<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کارپوریٹ سیکٹر کیلئے بڑا ریلیف: ایف بی آر نے سپر ٹیکس اقساط میں وصول کرنے کا اعلان کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282475/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے  کارپوریٹ سیکٹر کیلئے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف بی آر کاروباری برادری سے ہر کیس کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے سپر ٹیکس کی اقساط میں وصولی کیلئے تیار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ کمیٹی ارکان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ٹیکس کی اچانک وصولی نے کاروباری اداروں کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ عدالتوں نے سپر ٹیکس کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا  لیکن اس کے نفاذ نے صنعتوں اور وسیع تر معیشت پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے کمیٹی ارکان کو وضاحت کی کہ اس عمل کے نفاذ کے دوران ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری مشکلات سے بچانے کیلئے پہلے ہی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق وہ کمپنیاں جو اپنے کھاتوں کا باقاعدہ آڈٹ کرواتی ہیں، انہوں نے حالیہ برسوں میں اس ٹیکس کی ادائیگی کے لیے پہلے ہی رقم مختص کر رکھی ہے اور حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وصولی کے اقدامات کے نتیجے میں کسی بھی کاروبار کو بند ہونے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو مزید وضاحت دی گئی کہ وصولیوں کے حوالے سے رپورٹ کردہ 300 ارب روپے کے اعدادوشمار درست نہیں ہیں، بلکہ اصل رقم 217 ارب روپے کے قریب ہے۔ یہ معاملہ کئی سالوں سے قانونی چارہ جوئی میں الجھا ہوا تھا اور اس دوران مختلف عدالتوں میں درجنوں سماعتیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس دہندگان کو بھیجے گئے نوٹسز پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا جن میں بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور گرفتاریوں کی وارننگ دی گئی تھی۔ کاروباری نمائندوں نے موقف اختیار کیا کہ اس طرح کے اقدامات ہراساں کرنے کے مترادف ہیں اور اس سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ فوری ادائیگی کا مطالبہ کرنے کے بجائے وصولی کو دو سے تین سال کی مدت پر نقسیم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جواب میں کمیٹی نے کاروبار دوست پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا اور سفارش کی کہ ٹیکس دہندگان کو سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ایف بی آر نے ایک بار پھر اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ اقساط کی بنیاد پر ادائیگیوں کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے جبکہ وزارتِ خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ بجٹ کے مذاکرات کے دوران اس معاملے پر مزید غور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر شیری رحمان نے سپر ٹیکس کی اچانک اور فوری وصولی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے وضاحت کی کہ ایف بی آر پہلے ہی اپنی فیلڈ فارمیشنز (علاقائی دفاتر) کو ہدایات جاری کرچکا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ سپرٹیکس کی وصولی کے دوران ٹیکس دہندگان کو نفاذ کے حوالے سے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ  یہ ممکن نہیں کہ ایک مخصوص ٹیکس ادا کرنے والے ٹیکس دہندگان کو اچانک روک دیا جائے یا (ان کا کام) بند کر دیا جائے۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، لیکن ہم سپر ٹیکس ضرور وصول کریں گے۔ ہم کاروبار اور تجارت کی مخصوص صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس اقساط میں وصول کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس موقف کو برقرار رکھا کہ سالانہ آڈٹ شدہ کھاتے رکھنے والی کمپنیوں نے گزشتہ چند سالوں سے سپر ٹیکس کے لیے پہلے ہی رقم مختص کر رکھی ہے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بیان کیا کہ سپر ٹیکس کا مقدمہ طویل عرصے سے عدالتوں میں زیرِ التوا تھا۔ اس سلسلے میں سپر ٹیکس پر 45 سماعتیں ہوئیں اور 17 سماعتیں فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ (وفاقی آئینی عدالت) میں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے سپر ٹیکس ادا کرنے کے پابند ٹیکس دہندگان کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ سینکڑوں ٹیکس دہندگان کے لیے سپر ٹیکس کی ادائیگی لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے فیڈرل آئینی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں سپر ٹیکس کی وصولی کے لیے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر شیری رحمان نے تحفظات کا اظہار کیا کہ اگرچہ عدالتوں نے سپر ٹیکس کو پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں قرار دیا ہے، لیکن اس لیوی (ٹیکس) نے کاروباری اداروں اور عوام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ سینیٹر عبدالقادر نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے ڈبل سپر ٹیکس کے خلاف خبردار کیا اور الزام لگایا کہ ایف بی آر نے ٹیکس کی تعمیل کروانے کے لیے گرفتاری کی دھمکیوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے  کارپوریٹ سیکٹر کیلئے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف بی آر کاروباری برادری سے ہر کیس کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے سپر ٹیکس کی اقساط میں وصولی کیلئے تیار ہے۔</strong></p>
