<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:13:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:13:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تجارت یا پسپائی؟ بھارتی اپوزیشن نے امریکا، بھارت معاہدے کا پاکستان سیزفائر سے موازنہ کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282410/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی نیشنل کانگریس نے امریکا اور بھارت کے تجارتی معاہدے کے حوالے سے حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور اسے پاکستان کے سیزفائر جیسے غیر شفاف سودے سے تشبیہ دی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت معاہدے کی تفصیلات عوام کے ساتھ پیش کرے اور اعتماد میں لے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت کو عملی طور پر امریکی کالونی بنا دے گا، کیونکہ امریکی مصنوعات پر بھارت صفر ٹیکس عائد کرے گا جبکہ بھارتی اشیاء پر امریکی ٹیکس 18 فیصد تک رہے گا۔ مزید یہ کہ اس سے مقامی صنعت، زرعی شعبہ اور چھوٹے کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں اور ”میک ان انڈیا“ جیسے منصوبوں کے اہداف خطرے میں آ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ روزگار بڑھانے، معیشت میں ترقی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جدت لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی ٹیکس بھارت کے لیے 18 فیصد ہو جائے گا اور بھارت امریکی مصنوعات پر صفر ٹیکس لگائے گا، جبکہ بھارت نے روسی تیل کی خریداری روکنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/narendramodi/status/2018377090840830101'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/narendramodi/status/2018377090840830101"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پچھلے سال اگست میں تجارتی مذاکرات ناکام ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے بھارتی اشیاء پر ٹیکس کی شرح دگنی کر کے 50 فیصد کر دی تھی، جو عالمی سطح پر سب سے زیادہ تھی۔ اس میں 25 فیصد کا جوابی ٹیکس بھی شامل تھا، جو بھارت کی روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے کے سبب عائد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی معاہدے کے اعلان پر کانگریس نے کہا ہے کہ ”بالکل سیزفائر کی طرح، تجارتی معاہدے کا اعلان بھی امریکی صدر ٹرمپ نے کیا ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ ’ مودی کی درخواست پر‘ کیا جا رہا ہے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/INCIndia/status/2018513580820435228'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/INCIndia/status/2018513580820435228"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کئی روز کی کشمکش کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کا اعلان صدر ٹرمپ نے 10 مئی 2025 کو کیا تھا۔ صدر نے کہا کہ بھارت اور پاکستان نے ”مکمل اور فوری سیز فائر“ پر اتفاق کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے فوجی ٹھکانوں پر حملے اور جوابی کارروائیاں کی تھیں۔ اس اقدام پر بھارت میں سخت بحث اور تنقید ہوئی، جبکہ پاکستان نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکمران بی جے پی حکومت پر شدید تنقید کی ہے کہ اس نے امریکہ کے خلاف ٹیرف اور نان‑ٹیرف رکاوٹوں کو صفر کر دیا ہے، جس سے ہندوستانی مارکیٹ مکمل طور پر امریکہ کے لیے کھل گئی ہے اور اس کے صنعت، تاجروں اور کسانوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریس نے سوال اٹھایا کہ آیا زرعی شعبہ بھی امریکہ کے لیے کھول دیا گیا ہے اور ہمارے کسانوں کے مفادات و سلامتی کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن نے یہ بھی حیرت ظاہر کی کہ کیا مودی حکومت نے روس سے تیل نہ خریدنے اور بدلے میں امریکہ اور وینیزویلا سے خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، اور مزید امریکی اشیاء خریدنے کے ارادے کو ‘Make in India’ کے مقصد کے ساتھ کیسے جوڑا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریس نے زور دیا کہ بھارت کو تجارتی معاہدے کی مکمل تفصیلات جاننے کا حق ہے اور حکومت کو پارلیمنٹ اور پوری قوم کو اعتماد میں لے کر تفصیلات شیئر کرنی چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریس کے کیرالہ شاخ نے ٹویٹ کیا: ”سادہ لفظوں میں، ہم ایک امریکی کالونی ہوں گے۔ امریکی مصنوعات پر 18 فیصد ٹیرف ہو گا جبکہ ہم ان کی مصنوعات پر 0 فیصد لگائیں گے۔ مودی استعفیٰ دیں اور چلے جائیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ مودی نے اپنے دوست اور خود کو جیل سے بچانے کے لیے بھارت کی خودمختاری امریکہ کے سپرد کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/INCKerala/status/2018525229577064894'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/INCKerala/status/2018525229577064894"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/INCKerala/status/2018384800185528812'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/INCKerala/status/2018384800185528812"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;”یہ ملک کے لیے سب سے ذلت آمیز لمحہ ہے۔ بغیر لڑائی کے مکمل ہتھیار ڈال دیے!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریس کے جنرل سکریٹری برائے کمیونیکیشن جے رام رامیش نے کہا کہ تقریباً ایک سال قبل وزیرِ اعظم مودی صدر ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب پر ان کا استقبال کرنے وائٹ ہاؤس پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”ان کی مشہور ’ہگلومیسی‘ پوری طرح عیاں تھی۔ بھارت اور امریکہ کے تعلقات کبھی اتنے روشن نہیں لگے تھے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رامیش نے مئی 2025 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں صدر ٹرمپ کی مداخلت اور موجودہ تجارتی معاہدے کے درمیان متوازی صورتحال کی طرف اشارہ کیا، اور کہا کہ جیسے اس وقت بھارت نے غیر ملکی دباؤ کے سامنے مکمل سرنڈر کیا، اسی طرح موجودہ تجارتی معاہدے میں بھی مودی حکومت نے ملک کی خودمختاری پر سمجھوتہ کر کے امریکہ کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Jairam_Ramesh/status/2018538773538038202'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Jairam_Ramesh/status/2018538773538038202"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رامیش نے مزید کہا کہ ”جب سے صدر ٹرمپ نے 10 مئی 2025 کی شام آپریشن سندور کو روکنے کا پہلا اعلان کیا، حالات بگڑنے لگے۔“ انہوں نے بتایا کہ بعد میں صدر ٹرمپ نے پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا جوش و خروش سے استقبال کیا، جس سے مودی کی مشہور ‘ہگلومیسی’ کی خالی پن واضح ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا  کہ ”صدر ٹرمپ نے تجارتی معاہدے کا اعلان بھارتی وقت کے مطابق کل رات دیر سے کیا۔ فراہم کردہ معلومات سے واضح ہے کہ وزیرِ اعظم مودی نے - بالکل 10 مئی 2025 کی طرح - مکمل طور پر سر جھکا دیا ہے۔ انہوں نے بلا شبہ صدر ٹرمپ کو خوش کیا۔ اس افسوسناک سلسلے کی وجہ سے بھارت کمزور اور ذلیل نظر آتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن رہنما نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ای یو اور امریکہ کے تجارتی معاہدوں کی تحریریں پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کی جائیں، خاص طور پر جب امریکی سیکریٹری آف ایگریکلچر بروک رولنز نے بیان جاری کیا کہ بھارت نے امریکہ سے زرعی درآمدات کو آزاد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/DrSJaishankar/status/2018404387425808784'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DrSJaishankar/status/2018404387425808784"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، بھارت کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے وزیرِ اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان بات چیت کے بعد دو طرفہ تجارتی اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” یہ اقدام روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا اور دونوں معیشتوں میں جدت کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ یہ ‘Make in India’ کے منصوبوں کو مضبوط کرے گا اور قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی شراکت داری کو فروغ دے گا۔ ہمارے معاشی تعلقات میں مواقع بے حد وسیع ہیں اور ہمیں ان کے حصول پر مکمل اعتماد ہے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی نیشنل کانگریس نے امریکا اور بھارت کے تجارتی معاہدے کے حوالے سے حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور اسے پاکستان کے سیزفائر جیسے غیر شفاف سودے سے تشبیہ دی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت معاہدے کی تفصیلات عوام کے ساتھ پیش کرے اور اعتماد میں لے۔</strong></p>
