<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بکھرتا ہوا عالمی نظام اور پاکستان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282403/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عالمی تجارت کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے۔ آج ہم جس صورتحال کا مشاہدہ کر رہے ہیں یہ کوئی اچانک آنے والی تبدیلی نہیں بلکہ ان دراڑوں کا نتیجہ ہے جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے گہری ہو رہی تھیں۔ غزہ، یوکرین یا حالیہ ٹیرف (محصولات) کی دھمکیوں سے بہت پہلے ہی نام نہاد  قواعد پر مبنی تجارتی نظام تزویراتی مقابلے، انتخابی تعمیل اور بڑی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کے بوجھ تلے لڑکھڑانا شروع ہو گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ فرق اہمیت رکھتا ہے۔ عالمی نظام بتدریج ختم ہوا ہے جبکہ ترقی پذیر معیشتیں اس مفروضے پر اپنی منصوبہ بندی کرتی رہیں کہ کثیر جہتی تجارتی قوانین اب بھی انہیں طاقت کی سیاست کے خلاف تحفظ فراہم کریں گے۔ اب یہ مفروضہ تیزی سے ناقابلِ عمل ہوتا نظر آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی انتباہی علامات واضح تھیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیوٹی او ) کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کا مفلوج ہونا، یکطرفہ ٹیرف میں مسلسل اضافہ، پابندیوں کا معمول بننا اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کا بڑھتا ہوا استعمال یہ سب ایک دباؤ کے شکار نظام کی نشاندہی کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں جو تبدیلی آئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ دراڑیں اب ایک وسیع تر بالادستی کی جنگ میں بدل چکی ہیں، جہاں منصوبہ بندی کے ساتھ  برتری حاصل کرنے کے لیے معاشی آلات کو کھلے عام استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ماحول میں تجارت اب قوانین کے تابع نہیں رہی بلکہ حریفوں کی کشمکش سے تشکیل پا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے حالیہ اجلاس نے اس تبدیلی کو واضح طور پر ظاہر کیا۔ اگرچہ تعاون کی زبان برقرار رہی  لیکن اندرونی لہجہ بالکل مختلف تھا۔ اتفاقِ رائے کی کوئی خواہش نہیں تھی اور سمجھوتے کے لیے صبر و تحمل کی شدید کمی تھی۔ کینیڈا کو چین سے منسلک تجارت پر امریکہ کی طرف سے تادیبی ٹیرف کی دھمکیاں اور صنعتی پالیسی و پلانٹڈ صف بندی پر یورپ کو دیے گئے سخت پیغامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پرانے مفروضے کس حد تک ختم ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رویہ کوئی اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک گہری حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، عالمی تجارت اب معاشی اور ٹیکنالوجیکل برتری کی جنگ میں الجھ چکی ہے۔ مینوفیکچرنگ، سپلائی چین اور ٹیکنالوجی میں چین کے عروج نے توازن بدل دیا ہے۔ امریکی ردعمل یہ رہا ہے کہ اس نے اپنی ہی  آزاد تجارت کی روایت کو چھوڑ کر اس کی جگہ صنعتی سبسڈی، برآمدی کنٹرول اور انتخابی تحفظ پسندی کو دے دی ہے۔ یورپ جو انحصار اور خودمختاری کے درمیان پھنسا ہوا ہے  بڑی احتیاط سے اپنی ترجیحات دوبارہ طے کر رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا مستقل متغیر ہے جہاں عدم استحکام تیزی سے براعظموں میں معاشی جھٹکے منتقل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ معروف ماہرِ سیاسیات پروفیسر جان میئر شائمر کے دیرینہ استدلال سے مطابقت رکھتا ہے کہ ”ایک انارکی کے شکار بین الاقوامی نظام میں بڑی طاقتیں شائستگی سے مقابلہ نہیں کرتیں۔ وہ جہاں ممکن ہو غلبہ حاصل کرنا چاہتی ہیں  جہاں ضروری ہو اپنا بچاؤ کرتی ہیں اور نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے تجارت سمیت ہر دستیاب آلے کا استعمال کرتی ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تجارت بطور پالیسی ایک ہتھیار:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج تجارتی پالیسی مخصوص مفادات کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ٹیرف شراکت داروں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لیے ہیں، پابندیاں مارکیٹوں کی نئی تشکیل کر رہی ہیں اور ٹیکنالوجی پر پابندیاں حریفوں کی رفتار سست کر رہی ہیں۔سپلائی چین اب کارکردگی کے بجائے  لچک اور بچاؤ کے لیے ڈیزائن کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی کل شروع نہیں ہوئی بلکہ یہ مسلسل بڑھ رہی ہے جس کا نتیجہ ایک بکھری ہوئی عالمی معیشت کی صورت میں نکلا ہے جہاں منڈیوں اور یہاں تک کہ مالیات تک رسائی بھی تیزی سے شرائط کے تابع ہو رہی ہے۔ وہ لبرل وعدہ کہ تجارت ایک غیر جانبدار اور سیاست سے پاک قوت کے طور پر کام کرے گی اب حقیقت کے سامنے دم توڑ چکا ہے۔ ایسی معیشتوں کے لیے جن کے پاس محدود تنوع اور کمزور مسابقت ہے یہ ماحول انتہائی سنگدلانہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان عالمی انتشار کے اس مرحلے میں محدود دفاعی وسائل کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ پاکستان کی اہمیت بالکل ختم ہوگئی ہے۔ جغرافیہ، آبادی کا حجم اور علاقائی نقل وحمل اب بھی اسے اہمیت فراہم کرتی ہیں۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان کی معاشی ساکھ بدلتے ہوئے عالمی نظام کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکی۔ ایسی دنیا میں جہاں تجارتی تعلقات پیداوری صلاحیت، ویلیو ایڈیشن اور اسٹریٹجک افادیت سے طے پاتے ہیں پاکستان کی محدود برآمدات اور درآمدات پر مسلسل انحصار اسے خطرات سے دوچار کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمزوری اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ مانیٹری پالیسی میں بھی جھلکتی ہے۔ پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھ کر  مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مہنگائی میں کمی کے باوجود احتیاط کا اشارہ دیا ہے۔ اگرچہ مہنگائی کم ہو کر 5.6 فیصد پر آ گئی ہے لیکن بنیادی  مہنگائی اب بھی 7.4 فیصد پر ہے، جو غیر حل شدہ ڈھانچہ جاتی دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کی یہ احتیاط بجا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال محض عارضی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے توانائی کے اخراجات، سپلائی کا کمزور ردعمل، مالیاتی بے ضابطگیاں اور درآمدی انحصار جیسے عوامل ہیں۔ ایسے حالات میں مانیٹری پالیسی میں ضرورت سے زیادہ نرمی پائیدار ترقی پیدا کرنے کے بجائے بیرونی خطرات کو دوبارہ جنم دے سکتی ہے۔ یہ خطرات پہلے ہی تجارتی اعداد و شمار میں واضح ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تجارتی عدم توازن اور ڈھانچہ جاتی حدود:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 34.6 فیصد اضافے کے ساتھ 19.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 14.3 ارب ڈالر تھا۔ برآمدات تقریباً 9 فیصد کم ہو کر 15.2 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ درآمدات 34.