میں مرکزی بینک نے مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انٹربینک مارکیٹ میں 8 ارب ڈالر فروخت کیے تھے، جس سے اس وقت کی غیر پائیدار شرحِ نمو کو سہارا دینے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر کا بڑا حصہ ضائع ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں مالی سال 2022 میں جی ڈی پی کا 4.7 فیصد (یا 17.6 ارب ڈالر) کا ریکارڈ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہوا، جس نے حکومت اور اسٹیٹ بینک کو معیشت درست کرنے کے لیے سخت اقدامات پر مجبور کیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں درآمدات کو کنٹرول کیا گیا اور مئی 2023 میں مہنگائی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح یعنی 38 فیصد تک پہنچ گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ قوم دوبارہ 6 فیصد کی بلند شرحِ نمو حاصل کر سکتی ہے، تاہم موجودہ حالات و واقعات میں اسے برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ مرکزی بینک کے سربراہ نے عزم ظاہر کیا کہ  ہم ماضی کی غلطیاں (غیر پائیدار ترقی کے لیے ذخائر کا استعمال) دہرانے سے گریز کریں گے، بلکہ بتدریج اور پائیداری کے ساتھ بلند شرحِ نمو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282533</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Feb 2026 20:05:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/06195657e2a8281.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/06195657e2a8281.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