<p>کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت کو عملی طور پر امریکی کالونی بنا دے گا، کیونکہ امریکی مصنوعات پر بھارت صفر ٹیکس عائد کرے گا جبکہ بھارتی اشیاء پر امریکی ٹیکس 18 فیصد تک رہے گا۔ مزید یہ کہ اس سے مقامی صنعت، زرعی شعبہ اور چھوٹے کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں اور ”میک ان انڈیا“ جیسے منصوبوں کے اہداف خطرے میں آ سکتے ہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس، وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ روزگار بڑھانے، معیشت میں ترقی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جدت لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی ٹیکس بھارت کے لیے 18 فیصد ہو جائے گا اور بھارت امریکی مصنوعات پر صفر ٹیکس لگائے گا، جبکہ بھارت نے روسی تیل کی خریداری روکنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/narendramodi/status/2018377090840830101'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/narendramodi/status/2018377090840830101"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ معاہدہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پچھلے سال اگست میں تجارتی مذاکرات ناکام ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے بھارتی اشیاء پر ٹیکس کی شرح دگنی کر کے 50 فیصد کر دی تھی، جو عالمی سطح پر سب سے زیادہ تھی۔ اس میں 25 فیصد کا جوابی ٹیکس بھی شامل تھا، جو بھارت کی روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے کے سبب عائد کیا گیا تھا۔</p>
<p>تجارتی معاہدے کے اعلان پر کانگریس نے کہا ہے کہ ”بالکل سیزفائر کی طرح، تجارتی معاہدے کا اعلان بھی امریکی صدر ٹرمپ نے کیا ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ ’ مودی کی درخواست پر‘ کیا جا رہا ہے۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/INCIndia/status/2018513580820435228'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/INCIndia/status/2018513580820435228"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کئی روز کی کشمکش کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کا اعلان صدر ٹرمپ نے 10 مئی 2025 کو کیا تھا۔ صدر نے کہا کہ بھارت اور پاکستان نے ”مکمل اور فوری سیز فائر“ پر اتفاق کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے فوجی ٹھکانوں پر حملے اور جوابی کارروائیاں کی تھیں۔ اس اقدام پر بھارت میں سخت بحث اور تنقید ہوئی، جبکہ پاکستان نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا۔</p>
<p>بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکمران بی جے پی حکومت پر شدید تنقید کی ہے کہ اس نے امریکہ کے خلاف ٹیرف اور نان‑ٹیرف رکاوٹوں کو صفر کر دیا ہے، جس سے ہندوستانی مارکیٹ مکمل طور پر امریکہ کے لیے کھل گئی ہے اور اس کے صنعت، تاجروں اور کسانوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p>کانگریس نے سوال اٹھایا کہ آیا زرعی شعبہ بھی امریکہ کے لیے کھول دیا گیا ہے اور ہمارے کسانوں کے مفادات و سلامتی کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا گیا ہے۔</p>
<p>اپوزیشن نے یہ بھی حیرت ظاہر کی کہ کیا مودی حکومت نے روس سے تیل نہ خریدنے اور بدلے میں امریکہ اور وینیزویلا سے خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، اور مزید امریکی اشیاء خریدنے کے ارادے کو ‘Make in India’ کے مقصد کے ساتھ کیسے جوڑا جائے گا۔</p>
<p>کانگریس نے زور دیا کہ بھارت کو تجارتی معاہدے کی مکمل تفصیلات جاننے کا حق ہے اور حکومت کو پارلیمنٹ اور پوری قوم کو اعتماد میں لے کر تفصیلات شیئر کرنی چاہئیں۔</p>
