<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>این ایف سی پر خاموشی، ایک معمہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282507/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چار دسمبر کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا افتتاحی اجلاس ان بلند توقعات کے ساتھ منعقد ہوا کہ ملک کے مالیاتی معاہدے سے جڑے دیرینہ سوالات پر بالآخر سنجیدگی سے توجہ دی جائے گی تاہم دو ماہ گزر جانے کے باوجود اس حوالے سے پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عمل کو آگے بڑھانے کیلئے کمیشن کے جن آٹھ تکنیکی ورکنگ گروپس کو ذمہ داری سونپی گئی تھی، ان میں سے صرف دو کا ایک ایک بار اجلاس ہوا جب کہ بقیہ 6 گروپس کا دسمبر میں نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد سے اب تک ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً این ایف سی کا دوسرا اجلاس جو جنوری کے دوسرے ہفتے میں ہونا تھا اور جس کا مقصد ہر ماہ باقاعدہ سیشنز کا آغاز کرنا تھا تاکہ 15 سال سے زائد عرصے سے زیرِ التوا 11 ویں این ایف سی ایوارڈ کی راہ ہموار ہو سکے، حال ہی میں ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہنے کی شاید ہی ضرورت ہو کہ یہ جمود فرائض سے مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔ وہ اہم فیصلے جن پر فوری توجہ کی ضرورت تھی بشمول صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے فارمولے پر نظرِ ثانی، وفاق اور صوبوں کے درمیان حصوں  پر نئے سرے سے مذاکرات اور سابقہ قبائلی اضلاع کے حصے سے متعلق پیچیدہ تکنیکی معاملات کو سلجھانا ہمیشہ سے ہی مشکل، وقت طلب اور ممکنہ طور پر متنازع ثابت ہونے والے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن معاملات کی پیچیدگی کو جمود (کام روکنے) کے لیے عذر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، ان مسائل پر کام شروع کرنے میں بھی ناکامی ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ این ایف سی ایوارڈ مالی استحکام، بین الحکومتی اعتماد اور مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ جن دو ورکنگ گروپس کے اجلاس ہوئے ہیں وہ بھی وفاقی سستی اور کاہلی کی وجہ سے بے بس یا رکاوٹوں کا شکار نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی واضح ترین مثال وہ گروپ ہے جو سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے معاملے کا جائزہ لے رہا ہے، اس گروپ نے وفاقی سیکرٹری خزانہ سے وہ تفصیلی ورکنگز (اعداد و شمار) طلب کی تھیں جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ ضم شدہ اضلاع کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کا حصہ بڑھانے سے دیگر صوبوں کے حصص پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود یہ تفصیلات ابھی تک موصول نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے دوسرا سیشن منعقد نہیں ہو پارہا، یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح وفاقی بے عملی کی وجہ سے فعال کوششیں بھی تعطل کا شکار ہورہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا گروپ جو وزیرِ خزانہ کی سربراہی میں ٹیکسوں کے قابلِ تقسیم پول  کا جائزہ لے رہا ہے اس نے بھی کوئی خاص پیشرفت نہیں کی۔ اس گروپ کو قابلِ تقسیم ٹیکس پول میں نئے ٹیکسوں کو شامل کرنے یا نکالنے کی سفارشات دینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی لیکن این ایف سی عمل کے اس اہم ترین پہلو پر اب تک نہ ہونے کے برابر کام ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وفاق بارہا اپنی سکڑتی ہوئی مالیاتی گنجائش کا رونا روتا ہے اور یہ شکایت کرتا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کا بڑا حصہ (تقریباً 57.5 فیصد وفاقی ٹیکس ریونیو) صوبوں کو جارہا ہے۔ اس تناظر میں اس اہم مسئلے پر خود وفاقی حکومت کی اپنی سستی اور غفلت کا جواز پیش کرنا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلکہ یہ اس معاملے پر فوری اور بھرپور توجہ کے ساتھ کام کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیتا ہے کیونکہ قابلِ تقسیم پول کی ساخت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے باریک بینی سے قانونی اور آئینی جائزے کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر ورکنگ گروپس میں سے کسی کا بھی اب تک کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوسکا جو وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کو جدید بنانے کی کوششوں میں تشویشناک تعطل کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارتِ خزانہ کے حکام ان تاخیروں کی وجہ وزیرِ خزانہ اور سیکریٹری خزانہ کے مصروفیات سے بھرپور غیر ملکی دوروں اور سفر کو قرار دیتے ہیں جب کہ وہ اس کا ذمہ دار صوبوں کو بھی ٹھہراتے ہیں کیونکہ ان میں سے زیادہ تر گروپس کی صدارت صوبائی وزرائے خزانہ کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کلیدی وفاقی اور صوبائی عہدیداروں کے مصروف شیڈول جیسی معمولی بات اس جمود کا عذر نہیں بن سکتی۔ کیا ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جس کے تحت کم از کم ابتدائی ذمہ داریاں جونیئر افسران کو سونپی جائیں، ابتدائی اجلاس منعقد کیے جائیں، یا قانونی اور تکنیکی آراء پہلے سے حاصل کرلی جائیں؟ کئی اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابلِ تقسیم وسائل کی وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم اور صوبوں کے مابین ( حصے کے تعین کے معیار سے ہٹ کر بھی کئی مسائل حل طلب ہیں جن میں قومی قرضوں کی تشکیل اور ان کا استعمال، ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب میں اضافے کی حکمتِ عملی اور صوبائی دائرہ اختیار میں آنے والے وفاقی اخراجات کی شراکت داری کے لیے رہنما خطوط کی تیاری شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر وسائل کی تقسیم میں آبادی کو دی جانے والی غیر متناسب اہمیت پر نظرِ ثانی جیسے معاملات کو سلجھانے میں ضائع ہونے والا ہر دن ملک کی مالیاتی کمزوریوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ایف سی کو اس سستی پر قابو پانا ہوگا، ورنہ اس کا براہ راست نتیجہ کمزور مالیاتی نظم و نسق، رکتی ہوئی ترقی اور وفاق و صوبوں کے درمیان تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی صورت میں نکلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چار دسمبر کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا افتتاحی اجلاس ان بلند توقعات کے ساتھ منعقد ہوا کہ ملک کے مالیاتی معاہدے سے جڑے دیرینہ سوالات پر بالآخر سنجیدگی سے توجہ دی جائے گی تاہم دو ماہ گزر جانے کے باوجود اس حوالے سے پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔</strong></p>
<p>اس عمل کو آگے بڑھانے کیلئے کمیشن کے جن آٹھ تکنیکی ورکنگ گروپس کو ذمہ داری سونپی گئی تھی، ان میں سے صرف دو کا ایک ایک بار اجلاس ہوا جب کہ بقیہ 6 گروپس کا دسمبر میں نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد سے اب تک ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوسکا۔</p>
<p>نتیجتاً این ایف سی کا دوسرا اجلاس جو جنوری کے دوسرے ہفتے میں ہونا تھا اور جس کا مقصد ہر ماہ باقاعدہ سیشنز کا آغاز کرنا تھا تاکہ 15 سال سے زائد عرصے سے زیرِ التوا 11 ویں این ایف سی ایوارڈ کی راہ ہموار ہو سکے، حال ہی میں ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔</p>
<p>یہ کہنے کی شاید ہی ضرورت ہو کہ یہ جمود فرائض سے مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔ وہ اہم فیصلے جن پر فوری توجہ کی ضرورت تھی بشمول صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے فارمولے پر نظرِ ثانی، وفاق اور صوبوں کے درمیان حصوں  پر نئے سرے سے مذاکرات اور سابقہ قبائلی اضلاع کے حصے سے متعلق پیچیدہ تکنیکی معاملات کو سلجھانا ہمیشہ سے ہی مشکل، وقت طلب اور ممکنہ طور پر متنازع ثابت ہونے والے تھے۔</p>
<p>لیکن معاملات کی پیچیدگی کو جمود (کام روکنے) کے لیے عذر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، ان مسائل پر کام شروع کرنے میں بھی ناکامی ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ این ایف سی ایوارڈ مالی استحکام، بین الحکومتی اعتماد اور مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>یہاں تک کہ جن دو ورکنگ گروپس کے اجلاس ہوئے ہیں وہ بھی وفاقی سستی اور کاہلی کی وجہ سے بے بس یا رکاوٹوں کا شکار نظر آتے ہیں۔</p>
