<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی اسپنرز فارم میں مگر بھارت کے خلاف بائیکاٹ سے ورلڈ کپ سے جلد باہر ہونے کا خطرہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282441/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل پاکستان کا اسپنرز پر مشتمل اسکواڈ بہترین فارم میں ہے لیکن بھارت کے خلاف ہائی وولٹیج مقابلے سے دستبردار ہونے کے متنازع فیصلے کے باعث ٹیم ایک بار پھر ٹورنامنٹ سے جلد باہر ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے پر غور کیا تھا، جس نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم حکومت پاکستان نے آخر کار ٹیم کو شرکت کی اجازت دے دی  لیکن انہیں 15 فروری کو کولمبو میں بھارت کے خلاف شیڈول بڑے میچ میں کھیلنے سے روک دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ جیتنے پر دو پوائنٹس ملتے ہیں ایسی صورت میں میچ چھوڑنے  کا مطلب یہ ہے کہ اگر پاکستان کو گروپ اے کی پانچ ٹیموں میں سے ٹاپ ٹو میں جگہ بنانی ہے تو اس کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو ہفتے کے روز کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف اپنا افتتاحی میچ اور تین دن بعد امریکہ کے خلاف میچ ہر صورت جیتنا ہوگا جب کہ پاکستان کا گروپ مرحلے کا آخری میچ 18 فروری کو نمیبیا کے خلاف ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپتان سلمان آغا کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنا ٹیم کے اختیار میں نہیں تھا۔ انہوں نے کہا یہ ہمارا فیصلہ نہیں ہے  ہمیں اپنی حکومت کے فیصلوں پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ حکومت پاکستان نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ اگر ٹیم کا سامنا سیمی فائنل یا فائنل میں دوبارہ بھارت سے ہوا تو ان کا موقف کیا ہوگا۔ سلمان علی آغا اس بارے میں فی الحال نہیں سوچ رہے۔ انہوں نے کہا ہمارا کام جیتنا ہے اور ہم اس کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسی صورتحال سے بچنا چاہے گا، جہاں میزبان ملک امریکہ سے سپر اوور میں حیران کن شکست کے بعد ٹیم گروپ مرحلے سے ہی باہر ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سے ٹیم کو جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تقاضوں پر پورا نہ اترنے  خاص طور پر بابر اعظم کے کم اسٹرائیک ریٹ کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنقید کی بڑی وجہ پاکستان کا پچھلے سال کا ریکارڈ بھی تھا، جہاں ان کی 34 میں سے 21 فتوحات کم درجے کی ٹیموں کے خلاف تھیں۔ بڑی ٹیموں کے خلاف نتائج مایوس کن رہے، جن میں ایشیا کپ میں بھارت سے تین شکستیں اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں 1-4 سے ناکامی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اعتماد-کی-بحالی" href="#اعتماد-کی-بحالی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اعتماد کی بحالی&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;تاہم سلمان آغا کا ماننا ہے کہ حالیہ کارکردگی نے ٹیم کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔ پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 1-2 سے شکست دی، ہوم ٹرائی سیریز جیتی اور پھر آسٹریلیا کے خلاف 3-0 سے کلین سویپ مکمل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان آغا نے کہا آسٹریلیا کو ہرا کر ہماری تیاری اچھی رہی ہے۔ ہمارے پاس محمد نواز، شاداب خان اور صائم ایوب جیسے بہترین اسپننگ آل راؤنڈرز موجود ہیں۔ ہم اپنی تمام خامیوں کو دور کر رہے ہیں اور یقین ہے کہ ہم ورلڈ کپ جیت سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے اسپن شعبے کو ابرار احمد اور عثمان طارق کی شمولیت سے تقویت ملی ہے، عثمان طارق اپنے منفرد ایکشن اور کریز پر رک کر گیند پھینکنے کے انداز کی وجہ سے مشہور ہیں۔ فاسٹ بولنگ کی قیادت تجربہ کار شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کر رہے ہیں، جبکہ فہیم اشرف آل راؤنڈر کے طور پر موجود ہیں اور نووارد سلمان مرزا نے بھی متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیٹنگ اب بھی پاکستان کا سب سے غیر یقینی حصہ ہے۔ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے ایک بڑا خطرہ مول لیتے ہوئے تجربہ کار وکٹ کیپر محمد رضوان کو خراب فارم کی وجہ سے باہر کر دیا ہے اور ان کی جگہ عثمان خان، خواجہ نافع اور فرحان جیسے متبادل آپشنز کو ترجیح دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے  لیکن پوائنٹس ضائع کرنے کے فیصلے کے بعد اب ان کے پاس غلطی کی ذرہ برابر بھی گنجائش نہیں بچی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل پاکستان کا اسپنرز پر مشتمل اسکواڈ بہترین فارم میں ہے لیکن بھارت کے خلاف ہائی وولٹیج مقابلے سے دستبردار ہونے کے متنازع فیصلے کے باعث ٹیم ایک بار پھر ٹورنامنٹ سے جلد باہر ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے پر غور کیا تھا، جس نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم حکومت پاکستان نے آخر کار ٹیم کو شرکت کی اجازت دے دی  لیکن انہیں 15 فروری کو کولمبو میں بھارت کے خلاف شیڈول بڑے میچ میں کھیلنے سے روک دیا ہے۔</p>
