<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 11:38:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 11:38:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کی تیل سپلائی منصوبے میں کوئی غیرمعمولی پیشرفت نہیں ہوئی،کریملن کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282457/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کریملن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ بھارت کے تیل کی سپلائی کو متنوع بنانے کے اعلان میں انہیں کچھ نیا نہیں نظر آیا، کیونکہ نئی دہلی ہمیشہ مختلف ممالک سے تیل خریدتا رہا ہے، جس میں روس بھی شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تجارت پیوش گوئل نے بدھ کو قبل ازیں کہا کہ بھارت اپنے شہریوں کے لیے توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے درمیان ایک حکمت عملی کے طور پر اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوئل کے بیان کے بعد یہ اعلان آیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایک امریکا بھارت تجارتی معاہدے کا اعلان کیا، اور کہا کہ نئی دہلی روسی تیل کی خریداری روک دے گا، جس کی بھارت نے ابھی تک باقاعدہ تصدیق نہیں کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے تیل خریداری کے منصوبے کے بارے میں پوچھے جانے پر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ روس بھارت کا واحد تیل سپلائر نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیسکوف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ”ہم، اور نہ صرف ہم، بلکہ بین الاقوامی توانائی کے امور کے تمام ماہرین بخوبی جانتے ہیں کہ روس بھارت کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے والا واحد ملک نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;بھارت نے ہمیشہ یہ مصنوعات دیگر ممالک سے خریدی ہیں، اسی وجہ سے ہمیں یہاں کوئی نئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کریملن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ بھارت کے تیل کی سپلائی کو متنوع بنانے کے اعلان میں انہیں کچھ نیا نہیں نظر آیا، کیونکہ نئی دہلی ہمیشہ مختلف ممالک سے تیل خریدتا رہا ہے، جس میں روس بھی شامل ہے۔</strong></p>
<p>وزیر تجارت پیوش گوئل نے بدھ کو قبل ازیں کہا کہ بھارت اپنے شہریوں کے لیے توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے درمیان ایک حکمت عملی کے طور پر اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنائے گا۔</p>
<p>گوئل کے بیان کے بعد یہ اعلان آیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایک امریکا بھارت تجارتی معاہدے کا اعلان کیا، اور کہا کہ نئی دہلی روسی تیل کی خریداری روک دے گا، جس کی بھارت نے ابھی تک باقاعدہ تصدیق نہیں کی ہے۔</p>
<p>بھارت کے تیل خریداری کے منصوبے کے بارے میں پوچھے جانے پر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ روس بھارت کا واحد تیل سپلائر نہیں رہا۔</p>
<p>پیسکوف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ”ہم، اور نہ صرف ہم، بلکہ بین الاقوامی توانائی کے امور کے تمام ماہرین بخوبی جانتے ہیں کہ روس بھارت کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے والا واحد ملک نہیں ہے۔</p>
<p><br>بھارت نے ہمیشہ یہ مصنوعات دیگر ممالک سے خریدی ہیں، اسی وجہ سے ہمیں یہاں کوئی نئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282457</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Feb 2026 18:20:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/0418084846e060c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/0418084846e060c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