<p>اس کی واضح ترین مثال وہ گروپ ہے جو سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے معاملے کا جائزہ لے رہا ہے، اس گروپ نے وفاقی سیکرٹری خزانہ سے وہ تفصیلی ورکنگز (اعداد و شمار) طلب کی تھیں جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ ضم شدہ اضلاع کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کا حصہ بڑھانے سے دیگر صوبوں کے حصص پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p>کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود یہ تفصیلات ابھی تک موصول نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے دوسرا سیشن منعقد نہیں ہو پارہا، یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح وفاقی بے عملی کی وجہ سے فعال کوششیں بھی تعطل کا شکار ہورہی ہیں۔</p>
<p>دوسرا گروپ جو وزیرِ خزانہ کی سربراہی میں ٹیکسوں کے قابلِ تقسیم پول  کا جائزہ لے رہا ہے اس نے بھی کوئی خاص پیشرفت نہیں کی۔ اس گروپ کو قابلِ تقسیم ٹیکس پول میں نئے ٹیکسوں کو شامل کرنے یا نکالنے کی سفارشات دینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی لیکن این ایف سی عمل کے اس اہم ترین پہلو پر اب تک نہ ہونے کے برابر کام ہوا ہے۔</p>
<p>یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وفاق بارہا اپنی سکڑتی ہوئی مالیاتی گنجائش کا رونا روتا ہے اور یہ شکایت کرتا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کا بڑا حصہ (تقریباً 57.5 فیصد وفاقی ٹیکس ریونیو) صوبوں کو جارہا ہے۔ اس تناظر میں اس اہم مسئلے پر خود وفاقی حکومت کی اپنی سستی اور غفلت کا جواز پیش کرنا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔</p>
<p>بلکہ یہ اس معاملے پر فوری اور بھرپور توجہ کے ساتھ کام کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیتا ہے کیونکہ قابلِ تقسیم پول کی ساخت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے باریک بینی سے قانونی اور آئینی جائزے کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>دیگر ورکنگ گروپس میں سے کسی کا بھی اب تک کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوسکا جو وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کو جدید بنانے کی کوششوں میں تشویشناک تعطل کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارتِ خزانہ کے حکام ان تاخیروں کی وجہ وزیرِ خزانہ اور سیکریٹری خزانہ کے مصروفیات سے بھرپور غیر ملکی دوروں اور سفر کو قرار دیتے ہیں جب کہ وہ اس کا ذمہ دار صوبوں کو بھی ٹھہراتے ہیں کیونکہ ان میں سے زیادہ تر گروپس کی صدارت صوبائی وزرائے خزانہ کررہے ہیں۔</p>
<p>تاہم کلیدی وفاقی اور صوبائی عہدیداروں کے مصروف شیڈول جیسی معمولی بات اس جمود کا عذر نہیں بن سکتی۔ کیا ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جس کے تحت کم از کم ابتدائی ذمہ داریاں جونیئر افسران کو سونپی جائیں، ابتدائی اجلاس منعقد کیے جائیں، یا قانونی اور تکنیکی آراء پہلے سے حاصل کرلی جائیں؟ کئی اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔</p>
<p>قابلِ تقسیم وسائل کی وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم اور صوبوں کے مابین ( حصے کے تعین کے معیار سے ہٹ کر بھی کئی مسائل حل طلب ہیں جن میں قومی قرضوں کی تشکیل اور ان کا استعمال، ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب میں اضافے کی حکمتِ عملی اور صوبائی دائرہ اختیار میں آنے والے وفاقی اخراجات کی شراکت داری کے لیے رہنما خطوط کی تیاری شامل ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر وسائل کی تقسیم میں آبادی کو دی جانے والی غیر متناسب اہمیت پر نظرِ ثانی جیسے معاملات کو سلجھانے میں ضائع ہونے والا ہر دن ملک کی مالیاتی کمزوریوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔</p>
<p>این ایف سی کو اس سستی پر قابو پانا ہوگا، ورنہ اس کا براہ راست نتیجہ کمزور مالیاتی نظم و نسق، رکتی ہوئی ترقی اور وفاق و صوبوں کے درمیان تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی صورت میں نکلے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282507</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Feb 2026 13:33:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/06110724bd0e586.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/06110724bd0e586.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