<p>یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ کمیٹی ارکان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ٹیکس کی اچانک وصولی نے کاروباری اداروں کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ عدالتوں نے سپر ٹیکس کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا  لیکن اس کے نفاذ نے صنعتوں اور وسیع تر معیشت پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر نے کمیٹی ارکان کو وضاحت کی کہ اس عمل کے نفاذ کے دوران ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری مشکلات سے بچانے کیلئے پہلے ہی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق وہ کمپنیاں جو اپنے کھاتوں کا باقاعدہ آڈٹ کرواتی ہیں، انہوں نے حالیہ برسوں میں اس ٹیکس کی ادائیگی کے لیے پہلے ہی رقم مختص کر رکھی ہے اور حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وصولی کے اقدامات کے نتیجے میں کسی بھی کاروبار کو بند ہونے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>کمیٹی کو مزید وضاحت دی گئی کہ وصولیوں کے حوالے سے رپورٹ کردہ 300 ارب روپے کے اعدادوشمار درست نہیں ہیں، بلکہ اصل رقم 217 ارب روپے کے قریب ہے۔ یہ معاملہ کئی سالوں سے قانونی چارہ جوئی میں الجھا ہوا تھا اور اس دوران مختلف عدالتوں میں درجنوں سماعتیں ہوئیں۔</p>
<p>ٹیکس دہندگان کو بھیجے گئے نوٹسز پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا جن میں بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور گرفتاریوں کی وارننگ دی گئی تھی۔ کاروباری نمائندوں نے موقف اختیار کیا کہ اس طرح کے اقدامات ہراساں کرنے کے مترادف ہیں اور اس سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ فوری ادائیگی کا مطالبہ کرنے کے بجائے وصولی کو دو سے تین سال کی مدت پر نقسیم کیا جائے۔</p>
<p>اس کے جواب میں کمیٹی نے کاروبار دوست پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا اور سفارش کی کہ ٹیکس دہندگان کو سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ایف بی آر نے ایک بار پھر اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ اقساط کی بنیاد پر ادائیگیوں کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے جبکہ وزارتِ خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ بجٹ کے مذاکرات کے دوران اس معاملے پر مزید غور کیا جائے گا۔</p>
<p>سینیٹر شیری رحمان نے سپر ٹیکس کی اچانک اور فوری وصولی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے وضاحت کی کہ ایف بی آر پہلے ہی اپنی فیلڈ فارمیشنز (علاقائی دفاتر) کو ہدایات جاری کرچکا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ سپرٹیکس کی وصولی کے دوران ٹیکس دہندگان کو نفاذ کے حوالے سے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ  یہ ممکن نہیں کہ ایک مخصوص ٹیکس ادا کرنے والے ٹیکس دہندگان کو اچانک روک دیا جائے یا (ان کا کام) بند کر دیا جائے۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، لیکن ہم سپر ٹیکس ضرور وصول کریں گے۔ ہم کاروبار اور تجارت کی مخصوص صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس اقساط میں وصول کر سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اس موقف کو برقرار رکھا کہ سالانہ آڈٹ شدہ کھاتے رکھنے والی کمپنیوں نے گزشتہ چند سالوں سے سپر ٹیکس کے لیے پہلے ہی رقم مختص کر رکھی ہے۔<br></p>
<p>انہوں نے بیان کیا کہ سپر ٹیکس کا مقدمہ طویل عرصے سے عدالتوں میں زیرِ التوا تھا۔ اس سلسلے میں سپر ٹیکس پر 45 سماعتیں ہوئیں اور 17 سماعتیں فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ (وفاقی آئینی عدالت) میں ہوئیں۔</p>
<p>جب ان سے سپر ٹیکس ادا کرنے کے پابند ٹیکس دہندگان کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ سینکڑوں ٹیکس دہندگان کے لیے سپر ٹیکس کی ادائیگی لازمی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے فیڈرل آئینی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں سپر ٹیکس کی وصولی کے لیے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔</p>
<p>سینیٹر شیری رحمان نے تحفظات کا اظہار کیا کہ اگرچہ عدالتوں نے سپر ٹیکس کو پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں قرار دیا ہے، لیکن اس لیوی (ٹیکس) نے کاروباری اداروں اور عوام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ سینیٹر عبدالقادر نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے ڈبل سپر ٹیکس کے خلاف خبردار کیا اور الزام لگایا کہ ایف بی آر نے ٹیکس کی تعمیل کروانے کے لیے گرفتاری کی دھمکیوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔</p>
<p><br>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282475</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Feb 2026 13:10:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/051253163918036.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/051253163918036.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
