<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور ازبکستان کا 2 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کے عزم کا اعادہ، مشترکہ اعلامیہ جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282523/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دفترِ خارجہ کی جانب سے ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کے دورہ پاکستان کے نتائج پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ جمعہ کو جاری  اعلامیے کے مطابق صدر ازبکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر 5 اور 6 فروری کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف اور صدر میرضیایف کے درمیان جامع اور تفصیلی بات چیت ہوئی جس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔ مذاکرات کا مرکز دو طرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے راستے تلاش کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی میں معاشی تعلقات کی اہمیت کو نوٹ کیا اور اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ ازبکستان وسطی ایشیا کا پہلا ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ (راہداری تجارت) اور ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے ) پر دستخط کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے تجارتی و اقتصادی تعلقات اور صنعتی تعاون کو وسعت دینے کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ دونوں ممالک کی حقیقی معاشی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور عوام کی فلاح و بہبود میں بہتری آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے باہمی تجارت کے بڑھتے ہوئے حجم کا خیرمقدم کیا اور 2 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کا ذکر کرتے ہوئے اسے 2029 تک حاصل کرنے کے عزم کو دہرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کے لیے تعاون کو جامع طور پر تیار اور مضبوط کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی، تجارت، ثقافت، سیاحت اور عوامی رابطوں سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے ازبکستان اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے گزشتہ 34 سالوں میں تعاون کی سطح پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ تعلقات دوستی کے دیرینہ رشتوں اور دونوں قوموں کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور روحانی تعلقات میں مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور تعاون کو ایک ایسی نئی سطح تک لے جانے کے عزم پر زور دیا جو دونوں ممالک کے بنیادی مفادات کو آگے بڑھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے دو طرفہ تعلقات کی مثبت سمت اور بالخصوص اعلیٰ قیادت کی سطح پر بڑھتے ہوئے رابطوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے فروری 2025 میں وزیراعظم پاکستان کے دورہ ازبکستان اور اس کے بعد آذربائیجان میں ہونے والی ملاقاتوں کو یاد کیا۔ دونوں فریقوں نے فروری 2025 میں دستخط شدہ مشترکہ اعلامیے پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے فروری 2025 کے دورے کے دوران اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل  کے قیام کے فیصلے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔ یہ طریقہ کار دو طرفہ تعاون کی نگرانی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے صدرازبکستان کے دورہ پاکستان کے دوران ایچ ایل ایس سی سی کے افتتاحی اجلاس کا خیرمقدم کیا جس میں تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی، معاشی اور ثقافتی تعاون کو مضبوط بنانے میں پارلیمان کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے بین الپارلیمانی تعاون کو مزید بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے سینیٹ آف پاکستان اور ازبک پارلیمنٹ کے اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں کے مثبت نتائج کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے جوائنٹ انٹر گورنمنٹل کمیشن(آئی جی سی) کے مرکزی کردار کو سراہا اور اسلام آباد میں منعقدہ اس کے 10 ویں اجلاس کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مقررہ وقت میں اہداف کے حصول کی امید ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی انضمام اور سماجی و معاشی ترقی کے لیے  کنیکٹیویٹی  (رابطہ کاری) کی اہمیت کو نوٹ کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے ازبکستان افغانستان-پاکستان (یواے پی) ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا جو جولائی 2025 میں کابل میں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس منصوبے کی جلد تکمیل کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے منصوبے کے لیے ترمذ-خرلاچی  روٹ کی متفقہ توثیق اور فزیبلٹی اسٹڈی کی مشترکہ مالی اعانت کے معاہدے کا بھی خیرمقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریقین نے ستمبر 2024 میں ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ پر دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کا خیرمقدم کیا جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان بلا تعطل تجارت کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان نے ازبک ٹرانزٹ کارگو کے لیے اپنی بندرگاہوں اور سڑکوں کے نیٹ ورک تک رسائی فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی تعاون کے لیے دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے ملک میں معاشی یا صنعتی زونز کا مشترکہ انتظام قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے 2026 میں ازبکستان میں فورم آف ریجنز منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ رہنماؤں نے پریفرنشل ٹریڈ ایگریمنٹ(پی ٹی اے) کے دوسرے مرحلے کی تکمیل، دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے اور ادویات، ٹیکسٹائل، چمڑے، زراعت اور معدنیات کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے لیے معیارات کی باہمی پہچان پر اطمینان کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدیوں پرانی مشترکہ تہذیب اور شاہراہِ ریشم کی میراث کی بنیاد پر  پاکستان اور ازبکستان نے وسطی اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے والی ثقافتی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اردو اور ازبک کے درمیان لسانی روابط کو زندہ کرنے اور ثقافتی میلوں کے انعقاد کا عہد کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ”بابر اعظم“ کی سائنسی، تعلیمی اور تعمیراتی میراث کے تحفظ اور فروغ کے معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی شعبے میں تعاون، انسانی سرمائے کی ترقی اور جامعات کے درمیان ادارہ جاتی روابط قائم کرنے کے حوالے سے بھی مثبت بات چیت ہوئی۔ میڈیا کے شعبے میں 2022 کے براڈکاسٹنگ معاہدے پر عملدرآمد اور دستاویزی فلم  مشترک دلہا کی تیاری کو سراہا گیا۔  دونوں ممالک نے سیاحت کے شعبے میں تعاون کو ادارہ جاتی بنانے، تاشقند سے اسلام آباد اور لاہور کے لیے براہ راست پروازوں کے آغاز اور ورکنگ گروپ کی سرگرمیوں پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی اور سیکورٹی کے شعبے میں دونوں فریقوں نے باہمی تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں اور تربیتی پروگراموں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے  تین برائیوں کے ساتھ ساتھ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی فورمز پر دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کا عہد کیا۔ ازبکستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر پاکستان کے کردار کی تعریف کی، جبکہ پاکستان نے یونیسکو کانفرنس کی کامیاب میزبانی پر ازبکستان کو مبارکباد دی۔ ازبکستان نے 2026-2027 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہی کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن مذاکرات ضروری ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے فلسطین کے عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد اور 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر میرضیایف نے پاکستانی عوام کی گرمجوشی اور مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا اور وزیراعظم شہباز شریف کو ازبکستان کے دورے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دفترِ خارجہ کی جانب سے ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کے دورہ پاکستان کے نتائج پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ جمعہ کو جاری  اعلامیے کے مطابق صدر ازبکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر 5 اور 6 فروری کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔</strong></p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف اور صدر میرضیایف کے درمیان جامع اور تفصیلی بات چیت ہوئی جس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔ مذاکرات کا مرکز دو طرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے راستے تلاش کرنا تھا۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی میں معاشی تعلقات کی اہمیت کو نوٹ کیا اور اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ ازبکستان وسطی ایشیا کا پہلا ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ (راہداری تجارت) اور ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے ) پر دستخط کیے ہیں۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے تجارتی و اقتصادی تعلقات اور صنعتی تعاون کو وسعت دینے کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ دونوں ممالک کی حقیقی معاشی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور عوام کی فلاح و بہبود میں بہتری آئے۔</p>
<p>انہوں نے باہمی تجارت کے بڑھتے ہوئے حجم کا خیرمقدم کیا اور 2 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کا ذکر کرتے ہوئے اسے 2029 تک حاصل کرنے کے عزم کو دہرایا۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کے لیے تعاون کو جامع طور پر تیار اور مضبوط کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی، تجارت، ثقافت، سیاحت اور عوامی رابطوں سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے ازبکستان اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے گزشتہ 34 سالوں میں تعاون کی سطح پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ تعلقات دوستی کے دیرینہ رشتوں اور دونوں قوموں کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور روحانی تعلقات میں مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور تعاون کو ایک ایسی نئی سطح تک لے جانے کے عزم پر زور دیا جو دونوں ممالک کے بنیادی مفادات کو آگے بڑھائے۔</p>
