<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ ٹیرف میں کمی سے بھارتی مارکیٹس میں خوشی کی لہر، تفصیلات تاحال غیر واضح</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282438/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت کی درآمدات پر محصولات کم کرنے کے اقدام سے منگل کو بھارتی مارکیٹس میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جس سے برآمد کنندگان اور پالیسی سازوں کے حوصلے بڑھ گئے، حالانکہ معاہدے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہو سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے پیر کو بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کیا جس کے تحت محصولات 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کیے جائیں گے، بشرطیکہ نئی دہلی روس سے تیل کی خریداری بند کرے اور تجارتی رکاوٹیں کم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ٹرمپ کے سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد وائٹ ہاؤس یا بھارتی حکومت کی جانب سے کسی تفصیل کا اعلان نہیں ہوا۔ بھارتی حکام کے مطابق بھارت نے معاہدے کے تحت امریکی مصنوعات بشمول توانائی، دفاعی سامان اور ہوائی جہاز خریدنے اور جزوی طور پر زرعی شعبے کو کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی نے درآمد شدہ گاڑیوں پر محصولات بھی کم کیے تاکہ واشنگٹن کی فوری مطالبات پورے کیے جا سکیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ بھارت امریکی مصنوعات کی خریداری بڑھائے گا، جس کی مالیت 500 ارب ڈالر سے زائد ہوگی، جس میں توانائی، کوئلہ، ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر مصنوعات شامل ہیں، لیکن کسی وقت کی حد کا ذکر نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسس بینک کے چیف اکنامسٹ نیلکانت مشرا نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ بھارت کا محصولات کا معاہدہ پہلے کے مقابلے میں بھارت کے نقصان کو دور کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام سے عالمی غیر یقینی صورتحال میں کمی آئی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھا۔ بھارت کا نِفٹی 50 اسٹاک انڈیکس تقریباً 3 فیصد بڑھ گیا جبکہ روپیہ 1 فیصد سے زائد مضبوط ہو کر 90.40 فی ڈالر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی ای او کے صدر ایس سی رالہان کے مطابق محصولات کی کمی نہ صرف قیمت کے مقابلے کو بہتر کرے گی بلکہ بھارتی برآمد کنندگان کو امریکی سپلائی چین میں گہرا انضمام کرنے میں مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز کی ریٹنگز نے کہا کہ امریکی محصولات کی کمی بھارت کی برآمدات کو مزید متحرک کرے گی۔ تاہم، روسی تیل کی درآمد فوری طور پر بند کرنے کے معاملے میں بھارتی ریفائنرز کو وقت درکار ہوگا اور حکومت نے ابھی تک اس کے لیے کوئی حکم نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ امریکی زرعی مصنوعات کی بھارت کی بڑی مارکیٹ میں برآمدات کو یقینی بنائے گا، مگر تفصیلات ابھی غیر واضح ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت کی درآمدات پر محصولات کم کرنے کے اقدام سے منگل کو بھارتی مارکیٹس میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جس سے برآمد کنندگان اور پالیسی سازوں کے حوصلے بڑھ گئے، حالانکہ معاہدے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہو سکیں۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے پیر کو بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کیا جس کے تحت محصولات 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کیے جائیں گے، بشرطیکہ نئی دہلی روس سے تیل کی خریداری بند کرے اور تجارتی رکاوٹیں کم کرے۔</p>
<p>تاہم، ٹرمپ کے سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد وائٹ ہاؤس یا بھارتی حکومت کی جانب سے کسی تفصیل کا اعلان نہیں ہوا۔ بھارتی حکام کے مطابق بھارت نے معاہدے کے تحت امریکی مصنوعات بشمول توانائی، دفاعی سامان اور ہوائی جہاز خریدنے اور جزوی طور پر زرعی شعبے کو کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>نئی دہلی نے درآمد شدہ گاڑیوں پر محصولات بھی کم کیے تاکہ واشنگٹن کی فوری مطالبات پورے کیے جا سکیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ بھارت امریکی مصنوعات کی خریداری بڑھائے گا، جس کی مالیت 500 ارب ڈالر سے زائد ہوگی، جس میں توانائی، کوئلہ، ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر مصنوعات شامل ہیں، لیکن کسی وقت کی حد کا ذکر نہیں کیا۔</p>
<p>ایکسس بینک کے چیف اکنامسٹ نیلکانت مشرا نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ بھارت کا محصولات کا معاہدہ پہلے کے مقابلے میں بھارت کے نقصان کو دور کرتا ہے۔</p>
<p>اس اقدام سے عالمی غیر یقینی صورتحال میں کمی آئی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھا۔ بھارت کا نِفٹی 50 اسٹاک انڈیکس تقریباً 3 فیصد بڑھ گیا جبکہ روپیہ 1 فیصد سے زائد مضبوط ہو کر 90.40 فی ڈالر پہنچ گیا۔</p>
<p>ایف آئی ای او کے صدر ایس سی رالہان کے مطابق محصولات کی کمی نہ صرف قیمت کے مقابلے کو بہتر کرے گی بلکہ بھارتی برآمد کنندگان کو امریکی سپلائی چین میں گہرا انضمام کرنے میں مدد دے گی۔</p>
<p>موڈیز کی ریٹنگز نے کہا کہ امریکی محصولات کی کمی بھارت کی برآمدات کو مزید متحرک کرے گی۔ تاہم، روسی تیل کی درآمد فوری طور پر بند کرنے کے معاملے میں بھارتی ریفائنرز کو وقت درکار ہوگا اور حکومت نے ابھی تک اس کے لیے کوئی حکم نہیں دیا۔</p>
<p>یہ معاہدہ امریکی زرعی مصنوعات کی بھارت کی بڑی مارکیٹ میں برآمدات کو یقینی بنائے گا، مگر تفصیلات ابھی غیر واضح ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282438</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Feb 2026 12:39:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/0412362376c8163.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/0412362376c8163.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
