<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کے دہرے تجارتی معاہدے اور پاکستانی برآمدات پر ان کے ممکنہ اثرات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282448/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کمال ہوشیاری سے اپنا معاشی پتا کھیلا اور بھرپور انداز میں کھیلا۔ امریکہ اور یورپ کے ساتھ  انڈیا کی حالیہ تجارتی پیش رفت علاقائی معاشی  قوت متحرکہ میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاس ہے، جس کے اثرات پاکستانی برآمدات کی عالمی مسابقت پر پڑنا ناگزیر ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم مودی نے کمالِ عیاری سے یورپی یونین کو ایک مجوزہ آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) میں اس طرح مصروف کیا کہ اس بلاک کو امریکی تجارتی محصولات (ٹیرف) کے توڑ کے طور پر پیش کیا۔ اس کے فوری بعد انہوں نے تیل کی درآمدات پر پابندی سمیت امریکہ کی کلیدی تجارتی شرائط بھی تسلیم کر لیں، جس کے نتیجے میں بھارت کے لیے ٹیرف کی مؤثر شرح میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی۔ اس نئے فریم ورک کے تحت بھارت پر ٹیرف کا بوجھ تقریباً 50 فیصد سے کم ہو کر 18 فیصد پر آنے کی توقع ہے، جو کہ پاکستان کے 19 فیصد ٹیرف کے مقابلے میں بھارت کو عالمی منڈیوں میں واضح برتری فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان اس اسٹرکچرل ڈس ایڈوانٹیج(ساختی نقصان) کا مقابلہ کیسے کرے؟ بھارت نے ماضی میں یورپی منڈیوں میں 12 فیصد اور امریکہ میں تقریباً 30 فیصد کے بلند ٹیرف کے باوجود اپنی برآمدات کو جس طرح برقرار رکھا اس کی بنیاد مضبوط ریاستی سرپرستی اور کارپوریٹ طاقت رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ پالیسی فیصلے برآمد کنندگان کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔ مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے فروغ کے لیے ان کے حالیہ اعلانات معاشی استحکام کی جانب ایک قدم ہیں، تاہم ان کی افادیت کا دارومدار مالیاتی تنگی کے باوجود اصلاحات کے تسلسل پر ہوگا۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ امریکہ کے بعد بہتر ہونے والے سفارتی تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اب پاکستان کو ترجیحی ٹیرف  کے حصول کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ہمیں بھی دیگر ممالک کی طرح 10 فیصد کا سازگار ریٹ مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خارجہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ داخلی طور پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس کا تسلسل فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ ایڈوانس ٹیکس اس مفروضے پر لیا جاتا ہے کہ کمپنی منافع کمائے گی لیکن اگر منافع نہ ہو تو حکومت یہ ٹیکس واپس کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ یہ طریقہ کار کمپنیوں کے کیش فلو پر غیر ضروری بوجھ ڈالتا ہے، اس کا خاتمہ برآمد کنندگان کو فوری ریلیف فراہم کرے گا۔ مزید برآں ای او بی آئی  اور سیسی  جیسے اداروں میں لازمی شراکت  بھی کاروباروں کے لیے ایک مستقل بوجھ بن چکی ہے۔ وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ  ای ڈی ایس کی طرز پر اس شرط کو بھی کم از کم تین سال کے لیے معطل کر دیں، تاکہ کمپنیوں کو اپنے مالی معاملات سنبھالنے کی گنجائش مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح برآمدی اداروں کے لیے حالیہ ٹیکس نظام جس کے تحت 2 فیصد ٹرن اوور ٹیکس یا 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس (جو بھی زیادہ ہو) کی ادائیگی لازمی ہے پر نظرثانی کی ضرورت ہے، چونکہ یہ سال ٹیکسٹائل اور چاول کی برآمدات کے لیے انتہائی کٹھن ہے، اس لیے تجویز ہے کہ موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے اضافی ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کر دیا جائے، تاکہ ٹیکس فریم ورک کو چھیڑے بغیر دباؤ کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ حالات میں جہاں صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور برآمدات زوال پذیر ہیں، حکومت کو کاروباری برادری کے ساتھ معاندانہ رویے کے بجائے شراکت داری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ایف بی آر اور انڈسٹری کے درمیان محاذ آرائی معاشی تنزلی کو مزید تیز کرے گی۔ بھارت کی جانب سے پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صنعت اور حکومت کا متحد ہونا ناگزیر ہے، تاکہ برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر&lt;strong&gt;2026&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کمال ہوشیاری سے اپنا معاشی پتا کھیلا اور بھرپور انداز میں کھیلا۔ امریکہ اور یورپ کے ساتھ  انڈیا کی حالیہ تجارتی پیش رفت علاقائی معاشی  قوت متحرکہ میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاس ہے، جس کے اثرات پاکستانی برآمدات کی عالمی مسابقت پر پڑنا ناگزیر ہیں۔</strong></p>
