<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282420/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ یہ اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے ایک ایرانی ڈرون مار گرانے اور آبنائے ہرمز میں ایرانی مسلح کشتیوں کے ایک امریکی پرچم بردار جہاز کے قریب آنے کے واقعات نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ شدت کے خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 65 سینٹ اضافے کے ساتھ 67.98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 69 سینٹ بڑھ کر 63.90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ دونوں عالمی بینچ مارکس منگل کو بھی تقریباً 2 فیصد اوپر گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج کے مطابق منگل کو ایک ایرانی ڈرون نے بحیرہ عرب میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کے قریب جارحانہ انداز میں پرواز کی، جسے بعد ازاں مار گرایا گیا۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز میں، جو خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملاتی ہے، ایرانی گن بوٹس کے ایک گروپ نے عمان کے شمال میں ایک امریکی پرچم بردار آئل ٹینکر کے قریب آنے کی کوشش کی، جس سے سمندری سلامتی کے خدشات بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ اس ہفتے ہونے والے مذاکرات ترکی کے بجائے عمان میں ہوں اور ان کا دائرہ کار صرف جوہری معاملات تک محدود رکھا جائے، جس سے طے شدہ ملاقات کے انعقاد پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل کی مارکیٹ کو سہارا دیا ہے۔ اوپیک کے اہم رکن ممالک سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق اپنی زیادہ تر خام تیل برآمدات آبنائے ہرمز کے ذریعے، بالخصوص ایشیائی منڈیوں کو بھیجتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا سے موصول ہونے والے انڈسٹری ڈیٹا نے بھی قیمتوں کو تقویت دی، جس کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں 11 ملین بیرل سے زائد کمی ہوئی۔ سرکاری اعداد و شمار بعد ازاں جاری کیے جانے تھے، جبکہ تجزیہ کاروں کی اکثریت ذخائر میں اضافے کی توقع کر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے اور یوکرین جنگ کے باعث روسی تیل پر ممکنہ طویل پابندیوں کے خدشات نے بھی عالمی سپلائی سے متعلق تشویش کو بڑھایا، جس سے قیمتوں کو اضافی سہارا ملا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ یہ اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے ایک ایرانی ڈرون مار گرانے اور آبنائے ہرمز میں ایرانی مسلح کشتیوں کے ایک امریکی پرچم بردار جہاز کے قریب آنے کے واقعات نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ شدت کے خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 65 سینٹ اضافے کے ساتھ 67.98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 69 سینٹ بڑھ کر 63.90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ دونوں عالمی بینچ مارکس منگل کو بھی تقریباً 2 فیصد اوپر گئے تھے۔</p>
<p>امریکی فوج کے مطابق منگل کو ایک ایرانی ڈرون نے بحیرہ عرب میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کے قریب جارحانہ انداز میں پرواز کی، جسے بعد ازاں مار گرایا گیا۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز میں، جو خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملاتی ہے، ایرانی گن بوٹس کے ایک گروپ نے عمان کے شمال میں ایک امریکی پرچم بردار آئل ٹینکر کے قریب آنے کی کوشش کی، جس سے سمندری سلامتی کے خدشات بڑھ گئے۔</p>
<p>ادھر ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ اس ہفتے ہونے والے مذاکرات ترکی کے بجائے عمان میں ہوں اور ان کا دائرہ کار صرف جوہری معاملات تک محدود رکھا جائے، جس سے طے شدہ ملاقات کے انعقاد پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل کی مارکیٹ کو سہارا دیا ہے۔ اوپیک کے اہم رکن ممالک سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق اپنی زیادہ تر خام تیل برآمدات آبنائے ہرمز کے ذریعے، بالخصوص ایشیائی منڈیوں کو بھیجتے ہیں۔</p>
<p>امریکا سے موصول ہونے والے انڈسٹری ڈیٹا نے بھی قیمتوں کو تقویت دی، جس کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں 11 ملین بیرل سے زائد کمی ہوئی۔ سرکاری اعداد و شمار بعد ازاں جاری کیے جانے تھے، جبکہ تجزیہ کاروں کی اکثریت ذخائر میں اضافے کی توقع کر رہی تھی۔</p>
<p>مزید برآں امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے اور یوکرین جنگ کے باعث روسی تیل پر ممکنہ طویل پابندیوں کے خدشات نے بھی عالمی سپلائی سے متعلق تشویش کو بڑھایا، جس سے قیمتوں کو اضافی سہارا ملا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282420</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Feb 2026 09:30:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/04092840173fe1d.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/04092840173fe1d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
