<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تعلیمی عدم مساوات اور غیر متوازن پیش رفت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282483/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس) کے تازہ ترین نتائج پاکستان میں تعلیم اور انسانی ترقی کی صورتحال پر ایک چشم کشا حقیقت پیش کرتے ہیں۔ تعلیمی ایمرجنسی کے بار بار سرکاری اعلانات کے باوجود اسکول جانے کی عمر کے 28 فیصد بچے تقریباً 2 کروڑ اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں، اگرچہ یہ 2019 میں رپورٹ ہونے والے 2.53 کروڑ کی تعداد کے مقابلے میں کچھ کمی کو ظاہر کرتا ہے، لیکن گزشتہ چھ سالوں کے دوران ہونے والی پیش رفت انتہائی سست اور غیر متوازن رہی ہے جو ان ڈھانچہ جاتی ناکامیوں کو بے نقاب کرتی ہے جنہیں صرف سیاسی نعروں سے حل نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سروے کا سب سے پریشان کن پہلو عدم مساوات کا تسلسل ہے۔ دیہی علاقوں کی لڑکیاں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں، اب بھی اس محرومی کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ قومی سطح پر ہر 4 میں سے ایک لڑکا اسکول سے باہر ہے لیکن لڑکیوں کے لیے یہ شرح بڑھ کر تقریباً ہر تین میں سے ایک تک پہنچ جاتی ہے۔ صنفی بنیاد پر یہ فرق محض اتفاقی نہیں، یہ جڑی ہوئی سماجی روایات، وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی غربت اور تعلیم کی فراہمی میں عوامی نظام کی کمزوریوں کی عکاسی کرتا ہے۔ لڑکوں کے معاملے میں معاشی دباؤ اکثرانہیں مزدوری کی طرف دھکیل دیتا ہے جب کہ لڑکیوں کے حوالے سے خاندانی پابندیاں، تعلیم کی اہمیت کا ادراک نہ ہونا یا مالی مشکلات وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر انہیں کلاس رومز سے دور رکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حقیقت کہ 20 فیصد بچے کبھی اسکول میں داخل ہی نہیں ہوئے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نظام رسائی کے بالکل ابتدائی مرحلے پر ہی ناکام ہو رہا ہے۔ اتنی ہی تشویشناک بات پنجاب میں جمود ہے، اگرچہ صوبہ اب بھی سب سے کم شرح یعنی 21 فیصد بچوں کے اسکول سے باہر ہونے کی رپورٹ دیتا ہے، لیکن 2019 کے بعد سے اس میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ پنجاب کی نسبتاً مضبوط انتظامی صلاحیت اور تعلیم پر زیادہ اخراجات کے باوجود یہ جمود اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ پالیسیاں اپنی مؤثریت کھو رہی ہیں اور مشکل ترین حالات میں موجود بچوں تک رسائی کے لیے جدت کی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حقیقت کہ 20 فیصد بچے کبھی اسکول میں داخل ہی نہیں ہوئے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نظام رسائی کے بالکل ابتدائی مرحلے پر ہی ناکام ہورہا ہے۔ اسی طرح پنجاب میں تعلیمی جمود بھی اتنا ہی تشویشناک ہے۔ اگرچہ یہ صوبہ اب بھی 21 فیصد کے ساتھ اسکول سے باہر بچوں کی سب سے کم شرح رپورٹ کررہا ہے لیکن 2019 کے بعد سے اس میں کوئی بہتری نہیں دیکھی گئی۔ پنجاب کی نسبتاً بہتر انتظامی صلاحیت اور تعلیم پر زیادہ اخراجات کے باوجود، یہ جمود موجودہ پالیسیوں کی گرتی ہوئی افادیت اور ان بچوں تک پہنچنے کے لیے جدت کی کمی کا اشارہ ہے جن تک رسائی مشکل ترین ہے۔دیگر صوبوں کی حالت اس سے بھی بدتر ہے، جو اس حقیقت کی توثیق کرتی ہے کہ ملک کے بڑے حصوں میں تعلیم اب بھی ایک کم ترجیحی شعبہ ہے۔ ایچ آئی ای ایس کے ذریعے سامنے آنے والا وسیع تر سماجی و اقتصادی پس منظر اس بات کی وضاحت کرنے میں مدد دیتا ہے کہ ترقی کی رفتار کیوں رک گئی۔ تیز رفتار مہنگائی اور کمزور معاشی ترقی نے گھرانوں کی برداشت اور ہمت کو ختم کردیا ہے۔ تقریباً ایک چوتھائی گھرانے اب معتدل سے شدید نوعیت کی غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہیں جن میں بلوچستان اور سندھ سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بھی غذائی عدم تحفظ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ بلوچستان میں گزشتہ چھ سالوں کے دوران یہ شرح تقریباً دگنی ہوچکی ہے۔ ان خاندانوں کے لیے جو بمشکل دو وقت کی روٹی کا انتظام کر پارہے ہیں، تعلیم ایک آئینی طور پر ضمانت شدہ حق کے بجائے ایک عیاشی بن کر رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے میں پہلی بار ڈیجیٹل مالی شمولیت کی پیمائش نے اس بحران زدہ صورتحال میں ایک اور پہلو کا اضافہ کردیا ہے۔ صرف 12 فیصد افراد کا بینک اکاؤنٹ ہونا اور 76 فیصد کا کسی بھی باضابطہ مالیاتی نظام سے باہر ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تعلیم اور فلاحی سہولتوں کی فراہمی کیلئے ڈیجیٹل حل کے وعدے محض خیالی یا نظریاتی حد تک ہی محدود ہیں۔ ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی خاص طور پر خواتین میں اس محرومی کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے جو ناقص تعلیم، غربت اور ڈیجیٹل ناخواندگی کے ایک شیطانی چکر  کو تقویت دیتی ہے۔ شاید سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ یہ سروے چھ سال کے طویل وقفے کے بعد کیا گیا اور اطلاعات کے مطابق اس کیلئے آئی ایم ایف  کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ اس طرح کے ضروری ڈیٹا کا حصول بھی اگر بیرونی دباؤ کا مرہونِ منت ہو تو یہ ہماری قومی ترجیحات کے بارے میں بہت کچھ واضح کردیتا ہے۔ بروقت اور معتبر ڈیٹا کے بغیر، پالیسی سازی محض ہنگامی ردِعمل اور سطحی ہی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اعلانات کی کمی کا شکار نہیں بلکہ یہاں کمی ہے تو مسلسل اور مساوات پر مبنی پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کی۔ اسکولوں سے باہر بچوں کے بحران کو حل کرنے کے لیے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مخصوص فنڈنگ، غریب گھرانوں کے لیے ترغیبات ، دیہی علاقوں میں محفوظ اور قابلِ رسائی اسکولوں کی فراہمی اور تعلیمی پالیسی کو وسیع تر معاشی و سماجی تحفظ کی حکمتِ عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، جب تک تعلیم کو انسانی ترقی میں ایک طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، یہ اعداد و شمار اسی طرح دہرائے جاتے رہیں گے جن کے نتائج ملکی مستقبل کے لیے انتہائی تشویشناک ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس) کے تازہ ترین نتائج پاکستان میں تعلیم اور انسانی ترقی کی صورتحال پر ایک چشم کشا حقیقت پیش کرتے ہیں۔ تعلیمی ایمرجنسی کے بار بار سرکاری اعلانات کے باوجود اسکول جانے کی عمر کے 28 فیصد بچے تقریباً 2 کروڑ اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں، اگرچہ یہ 2019 میں رپورٹ ہونے والے 2.53 کروڑ کی تعداد کے مقابلے میں کچھ کمی کو ظاہر کرتا ہے، لیکن گزشتہ چھ سالوں کے دوران ہونے والی پیش رفت انتہائی سست اور غیر متوازن رہی ہے جو ان ڈھانچہ جاتی ناکامیوں کو بے نقاب کرتی ہے جنہیں صرف سیاسی نعروں سے حل نہیں کیا جا سکتا۔</strong></p>
<p>اس سروے کا سب سے پریشان کن پہلو عدم مساوات کا تسلسل ہے۔ دیہی علاقوں کی لڑکیاں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں، اب بھی اس محرومی کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ قومی سطح پر ہر 4 میں سے ایک لڑکا اسکول سے باہر ہے لیکن لڑکیوں کے لیے یہ شرح بڑھ کر تقریباً ہر تین میں سے ایک تک پہنچ جاتی ہے۔ صنفی بنیاد پر یہ فرق محض اتفاقی نہیں، یہ جڑی ہوئی سماجی روایات، وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی غربت اور تعلیم کی فراہمی میں عوامی نظام کی کمزوریوں کی عکاسی کرتا ہے۔ لڑکوں کے معاملے میں معاشی دباؤ اکثرانہیں مزدوری کی طرف دھکیل دیتا ہے جب کہ لڑکیوں کے حوالے سے خاندانی پابندیاں، تعلیم کی اہمیت کا ادراک نہ ہونا یا مالی مشکلات وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر انہیں کلاس رومز سے دور رکھا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ حقیقت کہ 20 فیصد بچے کبھی اسکول میں داخل ہی نہیں ہوئے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نظام رسائی کے بالکل ابتدائی مرحلے پر ہی ناکام ہو رہا ہے۔ اتنی ہی تشویشناک بات پنجاب میں جمود ہے، اگرچہ صوبہ اب بھی سب سے کم شرح یعنی 21 فیصد بچوں کے اسکول سے باہر ہونے کی رپورٹ دیتا ہے، لیکن 2019 کے بعد سے اس میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ پنجاب کی نسبتاً مضبوط انتظامی صلاحیت اور تعلیم پر زیادہ اخراجات کے باوجود یہ جمود اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ پالیسیاں اپنی مؤثریت کھو رہی ہیں اور مشکل ترین حالات میں موجود بچوں تک رسائی کے لیے جدت کی کمی ہے۔</p>
