<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 05:55:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 05:55:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو آئندہ دس سال میں 3 کروڑ ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی، صدر ورلڈ بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282478/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کو اپنی نوجوانوں کی بڑی آبادی کو معاشی فائدے میں بدلنے کے لیے اگلے دس سال میں 3 کروڑ تک ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی، بصورتِ دیگر ملک کو عدم استحکام اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی (ہجرت) کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ورلڈ بینک کے ساتھ گزشتہ سال طے پانے والے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کے معاہدے کے نفاذ کے مرحلے میں داخل ہورہا ہے جبکہ ساتھ ہی اپنی معیشت کو استحکام دینے کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی کام کررہا ہے تاہم اسلام آباد کو اب بھی مستقل معاشی ترقی اور ملازمتوں کی فراہمی کے لیے بڑھتے دباؤ کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجے بنگا نے اس ہفتے پاکستان کے دورے کے دوران کراچی میں &lt;strong&gt;رائٹرز&lt;/strong&gt; سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پورے بینک گروپ کو محض منصوبوں کے تصور سے نکال کر نتائج کے تصور کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ روزگار کی فراہمی ہمارا بنیادی ہدف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنریشن چیلنج&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجے بنگا نے کہا کہ پاکستان کو ہر سال تقریباً  25 سے 30 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے، یعنی آئندہ دس سال میں  مجموعی طور پر ڈھائی سے تین کروڑ کیونکہ کروڑوں نوجوان کام کرنے کی عمر کو پہنچ رہے ہیں۔ ایسا کرنے میں ناکامی غیر قانونی ہجرت یا داخلی عدم استحکام کو ہوا دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کی صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ طویل مدت میں روزگار کی فراہمی محض ایک ثانوی پالیسی ہدف نہیں بلکہ معاشی ترقی کیلئے ایک لازمی شرط  رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ نسلوں پر محیط چیلنج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کے تحت ورلڈ بینک گروپ کی جانب سے سرکاری اور نجی شعبوں کیلئے سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر کی مجموعی فنڈنگ فراہم کی جائے گی جس میں سے تقریباً نصف (2 ارب ڈالر) کی فراہمی انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے زیرِ انتظام نجی شعبے کی کارروائیوں سے متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجے بنگا نے کہا کہ نجی سرمائے پر یہ انحصار ایک ایسے ملک کی عکاسی کرتا ہے جہاں حکومت کی خرچ کرنے کی صلاحیت محدود ہے اور 90 فیصد ملازمتیں نجی شعبے میں پیدا ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجے بنگا نے کہا کہ پاکستان کی روزگار سے متعلق حکمت عملی تین اہم ستونوں پر استوار ہے: انسانی اور فزیکل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، کاروبار دوست ریگولیٹری اصلاحات اور فنانسنگ و انشورنس تک رسائی میں اضافہ، خاص طور پر چھوٹی فرموں اور کسانوں کے لیے جو عموماً بینک کریڈٹ (قرضوں) سے محروم رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انفرااسٹرکچر، بنیادی صحت ، سیاحت اور چھوٹے پیمانے پر زراعت وہ محنت طلب شعبے ہیں جہاں روزگار کی سب سے زیادہ گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  2050 تک پاکستان کو جتنی ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے، ان میں سے تقریباً ایک تہائی صرف زرعی شعبے سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فری لانسروں کا بڑھتا ہوا حلقہ بھی پاکستان میں کاروبار کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے، لیکن انہیں بہتر سرمایہ، انفرااسٹرکچر اور اس سہولت کی ضرورت ہے تاکہ وہ ملازمت پیدا کرنے والے کاروبار میں ترقی کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر افرادی قوت کے بڑے پیمانے پر انخلا کی صورت میں اس دباؤ کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ بیورو آف امیگریشن کے اعدادوشمار پر مبنی گیلپ پاکستان کے ڈیٹا کے مطابق، سن 2025 میں تقریباً 4 ہزار ڈاکٹروں نے پاکستان سے ہجرت کی، جو اب تک کسی بھی ایک سال کے دوران ملک چھوڑنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ یہ صورتحال ان خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ روزگار کے کمزور مواقع اور کام کے ناقص حالات تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور فرسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجے بنگا نے کہا کہ پاکستان کے بجلی شعبے کی اصلاح قریبی مدت کی سب سے اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں بہتری کے باوجود، بجلی کی تقسیم کے نظام میں ہونے والے نقصانات اور نااہلیوں نے معاشی ترقی کو محدود کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے بجلی کی تقسیم میں ہونے والے نقصانات ، بلوں کی وصولی کی خراب شرح اور حکومتی سبسڈی میں تاخیر کے باعث بڑھتے ہوئے قرضوں کا شکار رہا ہے جس نے عوامی مالیات پر شدید دباؤ ڈالا ہے اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قرضہ آئی ایم ایف کے حمایت یافتہ اصلاحاتی پروگراموں کا مستقل مرکز رہا ہے جبکہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں ایک طرف نقصانات کو قابو میں رکھنے اور دوسری طرف توانائی کی قیمتوں کو عوام کی پہنچ میں رکھنے کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجے بنگا نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کے نظام میں نجکاری اور نجی شعبے کی شمولیت میں پیشرفت، کارکردگی کو بہتر بنانے، نقصانات کو کم کرنے اور اس شعبے کی مالی حالت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے انتہائی اہم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ گھروں اور کاروباروں میں روب ٹاپ سولر (شمسی توانائی) کا تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان جہاں ایک طرف توانائی کے اخراجات کم کر رہا ہے، وہیں اگر بجلی کی تقسیم کے نظام  میں اصلاحات کی رفتار تیز نہ کی گئی تو اس سے گرڈ کے غیر مستحکم ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بجلی ہر چیز کی بنیاد ہے، خواہ وہ صحت ہو، تعلیم ہو، کاروبار ہو یا ملازمتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;منصوبہ بندی میں موسمیاتی تحفظ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجے بنگا نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کو ایک الگ ایجنڈے کے بجائے ترقیاتی اخراجات کے مرکزی دھارے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں جہاں بار بار سیلاب، شدید ہیٹ ویوز (لو چلنا) اور غیر یقینی مون سون کی بارشیں تباہی مچا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجے بنگا نے کہا کہ طویل مدتی خطرات کو کم کرنے اور ملازمتوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو انفرااسٹرکچر، ہاؤسنگ، پانی کے انتظام اور زراعت میں ضم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جس لمحے آپ موسمیاتی تبدیلی کو ہاؤسنگ، خوراک یا آبپاشی سے الگ کر کے سوچنا شروع کرتے ہیں تو آپ ایک غلط بحث چھیڑ دیتے ہیں۔ بس جو کچھ آپ پہلے سے کر رہے ہیں، اسی میں موسمیاتی مزاحمت پیدا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ ورلڈ بینک کے عالمی پورٹ فولیو میں پاکستان کہاں کھڑا ہے تو اجے بنگا نے کہا کہ وہ اس ملک کو نازک صورتحال یا بحران جیسے لیبلز سے نہیں دیکھتے بلکہ اسے ملازمتوں کی تخلیق کے ایک طویل مدتی موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کو اپنی نوجوانوں کی بڑی آبادی کو معاشی فائدے میں بدلنے کے لیے اگلے دس سال میں 3 کروڑ تک ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی، بصورتِ دیگر ملک کو عدم استحکام اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی (ہجرت) کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان ورلڈ بینک کے ساتھ گزشتہ سال طے پانے والے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کے معاہدے کے نفاذ کے مرحلے میں داخل ہورہا ہے جبکہ ساتھ ہی اپنی معیشت کو استحکام دینے کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی کام کررہا ہے تاہم اسلام آباد کو اب بھی مستقل معاشی ترقی اور ملازمتوں کی فراہمی کے لیے بڑھتے دباؤ کا سامنا ہے۔</p>
<p>اجے بنگا نے اس ہفتے پاکستان کے دورے کے دوران کراچی میں <strong>رائٹرز</strong> سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پورے بینک گروپ کو محض منصوبوں کے تصور سے نکال کر نتائج کے تصور کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ روزگار کی فراہمی ہمارا بنیادی ہدف ہے۔</p>
<p><strong>جنریشن چیلنج</strong></p>
<p>اجے بنگا نے کہا کہ پاکستان کو ہر سال تقریباً  25 سے 30 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے، یعنی آئندہ دس سال میں  مجموعی طور پر ڈھائی سے تین کروڑ کیونکہ کروڑوں نوجوان کام کرنے کی عمر کو پہنچ رہے ہیں۔ ایسا کرنے میں ناکامی غیر قانونی ہجرت یا داخلی عدم استحکام کو ہوا دے سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کی صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ طویل مدت میں روزگار کی فراہمی محض ایک ثانوی پالیسی ہدف نہیں بلکہ معاشی ترقی کیلئے ایک لازمی شرط  رہے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ نسلوں پر محیط چیلنج ہے۔</p>
<p>کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کے تحت ورلڈ بینک گروپ کی جانب سے سرکاری اور نجی شعبوں کیلئے سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر کی مجموعی فنڈنگ فراہم کی جائے گی جس میں سے تقریباً نصف (2 ارب ڈالر) کی فراہمی انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے زیرِ انتظام نجی شعبے کی کارروائیوں سے متوقع ہے۔</p>
<p>اجے بنگا نے کہا کہ نجی سرمائے پر یہ انحصار ایک ایسے ملک کی عکاسی کرتا ہے جہاں حکومت کی خرچ کرنے کی صلاحیت محدود ہے اور 90 فیصد ملازمتیں نجی شعبے میں پیدا ہوتی ہیں۔</p>
