<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سینیٹ سے نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2025 منظور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282419/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینیٹ نے منگل کے روز نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2025 منظور کر لیا، جس کا مقصد چیئرمین، سیکریٹری اور نجکاری کمیشن کے بورڈ کے اراکین کی تقرری، برطرفی اور مدتِ ملازمت کے اختیارات وفاقی حکومت سے وزیراعظم کو منتقل کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جسے ایوان نے منظور کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کا اجلاس آغا شاہزیب درانی کی صدارت میں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان اجلاس میں موجود نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2025 کے اغراض و مقاصد کے بیان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 90 کی تشریح سپریم کورٹ کی جانب سے اس طرح کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت سے مراد وزیراعظم اور وفاقی وزرا ہیں، جو اجتماعی طور پر کابینہ کہلاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ نجکاری کمیشن آرڈیننس 2000 کے تحت وفاقی حکومت بورڈ کے اراکین کی تعداد، چیئرمین اور سیکریٹری کی سروس کی شرائط، اور چیئرمین، سیکریٹری اور اراکین کی مدتِ عہدہ کا تعین کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق وفاقی حکومت چیئرمین، سیکریٹری یا بورڈ کے کسی بھی رکن کو برطرف بھی کر سکتی ہے، تاہم ان کی تقرری وزیراعظم کرتے ہیں۔ اس لیے یہ تمام اختیارات وزیراعظم کو دیے جا سکتے ہیں، جبکہ اراکین کی مدتِ عہدہ کا تعین قانون میں ہی کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نجکاری کمیشن اس وقت تک نجکاری کا نوٹس شائع نہیں کر سکتا جب تک وفاقی حکومت سے مشاورت نہ کر لے، جو کہ غیر عملی ہے، اور متعلقہ وزارت اور متعلقہ ادارے سے مشاورت کافی ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ پورے آرڈیننس میں وفاقی حکومت اور کابینہ کی اصطلاحات بار بار استعمال ہوئی ہیں، جبکہ سیکشن 16 میں ایک جگہ حکومتِ پاکستان کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے جس کی تصحیح ضروری ہے۔ مزید برآں اب کابینہ اور وفاقی حکومت کی اصطلاحات ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں، اس لیے کابینہ کی جگہ وفاقی حکومت کی اصطلاح لانے کی تجویز ہے۔ ان تمام امور کے لیے آرڈیننس میں ترمیم ضروری ہے، اسی مقصد کے لیے یہ بل پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایک تحریک پیش کی کہ وہسل بلوور پروٹیکشن اینڈ ویجلنس کمیشن بل 2025، جو سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے لیکن مقررہ 90 دنوں میں قومی اسمبلی سے منظور نہیں ہو سکا، اسے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں زیر غور لایا جائے۔ ایوان نے یہ تحریک منظور کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وزیر قانون نے سینیٹ میں دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو ان کی خواہش پر حال ہی میں آنکھوں کے ایک طبی عمل کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ عمل اڈیالہ جیل کے اسپتال میں بھی ممکن تھا، لیکن عمران خان نے خواہش ظاہر کی کہ یہ عمل پمز میں کیا جائے۔ اگر امن و امان کا کوئی مسئلہ نہ ہو تو انہیں شام کے وقت پمز لے جایا جائے۔ ان کا علاج کامیاب رہا اور ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سینیٹ کو بتایا کہ پرتشدد انتہا پسندی کے تدارک کے لیے کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریزم سیل قائم کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پیغامِ امن کمیٹی، جس میں تمام مکاتب فکر کے علما شامل ہیں، امن کے فروغ اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کا اجلاس جمعہ تک ملتوی کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سینیٹ نے منگل کے روز نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2025 منظور کر لیا، جس کا مقصد چیئرمین، سیکریٹری اور نجکاری کمیشن کے بورڈ کے اراکین کی تقرری، برطرفی اور مدتِ ملازمت کے اختیارات وفاقی حکومت سے وزیراعظم کو منتقل کرنا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جسے ایوان نے منظور کر لیا۔</p>
<p>سینیٹ کا اجلاس آغا شاہزیب درانی کی صدارت میں ہوا۔</p>
<p>چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان اجلاس میں موجود نہیں تھے۔</p>
<p>نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2025 کے اغراض و مقاصد کے بیان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 90 کی تشریح سپریم کورٹ کی جانب سے اس طرح کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت سے مراد وزیراعظم اور وفاقی وزرا ہیں، جو اجتماعی طور پر کابینہ کہلاتے ہیں۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ نجکاری کمیشن آرڈیننس 2000 کے تحت وفاقی حکومت بورڈ کے اراکین کی تعداد، چیئرمین اور سیکریٹری کی سروس کی شرائط، اور چیئرمین، سیکریٹری اور اراکین کی مدتِ عہدہ کا تعین کر سکتی ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق وفاقی حکومت چیئرمین، سیکریٹری یا بورڈ کے کسی بھی رکن کو برطرف بھی کر سکتی ہے، تاہم ان کی تقرری وزیراعظم کرتے ہیں۔ اس لیے یہ تمام اختیارات وزیراعظم کو دیے جا سکتے ہیں، جبکہ اراکین کی مدتِ عہدہ کا تعین قانون میں ہی کیا جائے گا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نجکاری کمیشن اس وقت تک نجکاری کا نوٹس شائع نہیں کر سکتا جب تک وفاقی حکومت سے مشاورت نہ کر لے، جو کہ غیر عملی ہے، اور متعلقہ وزارت اور متعلقہ ادارے سے مشاورت کافی ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ پورے آرڈیننس میں وفاقی حکومت اور کابینہ کی اصطلاحات بار بار استعمال ہوئی ہیں، جبکہ سیکشن 16 میں ایک جگہ حکومتِ پاکستان کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے جس کی تصحیح ضروری ہے۔ مزید برآں اب کابینہ اور وفاقی حکومت کی اصطلاحات ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں، اس لیے کابینہ کی جگہ وفاقی حکومت کی اصطلاح لانے کی تجویز ہے۔ ان تمام امور کے لیے آرڈیننس میں ترمیم ضروری ہے، اسی مقصد کے لیے یہ بل پیش کیا گیا۔</p>
<p>وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایک تحریک پیش کی کہ وہسل بلوور پروٹیکشن اینڈ ویجلنس کمیشن بل 2025، جو سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے لیکن مقررہ 90 دنوں میں قومی اسمبلی سے منظور نہیں ہو سکا، اسے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں زیر غور لایا جائے۔ ایوان نے یہ تحریک منظور کر لی۔</p>
<p>دریں اثنا وزیر قانون نے سینیٹ میں دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو ان کی خواہش پر حال ہی میں آنکھوں کے ایک طبی عمل کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جایا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ عمل اڈیالہ جیل کے اسپتال میں بھی ممکن تھا، لیکن عمران خان نے خواہش ظاہر کی کہ یہ عمل پمز میں کیا جائے۔ اگر امن و امان کا کوئی مسئلہ نہ ہو تو انہیں شام کے وقت پمز لے جایا جائے۔ ان کا علاج کامیاب رہا اور ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔</p>
<p>وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سینیٹ کو بتایا کہ پرتشدد انتہا پسندی کے تدارک کے لیے کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریزم سیل قائم کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پیغامِ امن کمیٹی، جس میں تمام مکاتب فکر کے علما شامل ہیں، امن کے فروغ اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہے۔</p>
<p>سینیٹ کا اجلاس جمعہ تک ملتوی کر دیا گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282419</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Feb 2026 09:21:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سردار سکندر شاہین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/04091943059116c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/04091943059116c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