<p>میچ جیتنے پر دو پوائنٹس ملتے ہیں ایسی صورت میں میچ چھوڑنے  کا مطلب یہ ہے کہ اگر پاکستان کو گروپ اے کی پانچ ٹیموں میں سے ٹاپ ٹو میں جگہ بنانی ہے تو اس کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو ہفتے کے روز کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف اپنا افتتاحی میچ اور تین دن بعد امریکہ کے خلاف میچ ہر صورت جیتنا ہوگا جب کہ پاکستان کا گروپ مرحلے کا آخری میچ 18 فروری کو نمیبیا کے خلاف ہوگا۔</p>
<p>کپتان سلمان آغا کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنا ٹیم کے اختیار میں نہیں تھا۔ انہوں نے کہا یہ ہمارا فیصلہ نہیں ہے  ہمیں اپنی حکومت کے فیصلوں پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ حکومت پاکستان نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ اگر ٹیم کا سامنا سیمی فائنل یا فائنل میں دوبارہ بھارت سے ہوا تو ان کا موقف کیا ہوگا۔ سلمان علی آغا اس بارے میں فی الحال نہیں سوچ رہے۔ انہوں نے کہا ہمارا کام جیتنا ہے اور ہم اس کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسی صورتحال سے بچنا چاہے گا، جہاں میزبان ملک امریکہ سے سپر اوور میں حیران کن شکست کے بعد ٹیم گروپ مرحلے سے ہی باہر ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سے ٹیم کو جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تقاضوں پر پورا نہ اترنے  خاص طور پر بابر اعظم کے کم اسٹرائیک ریٹ کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔</p>
<p>تنقید کی بڑی وجہ پاکستان کا پچھلے سال کا ریکارڈ بھی تھا، جہاں ان کی 34 میں سے 21 فتوحات کم درجے کی ٹیموں کے خلاف تھیں۔ بڑی ٹیموں کے خلاف نتائج مایوس کن رہے، جن میں ایشیا کپ میں بھارت سے تین شکستیں اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں 1-4 سے ناکامی شامل ہے۔</p>
<hr />
<h3><a id="اعتماد-کی-بحالی" href="#اعتماد-کی-بحالی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اعتماد کی بحالی</strong></h3>
<p>تاہم سلمان آغا کا ماننا ہے کہ حالیہ کارکردگی نے ٹیم کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔ پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 1-2 سے شکست دی، ہوم ٹرائی سیریز جیتی اور پھر آسٹریلیا کے خلاف 3-0 سے کلین سویپ مکمل کیا۔</p>
<p>سلمان آغا نے کہا آسٹریلیا کو ہرا کر ہماری تیاری اچھی رہی ہے۔ ہمارے پاس محمد نواز، شاداب خان اور صائم ایوب جیسے بہترین اسپننگ آل راؤنڈرز موجود ہیں۔ ہم اپنی تمام خامیوں کو دور کر رہے ہیں اور یقین ہے کہ ہم ورلڈ کپ جیت سکتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے اسپن شعبے کو ابرار احمد اور عثمان طارق کی شمولیت سے تقویت ملی ہے، عثمان طارق اپنے منفرد ایکشن اور کریز پر رک کر گیند پھینکنے کے انداز کی وجہ سے مشہور ہیں۔ فاسٹ بولنگ کی قیادت تجربہ کار شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کر رہے ہیں، جبکہ فہیم اشرف آل راؤنڈر کے طور پر موجود ہیں اور نووارد سلمان مرزا نے بھی متاثر کیا ہے۔</p>
<p>بیٹنگ اب بھی پاکستان کا سب سے غیر یقینی حصہ ہے۔ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے ایک بڑا خطرہ مول لیتے ہوئے تجربہ کار وکٹ کیپر محمد رضوان کو خراب فارم کی وجہ سے باہر کر دیا ہے اور ان کی جگہ عثمان خان، خواجہ نافع اور فرحان جیسے متبادل آپشنز کو ترجیح دی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے  لیکن پوائنٹس ضائع کرنے کے فیصلے کے بعد اب ان کے پاس غلطی کی ذرہ برابر بھی گنجائش نہیں بچی۔</p>
<hr />
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282441</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Feb 2026 12:47:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/041229333af0cc4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/041229333af0cc4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
