<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس میں 931 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282430/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مسلسل چوتھے سیشن میں بھی  بھرپور خریداری کا رجحان برقرار رہا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 931 سے زائد پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر فروخت کا رجحان غالب آگیا جس سے 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 187,018.69 پر آگیا۔ بعد ازاں خریداری کا رجحان ایک بار پھر واپس آگیا اور انڈیکس ایک موقع پر دن کی بلند ترین سطح 188,312.20 پوائنٹس پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 931 پوائنٹس کے اضافے سے 187,832.08 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے مارکیٹ کے بعد جاری کردہ رپورٹ کے مطابق انڈیکس کی کارکردگی کو بنیادی طور پر بڑے حصص  بشمول ایچ ایم بی ،این بی پی ، ایم ای بی ایل ،اینگر میں ہونے والے اضافے سے سہارا ملا، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک میں 740 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ تاہم اس تیزی کے اثر کو ای ایف ای آر ٹی،ایس وائی ایس اور پی پی ایل میں ہونے والے نقصانات نے جزوی طور پر کم کیا، جنہوں نے مل کر انڈیکس سے 149 پوائنٹس گھٹا دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل برآمد کنندہ کمپنیوں میں سے ایک انٹرلوپ لمیٹڈ (آئی ایل پی) کے منافع میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔ 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والی ششماہی کے لیے کمپنی کا بعد از ٹیکس منافع (پی اے ٹی) سالانہ بنیادوں پر تقریباً 300 فیصد اضافے کے ساتھ 5.90 ارب روپے تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے 2024 کی اسی مدت (مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی) میں 1.48 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع ریکارڈ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ منگل کو بھی پی ایس ایکس میں خریداری کا تسلسل دیکھنے میں آیا اور 100 انڈیکس دن کے اختتام پر ایک فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بدھ کو مندی کا شکار رہیں جس کی وجہ امریکا اور یورپی ایکویٹی منڈیوں میں شدید گراوٹ ہے۔ یہ گراوٹ ان خدشات کے باعث آئی کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں ہونے والی پیشرفت روایتی سافٹ ویئر کی جگہ لے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکہ کی جانب سے ایرانی ڈرون گرائے جانے اور ایک اہم بحری گزرگاہ میں مسلح کشتیوں کے امریکی پرچم بردار جہاز کے قریب آنے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ ادھر قیمتی دھاتوں کی قیمتیں بھی حالیہ بڑی مندی کے بعد اب کچھ مستحکم ہونا شروع ہوگئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور یورپ کی ڈیٹا اینالیٹکس، پروفیشنل سروسز اور سافٹ ویئر کمپنیوں کے حصص میں فروخت کا دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب جمعہ کو اینتھروپک کی جانب سے اپنے کلاڈ کو ورک ایجنٹ کے لیے پلگ اِنز متعارف کرانے کے بعد ان صنعتوں میں مصنوعی ذہانت سے ممکنہ بڑی تبدیلیوں کے خدشات شدت اختیار کر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یشیا میں فروخت کا یہ دباؤ اتنا شدید نہیں تھا، جس کی وجہ اس خطے کی ہارڈ ویئر مینوفیکچرنگ میں تاریخی برتری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.2 فیصد کمزور ہوا جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 1.23 فیصد گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیسڈیک فیوچرز میں 0.25 فیصد کمی دیکھی گئی، حالانکہ گزشتہ شب کیش سیشن میں یہ ایک فیصد سے زائد گر چکا تھا۔ اسی طرح ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.1 فیصد نیچے رہے جبکہ یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.07 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب  پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں بہتری دکھائی اور بدھ کے روز انٹربینک مارکیٹ میں اس کی قدر میں 0.01 فیصد کا اضافہ ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 3 پیسے (0.03 روپے) کے اضافے کے ساتھ 279.72 پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر تجارتی حجم (وولیوم) گزشتہ سیشن کے 848.56 ملین سے بڑھ کر 1,195.26 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، تاہم شیئرز کی مالیت گزشتہ سیشن کے 50.02 ارب روپے سے کم ہو کر 44.10 ارب روپے رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ 590.87 ملین شیئرز کے ساتھ تجارتی حجم میں سرفہرست رہی، جس کے بعد ویوز ہوم اپلائنسز 36.31 ملین شیئرز اور ایف نیٹ ایکویٹیز 32.94 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 246 کمپنیوں کے نرخوں میں اضافہ، 188 میں کمی، جبکہ 49 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/0417390247aa5df.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/0417390247aa5df.