<p>یہ حقیقت کہ 20 فیصد بچے کبھی اسکول میں داخل ہی نہیں ہوئے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نظام رسائی کے بالکل ابتدائی مرحلے پر ہی ناکام ہورہا ہے۔ اسی طرح پنجاب میں تعلیمی جمود بھی اتنا ہی تشویشناک ہے۔ اگرچہ یہ صوبہ اب بھی 21 فیصد کے ساتھ اسکول سے باہر بچوں کی سب سے کم شرح رپورٹ کررہا ہے لیکن 2019 کے بعد سے اس میں کوئی بہتری نہیں دیکھی گئی۔ پنجاب کی نسبتاً بہتر انتظامی صلاحیت اور تعلیم پر زیادہ اخراجات کے باوجود، یہ جمود موجودہ پالیسیوں کی گرتی ہوئی افادیت اور ان بچوں تک پہنچنے کے لیے جدت کی کمی کا اشارہ ہے جن تک رسائی مشکل ترین ہے۔دیگر صوبوں کی حالت اس سے بھی بدتر ہے، جو اس حقیقت کی توثیق کرتی ہے کہ ملک کے بڑے حصوں میں تعلیم اب بھی ایک کم ترجیحی شعبہ ہے۔ ایچ آئی ای ایس کے ذریعے سامنے آنے والا وسیع تر سماجی و اقتصادی پس منظر اس بات کی وضاحت کرنے میں مدد دیتا ہے کہ ترقی کی رفتار کیوں رک گئی۔ تیز رفتار مہنگائی اور کمزور معاشی ترقی نے گھرانوں کی برداشت اور ہمت کو ختم کردیا ہے۔ تقریباً ایک چوتھائی گھرانے اب معتدل سے شدید نوعیت کی غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہیں جن میں بلوچستان اور سندھ سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بھی غذائی عدم تحفظ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ بلوچستان میں گزشتہ چھ سالوں کے دوران یہ شرح تقریباً دگنی ہوچکی ہے۔ ان خاندانوں کے لیے جو بمشکل دو وقت کی روٹی کا انتظام کر پارہے ہیں، تعلیم ایک آئینی طور پر ضمانت شدہ حق کے بجائے ایک عیاشی بن کر رہ گئی ہے۔</p>
<p>سروے میں پہلی بار ڈیجیٹل مالی شمولیت کی پیمائش نے اس بحران زدہ صورتحال میں ایک اور پہلو کا اضافہ کردیا ہے۔ صرف 12 فیصد افراد کا بینک اکاؤنٹ ہونا اور 76 فیصد کا کسی بھی باضابطہ مالیاتی نظام سے باہر ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تعلیم اور فلاحی سہولتوں کی فراہمی کیلئے ڈیجیٹل حل کے وعدے محض خیالی یا نظریاتی حد تک ہی محدود ہیں۔ ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی خاص طور پر خواتین میں اس محرومی کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے جو ناقص تعلیم، غربت اور ڈیجیٹل ناخواندگی کے ایک شیطانی چکر  کو تقویت دیتی ہے۔ شاید سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ یہ سروے چھ سال کے طویل وقفے کے بعد کیا گیا اور اطلاعات کے مطابق اس کیلئے آئی ایم ایف  کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ اس طرح کے ضروری ڈیٹا کا حصول بھی اگر بیرونی دباؤ کا مرہونِ منت ہو تو یہ ہماری قومی ترجیحات کے بارے میں بہت کچھ واضح کردیتا ہے۔ بروقت اور معتبر ڈیٹا کے بغیر، پالیسی سازی محض ہنگامی ردِعمل اور سطحی ہی رہتی ہے۔</p>
<p>پاکستان اعلانات کی کمی کا شکار نہیں بلکہ یہاں کمی ہے تو مسلسل اور مساوات پر مبنی پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کی۔ اسکولوں سے باہر بچوں کے بحران کو حل کرنے کے لیے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مخصوص فنڈنگ، غریب گھرانوں کے لیے ترغیبات ، دیہی علاقوں میں محفوظ اور قابلِ رسائی اسکولوں کی فراہمی اور تعلیمی پالیسی کو وسیع تر معاشی و سماجی تحفظ کی حکمتِ عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، جب تک تعلیم کو انسانی ترقی میں ایک طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، یہ اعداد و شمار اسی طرح دہرائے جاتے رہیں گے جن کے نتائج ملکی مستقبل کے لیے انتہائی تشویشناک ہوں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282483</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Feb 2026 15:36:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/05152829df7c922.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1023">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/05152829df7c922.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
