<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو امریکا–ایران مذاکرات میں شرکت کی دعوت ملی ہے، دفتر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282424/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے منگل کو تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان کو اس ملاقات میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے، جو بتایا گیا ہے کہ استنبول، ترکی میں منعقد ہوگی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات کو بھی مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ اجلاس بنیادی طور پر ایران کو اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو ترک کرنے پر قائل کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جس کا مطالبہ اسرائیل کی جانب سے مستقل طور پر کیا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی شرکت امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ ایک عرب حکام کے مطابق، اجلاس میں حساس امور زیر بحث آئیں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی استنبول میں صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ممکنہ جوہری معاہدے پر بات چیت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کی اولین ترجیح کسی بھی تصادم سے بچنا اور دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ پاکستان، ترکی اور دیگر علاقائی طاقتیں جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے امن اور مذاکرات کو موقع دینے پر زور دے رہی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مذاکرات میں مدعو کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے منگل کو تصدیق کی کہ انہوں نے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ہدایت دی ہے کہ وہ منصفانہ اور متوازن مذاکرات کریں، بشرطیکہ ماحول خطرات اور غیر معقول توقعات سے پاک ہو۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہمارے قومی مفادات کے دائرہ کار کے اندر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کوئی حل نکال لے گا، تاہم خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے کے معاملے پر مکمل طور پر متفق ہے اور اس کے بدلے میں پابندیاں ہٹانے کی توقع رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل عرصے سے ایران یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ جوہری معاہدوں میں اس کی بنیادی شرط امریکی اور بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں، خاص طور پر تیل کی برآمدات اور بینکنگ شعبے پر عائد پابندیوں کی مکمل اور قابل تصدیق ہٹانا ہے۔ بدلے میں ایران یورینیم کی افزودگی محدود کرے گا، اپنے ذخائر کم کرے گا اور وسیع پیمانے پر بین الاقوامی نگرانی کی اجازت دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے منگل کو تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان کو اس ملاقات میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے، جو بتایا گیا ہے کہ استنبول، ترکی میں منعقد ہوگی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات کو بھی مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ اجلاس بنیادی طور پر ایران کو اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو ترک کرنے پر قائل کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جس کا مطالبہ اسرائیل کی جانب سے مستقل طور پر کیا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی شرکت امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ ایک عرب حکام کے مطابق، اجلاس میں حساس امور زیر بحث آئیں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی استنبول میں صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ممکنہ جوہری معاہدے پر بات چیت کریں گے۔</p>
<p>ملاقات کی اولین ترجیح کسی بھی تصادم سے بچنا اور دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ پاکستان، ترکی اور دیگر علاقائی طاقتیں جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے امن اور مذاکرات کو موقع دینے پر زور دے رہی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مذاکرات میں مدعو کیا گیا ہے۔</p>
<p>ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے منگل کو تصدیق کی کہ انہوں نے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ہدایت دی ہے کہ وہ منصفانہ اور متوازن مذاکرات کریں، بشرطیکہ ماحول خطرات اور غیر معقول توقعات سے پاک ہو۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہمارے قومی مفادات کے دائرہ کار کے اندر ہوں گے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کوئی حل نکال لے گا، تاہم خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے کے معاملے پر مکمل طور پر متفق ہے اور اس کے بدلے میں پابندیاں ہٹانے کی توقع رکھتا ہے۔</p>
<p>طویل عرصے سے ایران یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ جوہری معاہدوں میں اس کی بنیادی شرط امریکی اور بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں، خاص طور پر تیل کی برآمدات اور بینکنگ شعبے پر عائد پابندیوں کی مکمل اور قابل تصدیق ہٹانا ہے۔ بدلے میں ایران یورینیم کی افزودگی محدود کرے گا، اپنے ذخائر کم کرے گا اور وسیع پیمانے پر بین الاقوامی نگرانی کی اجازت دے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282424</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Feb 2026 10:10:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فدا حسین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/04100921926f2dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/04100921926f2dc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