<p>وزیر اعظم مودی نے کمالِ عیاری سے یورپی یونین کو ایک مجوزہ آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) میں اس طرح مصروف کیا کہ اس بلاک کو امریکی تجارتی محصولات (ٹیرف) کے توڑ کے طور پر پیش کیا۔ اس کے فوری بعد انہوں نے تیل کی درآمدات پر پابندی سمیت امریکہ کی کلیدی تجارتی شرائط بھی تسلیم کر لیں، جس کے نتیجے میں بھارت کے لیے ٹیرف کی مؤثر شرح میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی۔ اس نئے فریم ورک کے تحت بھارت پر ٹیرف کا بوجھ تقریباً 50 فیصد سے کم ہو کر 18 فیصد پر آنے کی توقع ہے، جو کہ پاکستان کے 19 فیصد ٹیرف کے مقابلے میں بھارت کو عالمی منڈیوں میں واضح برتری فراہم کرے گا۔</p>
<p>اب اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان اس اسٹرکچرل ڈس ایڈوانٹیج(ساختی نقصان) کا مقابلہ کیسے کرے؟ بھارت نے ماضی میں یورپی منڈیوں میں 12 فیصد اور امریکہ میں تقریباً 30 فیصد کے بلند ٹیرف کے باوجود اپنی برآمدات کو جس طرح برقرار رکھا اس کی بنیاد مضبوط ریاستی سرپرستی اور کارپوریٹ طاقت رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ پالیسی فیصلے برآمد کنندگان کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔ مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے فروغ کے لیے ان کے حالیہ اعلانات معاشی استحکام کی جانب ایک قدم ہیں، تاہم ان کی افادیت کا دارومدار مالیاتی تنگی کے باوجود اصلاحات کے تسلسل پر ہوگا۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ امریکہ کے بعد بہتر ہونے والے سفارتی تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اب پاکستان کو ترجیحی ٹیرف  کے حصول کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ہمیں بھی دیگر ممالک کی طرح 10 فیصد کا سازگار ریٹ مل سکے۔</p>
<p>خارجہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ داخلی طور پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس کا تسلسل فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ ایڈوانس ٹیکس اس مفروضے پر لیا جاتا ہے کہ کمپنی منافع کمائے گی لیکن اگر منافع نہ ہو تو حکومت یہ ٹیکس واپس کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ یہ طریقہ کار کمپنیوں کے کیش فلو پر غیر ضروری بوجھ ڈالتا ہے، اس کا خاتمہ برآمد کنندگان کو فوری ریلیف فراہم کرے گا۔ مزید برآں ای او بی آئی  اور سیسی  جیسے اداروں میں لازمی شراکت  بھی کاروباروں کے لیے ایک مستقل بوجھ بن چکی ہے۔ وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ  ای ڈی ایس کی طرز پر اس شرط کو بھی کم از کم تین سال کے لیے معطل کر دیں، تاکہ کمپنیوں کو اپنے مالی معاملات سنبھالنے کی گنجائش مل سکے۔</p>
<p>اسی طرح برآمدی اداروں کے لیے حالیہ ٹیکس نظام جس کے تحت 2 فیصد ٹرن اوور ٹیکس یا 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس (جو بھی زیادہ ہو) کی ادائیگی لازمی ہے پر نظرثانی کی ضرورت ہے، چونکہ یہ سال ٹیکسٹائل اور چاول کی برآمدات کے لیے انتہائی کٹھن ہے، اس لیے تجویز ہے کہ موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے اضافی ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کر دیا جائے، تاکہ ٹیکس فریم ورک کو چھیڑے بغیر دباؤ کم کیا جا سکے۔</p>
<p>موجودہ حالات میں جہاں صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور برآمدات زوال پذیر ہیں، حکومت کو کاروباری برادری کے ساتھ معاندانہ رویے کے بجائے شراکت داری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ایف بی آر اور انڈسٹری کے درمیان محاذ آرائی معاشی تنزلی کو مزید تیز کرے گی۔ بھارت کی جانب سے پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صنعت اور حکومت کا متحد ہونا ناگزیر ہے، تاکہ برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر<strong>2026</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282448</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Feb 2026 13:41:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فواد انور)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/041318345d565f5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/041318345d565f5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
