<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 14:32:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 14:32:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا سلامتی کونسل سے کالعدم بی ایل اے کو فوری دہشت گرد قرار دینے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282486/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک سینئر پاکستانی سفارتکار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 1999 کی قرارداد 1267 کے تحت قائم کردہ پابندیوں کے نظام کے تحت غیر ملکی فنڈڈ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو دہشتگرد گروپ قرار دینے کیلئے فوری کارروائی کرے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی سرزمین سے دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے اور ان کے خاتمے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے دہشت گردانہ کارروائیوں سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کے موضوع پر سلامتی کونسل کے مباحثے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گروہوں جیسے کہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان اور اس کے مجید بریگیڈ کو کابل میں طالبان کے قبضے کے بعد نئی زندگی  ملی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ پہلے ہی بی ایل اے  کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ کونسل بی ایل اے  کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے فوری کارروائی کرے گی اور اس فہرست میں شامل کرنے کی اس درخواست کو منظور کرے گی جو اس وقت زیرِ غور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے عصری خطرات سے نمٹنے کے لیے متحدہ، جامع اور مربوط ردِعمل اختیار کرے جس میں عالمی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی (جی سی ٹی ایس) پر متوازن عمل درآمد بھی شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں سفیر عاصم نے کہا کہ ہمیں افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردانہ خطرات سے مؤثر طریقے سے نمٹنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے تقریباً کھلی چھوٹ  کے ساتھ اور ہمارے مشرقی پڑوسی کی فعال حمایت سے آپریٹ کر رہے ہیں اور پاکستان کے اندر خوفناک دہشت گردانہ حملے کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم نے دستاویزی شکل میں درج کیا ہے، افغان عبوری حکام  ٹی ٹی پی، القاعدہ اور آئی ایس آئی ایل-کے (داعش) سمیت متعدد دہشت گرد گروہوں کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں، داعش اب بھی بیرونی توجہ کے ساتھ سرگرم ہے جبکہ ای ٹی آئی ایم اور ٹی آئی پی کے ارکان افغانستان کے اندر آزادانہ نقل و حرکت کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ دہشت گرد گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور اس سے آگے کے لیے بھی ایک خطرہ ہیں۔ حال ہی میں افغان سرحد کے قریب وسطی ایشیا میں ہونے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں نے ان انتباہات کی تصدیق کر دی ہے جو پہلے دیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کے پیچھے چھوڑے گئے اربوں ڈالر کے جدید ترین ہتھیاروں اور سازوسامان کو دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے سے روکا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بلوچ لبریشن آرمی کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندیاں عائد کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک سینئر پاکستانی سفارتکار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 1999 کی قرارداد 1267 کے تحت قائم کردہ پابندیوں کے نظام کے تحت غیر ملکی فنڈڈ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو دہشتگرد گروپ قرار دینے کیلئے فوری کارروائی کرے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی سرزمین سے دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے اور ان کے خاتمے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔</strong></p>
<p>اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے دہشت گردانہ کارروائیوں سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کے موضوع پر سلامتی کونسل کے مباحثے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گروہوں جیسے کہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان اور اس کے مجید بریگیڈ کو کابل میں طالبان کے قبضے کے بعد نئی زندگی  ملی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ پہلے ہی بی ایل اے  کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔</p>
<p>پاکستانی مندوب نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ کونسل بی ایل اے  کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے فوری کارروائی کرے گی اور اس فہرست میں شامل کرنے کی اس درخواست کو منظور کرے گی جو اس وقت زیرِ غور ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے عصری خطرات سے نمٹنے کے لیے متحدہ، جامع اور مربوط ردِعمل اختیار کرے جس میں عالمی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی (جی سی ٹی ایس) پر متوازن عمل درآمد بھی شامل ہو۔</p>
<p>اس سلسلے میں سفیر عاصم نے کہا کہ ہمیں افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردانہ خطرات سے مؤثر طریقے سے نمٹنا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے تقریباً کھلی چھوٹ  کے ساتھ اور ہمارے مشرقی پڑوسی کی فعال حمایت سے آپریٹ کر رہے ہیں اور پاکستان کے اندر خوفناک دہشت گردانہ حملے کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم نے دستاویزی شکل میں درج کیا ہے، افغان عبوری حکام  ٹی ٹی پی، القاعدہ اور آئی ایس آئی ایل-کے (داعش) سمیت متعدد دہشت گرد گروہوں کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں، داعش اب بھی بیرونی توجہ کے ساتھ سرگرم ہے جبکہ ای ٹی آئی ایم اور ٹی آئی پی کے ارکان افغانستان کے اندر آزادانہ نقل و حرکت کررہے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ دہشت گرد گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور اس سے آگے کے لیے بھی ایک خطرہ ہیں۔ حال ہی میں افغان سرحد کے قریب وسطی ایشیا میں ہونے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں نے ان انتباہات کی تصدیق کر دی ہے جو پہلے دیے گئے تھے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کے پیچھے چھوڑے گئے اربوں ڈالر کے جدید ترین ہتھیاروں اور سازوسامان کو دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے سے روکا جائے۔</p>
<p>پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بلوچ لبریشن آرمی کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندیاں عائد کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282486</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Feb 2026 16:05:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/05155520e267f2b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/05155520e267f2b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
