<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ: وسیع پیمانے پر فروخت کے باعث 100 انڈیکس تقریباً 2 فیصد گر گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282509/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو شدید فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک  کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 2 فیصد کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں دن بھر زیادہ تر شیئرز فروخت کرنے والوں کا غلبہ رہا، جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران کم ترین سطح 183,547.29 پوائنٹس تک گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 184,129.58 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 3,702.50 پوائنٹس یا 1.97 فیصد کی کمی ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکورٹیز کی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ کے مطابق مارکیٹ پر یہ دباؤ بیرک مائننگ کارپوریشن کے اس بیان کے باعث آیا کہ ریکو ڈیک کاپرگولڈ پروجیکٹ چوتھی سہ ماہی میں ابتدائی کاموں میں ہے، تاہم حالیہ سیکورٹی واقعات میں اضافے کے پیش نظر مینجمنٹ پروجیکٹ کے تمام پہلوؤں کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ”اس خبر کے تناظر میں انڈیکس کے ہیوی ویٹس – او جی ڈی سی اور پی پی ایل کی قیمتیں بالترتیب 2.3 فیصد اور 5 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوئیں اور مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس پر منفی 489 پوائنٹس کا اثر ڈالا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری سیکٹر میں این بی پی پی اے کی قیمت میں بھی کمی ہوئی ( ڈی او ڈی بنیاد پر -8 فیصد)، جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس پر 406 پوائنٹس کا منفی اثر پڑا، کیونکہ 13 فروری کو پنشن کیس سے متعلق عدالت کی سماعت نے سرمایہ کاروں کے رجحان پر منفی اثر ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق تجارتی سرگرمی میں سب سے زیادہ حصہ  اوجی ڈی سی، کے الیکٹرک ، پی پی ایل ، این بی پی اور بینک آف پنجاب نے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کو خریداری کا رجحان مسلسل چوتھے سیشن تک برقرار رہا جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 931 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک (کے ای) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں جس کا اعلان ادارے نے اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ ایک نوٹس میں کیا ہے۔ یہ پیشرفت سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری کی جانب سے صوبائی محتسب کے اس حکم کو منسوخ کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جس میں کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے ایک مبینہ کیس میں ملوث ہونے پر مونس علوی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی حصص بازار جمعہ کو تیسرے روز بھی خسارے میں رہے کیونکہ وال اسٹریٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا جبکہ قیمتی دھاتیں اور کرپٹو کرنسیاں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے مسلسل دوسرے دن نقصانات کا سلسلہ برقرار رہا۔ اس گراوٹ کی بڑی وجہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں آنے والی 5 فیصد کی بڑی مندی تھی جس کے باعث مارکیٹ کھلنے کے کچھ ہی دیر بعد ٹریڈنگ کو عارضی طور پر روکنا پڑا، ادھر ایس اینڈ پی 500 ای-منی فیوچرز میں 0.2 فیصد اور نیسڈیک ای منی فیوچرز میں 0.4 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راتوں رات اسٹاک مارکیٹ میں حصص کی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کی وجہ یہ خدشات تھے کہ اے آئی کے نئے ماڈلز سافٹ ویئر کمپنیوں کے منافع کو متاثر کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی لیبر مارکیٹ (روزگار کی منڈی) سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث ایس اینڈ پی 500 انڈیکس رواں سال کی اپنی اب تک کی تمام برتری کھو کر منفی زون میں داخل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو عالمی آؤٹ پلیسمنٹ فرم چیلنجر، گرے اینڈ کرسمس’ کے ایک سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی آجروں کی جانب سے جنوری میں کی گئی ملازمین کی برطرفیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو کہ گزشتہ 17 برسوں میں کسی بھی جنوری کے مقابلے میں بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتی دھاتیں اپنی کم ترین سطح سے بحالی کی کوشش کر رہی تھیں لیکن دن کے اختتام تک بھی کمی کا شکار رہیں جس میں سونا 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 4,764.43 ڈالر پر رہا جب کہ چاندی میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا جو 10 فیصد تک گرگئی اور بعد میں کچھ حد تک بحال ہوئی۔ سفید دھات چاندی آخری طور پر 1.4 فیصد کمی کے ساتھ 70.26 ڈالر پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعہ کے روزامریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.71 پر بند ہوئی، جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں صرف ایک پیسے  کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر حجم میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو پچھلی بندش کے 1,195.26 ملین کے مقابلے میں 1,272.64 ملین پر پہنچ گیا۔ حصص کی مجموعی قدر پچھلی سیشن کے 44.10 ارب روپے سے بڑھ کر 60.36 ارب روپے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی حجم میں کےالیکٹرک لمیٹڈ سب سے آگے رہی، جس کے 517.81 ملین حصص ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد نیشنل بینک ایکس ڈی کے 51.24 ملین حصص اورایف نیشنل ایکویٹیز کے 50.26 ملین حصص ٹریڈ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کومجموعی طور پر 480 کمپنیوں کے حصص کی تجارت ہوئی، جن میں سے 113 کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 323  کے شیئرز کی قیمت میں کمی ہوئی جبکہ 44  کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/061801106a86615.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/061801106a86615.