<p>کانگریس کے کیرالہ شاخ نے ٹویٹ کیا: ”سادہ لفظوں میں، ہم ایک امریکی کالونی ہوں گے۔ امریکی مصنوعات پر 18 فیصد ٹیرف ہو گا جبکہ ہم ان کی مصنوعات پر 0 فیصد لگائیں گے۔ مودی استعفیٰ دیں اور چلے جائیں۔“</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ مودی نے اپنے دوست اور خود کو جیل سے بچانے کے لیے بھارت کی خودمختاری امریکہ کے سپرد کر دی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/INCKerala/status/2018525229577064894'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/INCKerala/status/2018525229577064894"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/INCKerala/status/2018384800185528812'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/INCKerala/status/2018384800185528812"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>”یہ ملک کے لیے سب سے ذلت آمیز لمحہ ہے۔ بغیر لڑائی کے مکمل ہتھیار ڈال دیے!“</p>
<p>کانگریس کے جنرل سکریٹری برائے کمیونیکیشن جے رام رامیش نے کہا کہ تقریباً ایک سال قبل وزیرِ اعظم مودی صدر ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب پر ان کا استقبال کرنے وائٹ ہاؤس پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”ان کی مشہور ’ہگلومیسی‘ پوری طرح عیاں تھی۔ بھارت اور امریکہ کے تعلقات کبھی اتنے روشن نہیں لگے تھے۔“</p>
<p>رامیش نے مئی 2025 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں صدر ٹرمپ کی مداخلت اور موجودہ تجارتی معاہدے کے درمیان متوازی صورتحال کی طرف اشارہ کیا، اور کہا کہ جیسے اس وقت بھارت نے غیر ملکی دباؤ کے سامنے مکمل سرنڈر کیا، اسی طرح موجودہ تجارتی معاہدے میں بھی مودی حکومت نے ملک کی خودمختاری پر سمجھوتہ کر کے امریکہ کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Jairam_Ramesh/status/2018538773538038202'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Jairam_Ramesh/status/2018538773538038202"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رامیش نے مزید کہا کہ ”جب سے صدر ٹرمپ نے 10 مئی 2025 کی شام آپریشن سندور کو روکنے کا پہلا اعلان کیا، حالات بگڑنے لگے۔“ انہوں نے بتایا کہ بعد میں صدر ٹرمپ نے پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا جوش و خروش سے استقبال کیا، جس سے مودی کی مشہور ‘ہگلومیسی’ کی خالی پن واضح ہو گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا  کہ ”صدر ٹرمپ نے تجارتی معاہدے کا اعلان بھارتی وقت کے مطابق کل رات دیر سے کیا۔ فراہم کردہ معلومات سے واضح ہے کہ وزیرِ اعظم مودی نے - بالکل 10 مئی 2025 کی طرح - مکمل طور پر سر جھکا دیا ہے۔ انہوں نے بلا شبہ صدر ٹرمپ کو خوش کیا۔ اس افسوسناک سلسلے کی وجہ سے بھارت کمزور اور ذلیل نظر آتا ہے۔“</p>
<p>اپوزیشن رہنما نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ای یو اور امریکہ کے تجارتی معاہدوں کی تحریریں پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کی جائیں، خاص طور پر جب امریکی سیکریٹری آف ایگریکلچر بروک رولنز نے بیان جاری کیا کہ بھارت نے امریکہ سے زرعی درآمدات کو آزاد کر دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/DrSJaishankar/status/2018404387425808784'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DrSJaishankar/status/2018404387425808784"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب، بھارت کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے وزیرِ اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان بات چیت کے بعد دو طرفہ تجارتی اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” یہ اقدام روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا اور دونوں معیشتوں میں جدت کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ یہ ‘Make in India’ کے منصوبوں کو مضبوط کرے گا اور قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی شراکت داری کو فروغ دے گا۔ ہمارے معاشی تعلقات میں مواقع بے حد وسیع ہیں اور ہمیں ان کے حصول پر مکمل اعتماد ہے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282410</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Feb 2026 18:46:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/031727178786f20.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/031727178786f20.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