<p>رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے دو طرفہ تعلقات کی مثبت سمت اور بالخصوص اعلیٰ قیادت کی سطح پر بڑھتے ہوئے رابطوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے فروری 2025 میں وزیراعظم پاکستان کے دورہ ازبکستان اور اس کے بعد آذربائیجان میں ہونے والی ملاقاتوں کو یاد کیا۔ دونوں فریقوں نے فروری 2025 میں دستخط شدہ مشترکہ اعلامیے پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>وزیراعظم کے فروری 2025 کے دورے کے دوران اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل  کے قیام کے فیصلے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔ یہ طریقہ کار دو طرفہ تعاون کی نگرانی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے صدرازبکستان کے دورہ پاکستان کے دوران ایچ ایل ایس سی سی کے افتتاحی اجلاس کا خیرمقدم کیا جس میں تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔</p>
<p>سیاسی، معاشی اور ثقافتی تعاون کو مضبوط بنانے میں پارلیمان کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے بین الپارلیمانی تعاون کو مزید بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے سینیٹ آف پاکستان اور ازبک پارلیمنٹ کے اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں کے مثبت نتائج کو سراہا۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے جوائنٹ انٹر گورنمنٹل کمیشن(آئی جی سی) کے مرکزی کردار کو سراہا اور اسلام آباد میں منعقدہ اس کے 10 ویں اجلاس کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مقررہ وقت میں اہداف کے حصول کی امید ظاہر کی۔</p>
<p>علاقائی انضمام اور سماجی و معاشی ترقی کے لیے  کنیکٹیویٹی  (رابطہ کاری) کی اہمیت کو نوٹ کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے ازبکستان افغانستان-پاکستان (یواے پی) ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا جو جولائی 2025 میں کابل میں ہوا تھا۔</p>
<p>انہوں نے اس منصوبے کی جلد تکمیل کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے منصوبے کے لیے ترمذ-خرلاچی  روٹ کی متفقہ توثیق اور فزیبلٹی اسٹڈی کی مشترکہ مالی اعانت کے معاہدے کا بھی خیرمقدم کیا۔</p>
<p>فریقین نے ستمبر 2024 میں ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ پر دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کا خیرمقدم کیا جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان بلا تعطل تجارت کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان نے ازبک ٹرانزٹ کارگو کے لیے اپنی بندرگاہوں اور سڑکوں کے نیٹ ورک تک رسائی فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>صنعتی تعاون کے لیے دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے ملک میں معاشی یا صنعتی زونز کا مشترکہ انتظام قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے 2026 میں ازبکستان میں فورم آف ریجنز منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ رہنماؤں نے پریفرنشل ٹریڈ ایگریمنٹ(پی ٹی اے) کے دوسرے مرحلے کی تکمیل، دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے اور ادویات، ٹیکسٹائل، چمڑے، زراعت اور معدنیات کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے لیے معیارات کی باہمی پہچان پر اطمینان کا اظہار کیا۔</p>
<p>صدیوں پرانی مشترکہ تہذیب اور شاہراہِ ریشم کی میراث کی بنیاد پر  پاکستان اور ازبکستان نے وسطی اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے والی ثقافتی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اردو اور ازبک کے درمیان لسانی روابط کو زندہ کرنے اور ثقافتی میلوں کے انعقاد کا عہد کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ”بابر اعظم“ کی سائنسی، تعلیمی اور تعمیراتی میراث کے تحفظ اور فروغ کے معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔</p>
<p>تعلیمی شعبے میں تعاون، انسانی سرمائے کی ترقی اور جامعات کے درمیان ادارہ جاتی روابط قائم کرنے کے حوالے سے بھی مثبت بات چیت ہوئی۔ میڈیا کے شعبے میں 2022 کے براڈکاسٹنگ معاہدے پر عملدرآمد اور دستاویزی فلم  مشترک دلہا کی تیاری کو سراہا گیا۔  دونوں ممالک نے سیاحت کے شعبے میں تعاون کو ادارہ جاتی بنانے، تاشقند سے اسلام آباد اور لاہور کے لیے براہ راست پروازوں کے آغاز اور ورکنگ گروپ کی سرگرمیوں پر اتفاق کیا۔</p>
<p>دفاعی اور سیکورٹی کے شعبے میں دونوں فریقوں نے باہمی تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں اور تربیتی پروگراموں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے  تین برائیوں کے ساتھ ساتھ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔</p>
<p>عالمی فورمز پر دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کا عہد کیا۔ ازبکستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر پاکستان کے کردار کی تعریف کی، جبکہ پاکستان نے یونیسکو کانفرنس کی کامیاب میزبانی پر ازبکستان کو مبارکباد دی۔ ازبکستان نے 2026-2027 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہی کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔</p>
<p>علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن مذاکرات ضروری ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے فلسطین کے عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد اور 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔</p>
<p>صدر میرضیایف نے پاکستانی عوام کی گرمجوشی اور مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا اور وزیراعظم شہباز شریف کو ازبکستان کے دورے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282523</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Feb 2026 15:19:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/061505127aa57c3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/061505127aa57c3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
