<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقامی مینوفیکچرنگ سے گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑی کمی ممکن، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282530/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آٹو موٹیو انڈسٹری کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لا کر انہیں ملک کے سب سے بڑے طبقے یعنی متوسط طبقے (مڈل کلاس) کی پہنچ میں لاسکتا ہے، بشرطیکہ ملک میں صرف اسمبلنگ کے بجائے آٹو انجن، ٹرانسمیشن اور سسپنشن سسٹم سمیت انجینئرنگ پرزہ جات کی باقاعدہ مقامی سطح پر تیاری کی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے آٹو ماہر عثمان انصاری نے کہا کہ انجینئرنگ آئٹمز، پرزہ جات اور پرزوں کی مضبوط اور مؤثر مقامی تیاری گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، کیونکہ اس صورت میں ڈالر یا روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا مقامی طور پر تیار کی گئی گاڑیوں کی لاگت پر نمایاں اثر نہیں پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گاڑیاں اسمبل اور تیار کرنے والی کمپنیوں کو سو فیصد لوکلائزیشن کا ہدف حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ ملک میں آٹو انڈسٹری کو قائم ہوئے 30 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گاڑیوں کی بڑھتی قیمتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے آٹو انڈسٹری سے وابستہ زین شارق نے کہا کہ وہ گاڑیاں جن میں منافع کم لیکن فروخت کا حجم زیادہ ہوتا ہے (یعنی سستی اور عوامی گاڑیاں)، وہ شعبہ پاکستان میں بہت کمزور ہے۔ ایک اوسط پاکستانی کو بہت اعلیٰ معیار کی ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں، اسے صرف اپنے خاندان کے لیے ایک مناسب سواری چاہیے۔ بدقسمتی سے کمپنیاں بڑی گاڑیوں سے کم اوورہیڈ پر زیادہ منافع کما لیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زین شارق نے زور دیتے ہوئے کہا پاکستان کی آٹو مارکیٹ باصلاحیت اور دور اندیش کاروباری افراد کے لیے مواقع سے بھری ہوئی ہے لیکن اس میں کامیابی کے لیے اعلیٰ انتظامیہ کی ذاتی سطح پر سنجیدہ وابستگی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ درآمدی سامان کی قیمتوں میں روپے کی قدر میں کمی اور سپلائی چین کے خطرات کی وجہ سے ہمیشہ اضافے کا خدشہ رہے گا۔ مثال کے طور پر قیمتوں میں حقیقی کمی لانے کے لیے انجن اور ٹرانسمیشن کی مقامی تیاری ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے مارکیٹ اس قابل ہو جاتی ہے کہ وہ فنانسنگ (مالیاتی فراہمی) کا رسک لے سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ہمیں مغرب کی طرف دیکھنا چاہیے اور وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ مغرب میں بھی گاڑیوں کی فروخت تیزی سے گر رہی ہے اور آٹو لون ڈیفالٹ (قرضوں کی عدم ادائیگی) کی شرح اب تک کی بلند ترین سطح پر ہے۔ قرض یا سبسڈی پر مبنی بوم طویل مدت میں پائیدار نہیں ہوتا۔ پاکستان میں جب ہم کہتے ہیں کہ گاڑیوں کی فروخت بڑھ رہی ہے، تب بھی ہماری آبادی کے مقابلے میں یہ فروخت نسبتاً بہت کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شارق نے وضاحت کی کہ قیمتیں مارکیٹ فورسز کی وجہ سے کم ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جب مارکیٹ خریداروں کی ہو [یعنی سپلائی زیادہ اور خریدار کم ہوں]، تو فراہم کنندگان قیمتیں کم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اب جا کر کہیں بائرز مارکیٹ کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں نئے ماڈلز اور نیا مقابلہ سامنے آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم اس کے اثرات مارکیٹ میں قیمتوں میں ہونے والی ان تاریخی کمیوں کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں، اور ساتھ ہی نئے ماڈلز بھی حیران کن قیمتوں پر متعارف کروائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شارق نے مزید کہا کہ گزشتہ آٹو پالیسی اس مقصد کے تحت بنائی گئی تھی کہ نئے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مقامی مارکیٹ میں حقیقی مقابلہ پیدا کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے ثمرات اب ظاہر ہونا شروع ہوئے ہیں۔ آٹو پالیسی میں اس وقت بہت زیادہ ردو بدل کرنا ایک غلطی ہوگی جب کہ پچھلی پالیسی کے مکمل اثرات ابھی محسوس ہونا باقی ہیں۔ کسی بھی پالیسی کے پختہ ہونے میں وقت لگتا ہے اور قلیل مدتی مداخلت مارکیٹ اور پالیسیوں کے غیر یقینی ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو موبائل ماہر شفیق احمد شیخ کا کہنا تھا کہ ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز ہمیشہ یہ تجویز دیتے ہیں کہ پاکستان میں گاڑی کی قیمت کا ایک بڑا حصہ ٹیکسز پر مشتمل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تمام کیٹیگریز میں معقول ٹیکس ریلیف دینے سے مزید برانڈز متوجہ ہوں گے، اب صارفین کے لیے بہترین فیچرز کے ساتھ سستی گاڑیاں لانے کیلئے تمام الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) پر مزید مراعات اور ٹیکسوں میں کمی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیپ لوکلائزیشن (گہری مقامی تیاری) کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اہم پرزہ جات جیسے کہ مکمل انجن کی مقامی سطح پر تیاری، گاڑیوں کی ڈیزائننگ اور دیگر امور کو ملک کے اندر منتقل کرنے سے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی، کیونکہ اس سے قیمتیں روپے کی قدر میں کمی کے اثرات سے محفوظ ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے کمرشل استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بحث و مباحثہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شفیق احمد شیخ کا کہنا تھا کہ بنیادی صنعتوں کی بحالی کہیں زیادہ مفید ثابت ہوگی، کیونکہ پاکستان اسٹیل ملزیا ملک کی دیگر مقامی اسٹیل ملوں کے وسائل کو خام مال کی فراہمی کے لیے استعمال کرنے سے پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آٹو موٹیو انڈسٹری کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لا کر انہیں ملک کے سب سے بڑے طبقے یعنی متوسط طبقے (مڈل کلاس) کی پہنچ میں لاسکتا ہے، بشرطیکہ ملک میں صرف اسمبلنگ کے بجائے آٹو انجن، ٹرانسمیشن اور سسپنشن سسٹم سمیت انجینئرنگ پرزہ جات کی باقاعدہ مقامی سطح پر تیاری کی جائے۔</strong></p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے آٹو ماہر عثمان انصاری نے کہا کہ انجینئرنگ آئٹمز، پرزہ جات اور پرزوں کی مضبوط اور مؤثر مقامی تیاری گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، کیونکہ اس صورت میں ڈالر یا روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا مقامی طور پر تیار کی گئی گاڑیوں کی لاگت پر نمایاں اثر نہیں پڑے گا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گاڑیاں اسمبل اور تیار کرنے والی کمپنیوں کو سو فیصد لوکلائزیشن کا ہدف حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ ملک میں آٹو انڈسٹری کو قائم ہوئے 30 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔</p>
<p>گاڑیوں کی بڑھتی قیمتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے آٹو انڈسٹری سے وابستہ زین شارق نے کہا کہ وہ گاڑیاں جن میں منافع کم لیکن فروخت کا حجم زیادہ ہوتا ہے (یعنی سستی اور عوامی گاڑیاں)، وہ شعبہ پاکستان میں بہت کمزور ہے۔ ایک اوسط پاکستانی کو بہت اعلیٰ معیار کی ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں، اسے صرف اپنے خاندان کے لیے ایک مناسب سواری چاہیے۔ بدقسمتی سے کمپنیاں بڑی گاڑیوں سے کم اوورہیڈ پر زیادہ منافع کما لیتی ہیں۔</p>