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو شدید فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک  کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 2 فیصد کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>مارکیٹ میں دن بھر زیادہ تر شیئرز فروخت کرنے والوں کا غلبہ رہا، جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران کم ترین سطح 183,547.29 پوائنٹس تک گر گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 184,129.58 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 3,702.50 پوائنٹس یا 1.97 فیصد کی کمی ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکورٹیز کی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ کے مطابق مارکیٹ پر یہ دباؤ بیرک مائننگ کارپوریشن کے اس بیان کے باعث آیا کہ ریکو ڈیک کاپرگولڈ پروجیکٹ چوتھی سہ ماہی میں ابتدائی کاموں میں ہے، تاہم حالیہ سیکورٹی واقعات میں اضافے کے پیش نظر مینجمنٹ پروجیکٹ کے تمام پہلوؤں کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ”اس خبر کے تناظر میں انڈیکس کے ہیوی ویٹس – او جی ڈی سی اور پی پی ایل کی قیمتیں بالترتیب 2.3 فیصد اور 5 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوئیں اور مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس پر منفی 489 پوائنٹس کا اثر ڈالا۔“</p>
<p>بینکاری سیکٹر میں این بی پی پی اے کی قیمت میں بھی کمی ہوئی ( ڈی او ڈی بنیاد پر -8 فیصد)، جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس پر 406 پوائنٹس کا منفی اثر پڑا، کیونکہ 13 فروری کو پنشن کیس سے متعلق عدالت کی سماعت نے سرمایہ کاروں کے رجحان پر منفی اثر ڈالا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق تجارتی سرگرمی میں سب سے زیادہ حصہ  اوجی ڈی سی، کے الیکٹرک ، پی پی ایل ، این بی پی اور بینک آف پنجاب نے لیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کو خریداری کا رجحان مسلسل چوتھے سیشن تک برقرار رہا جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 931 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا تھا۔</p>
<p>کے الیکٹرک (کے ای) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں جس کا اعلان ادارے نے اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ ایک نوٹس میں کیا ہے۔ یہ پیشرفت سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری کی جانب سے صوبائی محتسب کے اس حکم کو منسوخ کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جس میں کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے ایک مبینہ کیس میں ملوث ہونے پر مونس علوی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔</p>
<p>عالمی حصص بازار جمعہ کو تیسرے روز بھی خسارے میں رہے کیونکہ وال اسٹریٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا جبکہ قیمتی دھاتیں اور کرپٹو کرنسیاں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے مسلسل دوسرے دن نقصانات کا سلسلہ برقرار رہا۔ اس گراوٹ کی بڑی وجہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں آنے والی 5 فیصد کی بڑی مندی تھی جس کے باعث مارکیٹ کھلنے کے کچھ ہی دیر بعد ٹریڈنگ کو عارضی طور پر روکنا پڑا، ادھر ایس اینڈ پی 500 ای-منی فیوچرز میں 0.2 فیصد اور نیسڈیک ای منی فیوچرز میں 0.4 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>راتوں رات اسٹاک مارکیٹ میں حصص کی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کی وجہ یہ خدشات تھے کہ اے آئی کے نئے ماڈلز سافٹ ویئر کمپنیوں کے منافع کو متاثر کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی لیبر مارکیٹ (روزگار کی منڈی) سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث ایس اینڈ پی 500 انڈیکس رواں سال کی اپنی اب تک کی تمام برتری کھو کر منفی زون میں داخل ہو گیا ہے۔</p>
<p>جمعرات کو عالمی آؤٹ پلیسمنٹ فرم چیلنجر، گرے اینڈ کرسمس’ کے ایک سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی آجروں کی جانب سے جنوری میں کی گئی ملازمین کی برطرفیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو کہ گزشتہ 17 برسوں میں کسی بھی جنوری کے مقابلے میں بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>قیمتی دھاتیں اپنی کم ترین سطح سے بحالی کی کوشش کر رہی تھیں لیکن دن کے اختتام تک بھی کمی کا شکار رہیں جس میں سونا 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 4,764.43 ڈالر پر رہا جب کہ چاندی میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا جو 10 فیصد تک گرگئی اور بعد میں کچھ حد تک بحال ہوئی۔ سفید دھات چاندی آخری طور پر 1.4 فیصد کمی کے ساتھ 70.26 ڈالر پر بند ہوئی۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعہ کے روزامریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.71 پر بند ہوئی، جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں صرف ایک پیسے  کا اضافہ ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر حجم میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو پچھلی بندش کے 1,195.26 ملین کے مقابلے میں 1,272.64 ملین پر پہنچ گیا۔ حصص کی مجموعی قدر پچھلی سیشن کے 44.10 ارب روپے سے بڑھ کر 60.36 ارب روپے ہو گئی۔</p>
<p>تجارتی حجم میں کےالیکٹرک لمیٹڈ سب سے آگے رہی، جس کے 517.81 ملین حصص ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد نیشنل بینک ایکس ڈی کے 51.24 ملین حصص اورایف نیشنل ایکویٹیز کے 50.26 ملین حصص ٹریڈ ہوئے۔</p>
<p>جمعہ کومجموعی طور پر 480 کمپنیوں کے حصص کی تجارت ہوئی، جن میں سے 113 کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 323  کے شیئرز کی قیمت میں کمی ہوئی جبکہ 44  کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/061801106a86615.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/061801106a86615.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282509</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Feb 2026 20:26:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/06111916e48c390.webp" type="image/webp" medium="image" height="651" width="1156">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/06111916e48c390.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