<p>اجے بنگا نے کہا کہ پاکستان کی روزگار سے متعلق حکمت عملی تین اہم ستونوں پر استوار ہے: انسانی اور فزیکل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، کاروبار دوست ریگولیٹری اصلاحات اور فنانسنگ و انشورنس تک رسائی میں اضافہ، خاص طور پر چھوٹی فرموں اور کسانوں کے لیے جو عموماً بینک کریڈٹ (قرضوں) سے محروم رہتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ انفرااسٹرکچر، بنیادی صحت ، سیاحت اور چھوٹے پیمانے پر زراعت وہ محنت طلب شعبے ہیں جہاں روزگار کی سب سے زیادہ گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  2050 تک پاکستان کو جتنی ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے، ان میں سے تقریباً ایک تہائی صرف زرعی شعبے سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فری لانسروں کا بڑھتا ہوا حلقہ بھی پاکستان میں کاروبار کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے، لیکن انہیں بہتر سرمایہ، انفرااسٹرکچر اور اس سہولت کی ضرورت ہے تاکہ وہ ملازمت پیدا کرنے والے کاروبار میں ترقی کر سکیں۔</p>
<p>ماہر افرادی قوت کے بڑے پیمانے پر انخلا کی صورت میں اس دباؤ کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ بیورو آف امیگریشن کے اعدادوشمار پر مبنی گیلپ پاکستان کے ڈیٹا کے مطابق، سن 2025 میں تقریباً 4 ہزار ڈاکٹروں نے پاکستان سے ہجرت کی، جو اب تک کسی بھی ایک سال کے دوران ملک چھوڑنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ یہ صورتحال ان خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ روزگار کے کمزور مواقع اور کام کے ناقص حالات تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کررہے ہیں۔</p>
<p><strong>پاور فرسٹ</strong></p>
<p>اجے بنگا نے کہا کہ پاکستان کے بجلی شعبے کی اصلاح قریبی مدت کی سب سے اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں بہتری کے باوجود، بجلی کی تقسیم کے نظام میں ہونے والے نقصانات اور نااہلیوں نے معاشی ترقی کو محدود کر رکھا ہے۔</p>
<p>پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے بجلی کی تقسیم میں ہونے والے نقصانات ، بلوں کی وصولی کی خراب شرح اور حکومتی سبسڈی میں تاخیر کے باعث بڑھتے ہوئے قرضوں کا شکار رہا ہے جس نے عوامی مالیات پر شدید دباؤ ڈالا ہے اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی ہے۔</p>
<p>یہ قرضہ آئی ایم ایف کے حمایت یافتہ اصلاحاتی پروگراموں کا مستقل مرکز رہا ہے جبکہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں ایک طرف نقصانات کو قابو میں رکھنے اور دوسری طرف توانائی کی قیمتوں کو عوام کی پہنچ میں رکھنے کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں۔</p>
<p>اجے بنگا نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کے نظام میں نجکاری اور نجی شعبے کی شمولیت میں پیشرفت، کارکردگی کو بہتر بنانے، نقصانات کو کم کرنے اور اس شعبے کی مالی حالت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے انتہائی اہم ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ گھروں اور کاروباروں میں روب ٹاپ سولر (شمسی توانائی) کا تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان جہاں ایک طرف توانائی کے اخراجات کم کر رہا ہے، وہیں اگر بجلی کی تقسیم کے نظام  میں اصلاحات کی رفتار تیز نہ کی گئی تو اس سے گرڈ کے غیر مستحکم ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بجلی ہر چیز کی بنیاد ہے، خواہ وہ صحت ہو، تعلیم ہو، کاروبار ہو یا ملازمتیں۔</p>
<p><strong>منصوبہ بندی میں موسمیاتی تحفظ</strong></p>
<p>اجے بنگا نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کو ایک الگ ایجنڈے کے بجائے ترقیاتی اخراجات کے مرکزی دھارے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔</p>
<p>پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں جہاں بار بار سیلاب، شدید ہیٹ ویوز (لو چلنا) اور غیر یقینی مون سون کی بارشیں تباہی مچا رہی ہیں۔</p>
<p>اجے بنگا نے کہا کہ طویل مدتی خطرات کو کم کرنے اور ملازمتوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو انفرااسٹرکچر، ہاؤسنگ، پانی کے انتظام اور زراعت میں ضم کیا جائے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جس لمحے آپ موسمیاتی تبدیلی کو ہاؤسنگ، خوراک یا آبپاشی سے الگ کر کے سوچنا شروع کرتے ہیں تو آپ ایک غلط بحث چھیڑ دیتے ہیں۔ بس جو کچھ آپ پہلے سے کر رہے ہیں، اسی میں موسمیاتی مزاحمت پیدا کریں۔</p>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ ورلڈ بینک کے عالمی پورٹ فولیو میں پاکستان کہاں کھڑا ہے تو اجے بنگا نے کہا کہ وہ اس ملک کو نازک صورتحال یا بحران جیسے لیبلز سے نہیں دیکھتے بلکہ اسے ملازمتوں کی تخلیق کے ایک طویل مدتی موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282478</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Feb 2026 14:40:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/0514375424f2aaa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/0514375424f2aaa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