<p>زین شارق نے زور دیتے ہوئے کہا پاکستان کی آٹو مارکیٹ باصلاحیت اور دور اندیش کاروباری افراد کے لیے مواقع سے بھری ہوئی ہے لیکن اس میں کامیابی کے لیے اعلیٰ انتظامیہ کی ذاتی سطح پر سنجیدہ وابستگی ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ درآمدی سامان کی قیمتوں میں روپے کی قدر میں کمی اور سپلائی چین کے خطرات کی وجہ سے ہمیشہ اضافے کا خدشہ رہے گا۔ مثال کے طور پر قیمتوں میں حقیقی کمی لانے کے لیے انجن اور ٹرانسمیشن کی مقامی تیاری ناگزیر ہے۔</p>
<p>اس سے مارکیٹ اس قابل ہو جاتی ہے کہ وہ فنانسنگ (مالیاتی فراہمی) کا رسک لے سکے۔</p>
<p>تاہم ہمیں مغرب کی طرف دیکھنا چاہیے اور وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ مغرب میں بھی گاڑیوں کی فروخت تیزی سے گر رہی ہے اور آٹو لون ڈیفالٹ (قرضوں کی عدم ادائیگی) کی شرح اب تک کی بلند ترین سطح پر ہے۔ قرض یا سبسڈی پر مبنی بوم طویل مدت میں پائیدار نہیں ہوتا۔ پاکستان میں جب ہم کہتے ہیں کہ گاڑیوں کی فروخت بڑھ رہی ہے، تب بھی ہماری آبادی کے مقابلے میں یہ فروخت نسبتاً بہت کم ہے۔</p>
<p>شارق نے وضاحت کی کہ قیمتیں مارکیٹ فورسز کی وجہ سے کم ہوتی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جب مارکیٹ خریداروں کی ہو [یعنی سپلائی زیادہ اور خریدار کم ہوں]، تو فراہم کنندگان قیمتیں کم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اب جا کر کہیں بائرز مارکیٹ کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں نئے ماڈلز اور نیا مقابلہ سامنے آ رہا ہے۔</p>
<p>ہم اس کے اثرات مارکیٹ میں قیمتوں میں ہونے والی ان تاریخی کمیوں کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں، اور ساتھ ہی نئے ماڈلز بھی حیران کن قیمتوں پر متعارف کروائے جا رہے ہیں۔</p>
<p>شارق نے مزید کہا کہ گزشتہ آٹو پالیسی اس مقصد کے تحت بنائی گئی تھی کہ نئے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مقامی مارکیٹ میں حقیقی مقابلہ پیدا کیا جا سکے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے ثمرات اب ظاہر ہونا شروع ہوئے ہیں۔ آٹو پالیسی میں اس وقت بہت زیادہ ردو بدل کرنا ایک غلطی ہوگی جب کہ پچھلی پالیسی کے مکمل اثرات ابھی محسوس ہونا باقی ہیں۔ کسی بھی پالیسی کے پختہ ہونے میں وقت لگتا ہے اور قلیل مدتی مداخلت مارکیٹ اور پالیسیوں کے غیر یقینی ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p>آٹو موبائل ماہر شفیق احمد شیخ کا کہنا تھا کہ ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز ہمیشہ یہ تجویز دیتے ہیں کہ پاکستان میں گاڑی کی قیمت کا ایک بڑا حصہ ٹیکسز پر مشتمل ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تمام کیٹیگریز میں معقول ٹیکس ریلیف دینے سے مزید برانڈز متوجہ ہوں گے، اب صارفین کے لیے بہترین فیچرز کے ساتھ سستی گاڑیاں لانے کیلئے تمام الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) پر مزید مراعات اور ٹیکسوں میں کمی کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ڈیپ لوکلائزیشن (گہری مقامی تیاری) کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اہم پرزہ جات جیسے کہ مکمل انجن کی مقامی سطح پر تیاری، گاڑیوں کی ڈیزائننگ اور دیگر امور کو ملک کے اندر منتقل کرنے سے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی، کیونکہ اس سے قیمتیں روپے کی قدر میں کمی کے اثرات سے محفوظ ہو جائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے کمرشل استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بحث و مباحثہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>شفیق احمد شیخ کا کہنا تھا کہ بنیادی صنعتوں کی بحالی کہیں زیادہ مفید ثابت ہوگی، کیونکہ پاکستان اسٹیل ملزیا ملک کی دیگر مقامی اسٹیل ملوں کے وسائل کو خام مال کی فراہمی کے لیے استعمال کرنے سے پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282530</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Feb 2026 16:36:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/061657404e6ad14.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/061657404e6ad14.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