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مسلسل چوتھے سیشن میں بھی  بھرپور خریداری کا رجحان برقرار رہا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 931 سے زائد پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر فروخت کا رجحان غالب آگیا جس سے 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 187,018.69 پر آگیا۔ بعد ازاں خریداری کا رجحان ایک بار پھر واپس آگیا اور انڈیکس ایک موقع پر دن کی بلند ترین سطح 188,312.20 پوائنٹس پر جاپہنچا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 931 پوائنٹس کے اضافے سے 187,832.08 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے مارکیٹ کے بعد جاری کردہ رپورٹ کے مطابق انڈیکس کی کارکردگی کو بنیادی طور پر بڑے حصص  بشمول ایچ ایم بی ،این بی پی ، ایم ای بی ایل ،اینگر میں ہونے والے اضافے سے سہارا ملا، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک میں 740 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ تاہم اس تیزی کے اثر کو ای ایف ای آر ٹی،ایس وائی ایس اور پی پی ایل میں ہونے والے نقصانات نے جزوی طور پر کم کیا، جنہوں نے مل کر انڈیکس سے 149 پوائنٹس گھٹا دیے۔</p>
<p>پاکستان کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل برآمد کنندہ کمپنیوں میں سے ایک انٹرلوپ لمیٹڈ (آئی ایل پی) کے منافع میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔ 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والی ششماہی کے لیے کمپنی کا بعد از ٹیکس منافع (پی اے ٹی) سالانہ بنیادوں پر تقریباً 300 فیصد اضافے کے ساتھ 5.90 ارب روپے تک پہنچ گیا۔</p>
<p>کمپنی نے 2024 کی اسی مدت (مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی) میں 1.48 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع ریکارڈ کیا تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ منگل کو بھی پی ایس ایکس میں خریداری کا تسلسل دیکھنے میں آیا اور 100 انڈیکس دن کے اختتام پر ایک فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</p>
<p>ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بدھ کو مندی کا شکار رہیں جس کی وجہ امریکا اور یورپی ایکویٹی منڈیوں میں شدید گراوٹ ہے۔ یہ گراوٹ ان خدشات کے باعث آئی کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں ہونے والی پیشرفت روایتی سافٹ ویئر کی جگہ لے سکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکہ کی جانب سے ایرانی ڈرون گرائے جانے اور ایک اہم بحری گزرگاہ میں مسلح کشتیوں کے امریکی پرچم بردار جہاز کے قریب آنے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ ادھر قیمتی دھاتوں کی قیمتیں بھی حالیہ بڑی مندی کے بعد اب کچھ مستحکم ہونا شروع ہوگئی ہیں۔</p>
<p>امریکا اور یورپ کی ڈیٹا اینالیٹکس، پروفیشنل سروسز اور سافٹ ویئر کمپنیوں کے حصص میں فروخت کا دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب جمعہ کو اینتھروپک کی جانب سے اپنے کلاڈ کو ورک ایجنٹ کے لیے پلگ اِنز متعارف کرانے کے بعد ان صنعتوں میں مصنوعی ذہانت سے ممکنہ بڑی تبدیلیوں کے خدشات شدت اختیار کر گئے۔</p>
<p>تاہم یشیا میں فروخت کا یہ دباؤ اتنا شدید نہیں تھا، جس کی وجہ اس خطے کی ہارڈ ویئر مینوفیکچرنگ میں تاریخی برتری ہے۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.2 فیصد کمزور ہوا جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 1.23 فیصد گر گیا۔</p>
<p>نیسڈیک فیوچرز میں 0.25 فیصد کمی دیکھی گئی، حالانکہ گزشتہ شب کیش سیشن میں یہ ایک فیصد سے زائد گر چکا تھا۔ اسی طرح ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.1 فیصد نیچے رہے جبکہ یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.07 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>دوسری جانب  پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں بہتری دکھائی اور بدھ کے روز انٹربینک مارکیٹ میں اس کی قدر میں 0.01 فیصد کا اضافہ ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 3 پیسے (0.03 روپے) کے اضافے کے ساتھ 279.72 پر بند ہوئی۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر تجارتی حجم (وولیوم) گزشتہ سیشن کے 848.56 ملین سے بڑھ کر 1,195.26 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، تاہم شیئرز کی مالیت گزشتہ سیشن کے 50.02 ارب روپے سے کم ہو کر 44.10 ارب روپے رہ گئی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ 590.87 ملین شیئرز کے ساتھ تجارتی حجم میں سرفہرست رہی، جس کے بعد ویوز ہوم اپلائنسز 36.31 ملین شیئرز اور ایف نیٹ ایکویٹیز 32.94 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔</p>
<p>بدھ کو مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 246 کمپنیوں کے نرخوں میں اضافہ، 188 میں کمی، جبکہ 49 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/0417390247aa5df.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/02/0417390247aa5df.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282430</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Feb 2026 18:09:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/04111321d40ecd0.webp" type="image/webp" medium="image" height="651" width="1156">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/04111321d40ecd0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