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہ نمونہ گہری ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی برآمدات تاحال جمود کا شکار ہیں۔ کرنسی کی قدر میں تبدیلی اور قلیل مدتی مراعات سے بہت کم فائدہ ہو رہا ہے۔ برآمدات اب بھی کم قیمت والی ٹیکسٹائل مصنوعات اور خام مال پر مشتمل ہیں اور ہائی ٹیک یا اعلیٰ قیمت والے شعبوں میں ہماری رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں حالیہ 6.01 فیصد اضافہ صرف جزوی اطمینان فراہم کرتا ہے۔ اس بحالی کا زیادہ تر انحصار مقامی کھپت بالخصوص گاڑیوں اور پیٹرولیم کے شعبوں پر ہے، جس سے برآمدی صلاحیت یا زرمبادلہ کے ذخائر میں کوئی بڑا اضافہ نہیں ہوتا۔ ایک ایسی عالمی معیشت میں جہاں تجارت تک رسائی تیزی سے سیاسی رنگ اختیار کر رہی ہے ایسا معاشی ڈھانچہ خطرناک ہے۔ ماہانہ 6 ارب ڈالر سے زائد کی درآمدات اور صرف 2.3 ارب ڈالر کی برآمدات پائیدار نہیں ہیں خاص طور پر جب سرمائے کی نقل و حرکت غیر مستحکم اور جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھ رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نازک معاشی استحکام کا بیانیہ:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میکرو اکنامک استحکام کو اکثر ایک کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مہنگائی کم ہوئی ہے، ذخائر مستحکم ہوئے ہیں اور شرحِ مبادلہ میں اتار چڑھاؤ کم ہوا ہے۔ یہ کامیابیاں حقیقت ہیں لیکن یہ تاحال نازک ہیں۔ استحکام زیادہ تر قرضوں کی واپسی میں تاخیر، مؤخر ادائیگیوں اور بیرونی امداد کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔ اس مالی سال میں 25.7 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے ساتھ پاکستان کے پاس غلطی کی گنجائش بہت کم ہے۔ عالمی ادارے اور دوست ممالک ہمیں سانس لینے کی مہلت تو دے سکتے ہیں لیکن مستقل تحفظ نہیں۔ ایسی دنیا میں جہاں معاشی امداد اب مکمل طور پر لین دین  بن چکی ہے، بحرانوں کے بار بار آنے والے چکروں کے لیے صبر اب ختم ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جیو پولیٹکس اور محدود انتخاب:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی بیرونی معاشی پوزیشن چین، خلیجی ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے درمیان ایک نازک توازن پر قائم ہے۔ چین ایک طویل مدتی شراکت دار ہے لیکن اس کی فنانسنگ اب زیادہ انتخابی اور تجارتی نوعیت کی ہو گئی ہے۔ خلیجی ممالک کے تعاون نے استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن یہ وقتی اور زیادہ تر قلیل مدتی ہے۔ آئی ایم ایف ڈسپلن اور ساکھ تو فراہم کرتا ہے لیکن اس کی قیمت پالیسی سازی میں محدود لچک کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ یہ صورتحال اسٹریٹجک خودمختاری کو محدود کرتی ہے اور اس حقیقت کو پختہ کرتی ہے کہ پائیدار معاشی استحکام باہر سے ادھار نہیں لیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکیورٹی سے پیداواری صلاحیت تک:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر پاکستان کا چیلنج داخلی ہے۔ ریاست کی سیکیورٹی اور قلیل مدتی کنٹرول پر تاریخی توجہ، پیداواری صلاحیت اور مسابقت کی قیمت پر رہی ہے۔ یہ ماڈل شاید ایک زیادہ سازگار عالمی ماحول میں زندہ رہ سکتا تھا لیکن یہ اس دنیا کے لیے اب بالکل غیر موزوں ہے جہاں معاشی صلاحیت ہی آپ کی فیصلہ کن اہمیت کا تعین کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پیداواری ریاست کی طرف منتقلی اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ ناگزیر ہے۔ اس کے لیے توانائی کے اخراجات کو کم کرنا، نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کی اصلاح، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے جو صنعت کاری کی راہ میں حائل ہیں۔ مانیٹری ڈسپلن اگرچہ ضروری ہے لیکن وہ سپلائی سائیڈ کی کمزوریوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نتیجہ:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی تجارتی نظام وقت کے ساتھ کھوکھلا ہو چکا ہے اور اب معاشی اور اسٹریٹجک غلبے کی کھلی جدوجہد میں ضم ہو چکا ہے۔ قوانین کی جگہ طاقت نے اور کثیر جہتی نظام کی جگہ  انتخابی تعمیل نے لے لی ہے۔ تجارت اب کوئی غیر جانبدار پلیٹ فارم نہیں رہا، یہ اب طاقت، اتحاد اور صلاحیت سے طے ہونے والا ایک میدانِ جنگ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے  یہ تبدیلی غلطی کی گنجائش کو کم کر دیتی ہے۔ قابلِ پیش گوئی تجارتی قوانین اور بیرونی تحفظ کے نیٹ ورکس سے ملنے والا سکون اب ماضی کا حصہ ہے۔ ادھار کی بنیاد پر حاصل کیا گیا استحکام صرف وقت خرید سکتا ہے لیکن یہ بنیادی حقائق کو تبدیل نہیں کرتا۔ مانیٹری سختی فوری گراوٹ کو تو روک سکتی ہے، لیکن یہ پیداواری صلاحیت، برآمدی اہمیت یا مسابقت کا متبادل نہیں ہو سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا مستقبل کے لیے انتخاب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہیں۔ پاکستان کو اپنی معاشی بنیادوں کو ایک ایسی دنیا کے مطابق ڈھالنا ہوگا جہاں دعوؤں کے مقابلے میں صلاحیت اور نعروں کے مقابلے میں لچک زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے لیے سیکیورٹی پر مبنی فریم ورک سے نکل کر پیداواری صلاحیت پر مبنی فریم ورک کی طرف فیصلہ کن پیش رفت کی ضرورت ہے، جہاں توانائی کی قیمتیں، صنعتی مسابقت، برآمدی تنوع اور اداروں کی ساکھ کو تکنیکی مسائل کے بجائے فیصلہ کن ترجیحات کے طور پر تسلیم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی طاقتوں کی کشمکش کے عالمی ماحول میں جو ممالک اپنی داخلی معاشی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں ناکام رہتے ہیں وہ صرف ترقی ہی نہیں کھوتے بلکہ اپنی بات منوانے کی طاقت بھی کھو دیتے ہیں۔ پاکستان کا چیلنج اب ایک ایسے نظام میں راستہ تلاش کرنا نہیں جو ختم ہو رہا ہے بلکہ ایک ایسے  طاقت پر مبنی نظام  میں اپنی جگہ بنانا ہے جو دستک دے چکا ہے۔تبدیلی کا موقع اب بھی موجود ہے لیکن یہ ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عالمی تجارت کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے۔ آج ہم جس صورتحال کا مشاہدہ کر رہے ہیں یہ کوئی اچانک آنے والی تبدیلی نہیں بلکہ ان دراڑوں کا نتیجہ ہے جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے گہری ہو رہی تھیں۔ غزہ، یوکرین یا حالیہ ٹیرف (محصولات) کی دھمکیوں سے بہت پہلے ہی نام نہاد  قواعد پر مبنی تجارتی نظام تزویراتی مقابلے، انتخابی تعمیل اور بڑی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کے بوجھ تلے لڑکھڑانا شروع ہو گیا تھا۔</strong></p>
<p>پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ فرق اہمیت رکھتا ہے۔ عالمی نظام بتدریج ختم ہوا ہے جبکہ ترقی پذیر معیشتیں اس مفروضے پر اپنی منصوبہ بندی کرتی رہیں کہ کثیر جہتی تجارتی قوانین اب بھی انہیں طاقت کی سیاست کے خلاف تحفظ فراہم کریں گے۔ اب یہ مفروضہ تیزی سے ناقابلِ عمل ہوتا نظر آ رہا ہے۔</p>
<p>ابتدائی انتباہی علامات واضح تھیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیوٹی او ) کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کا مفلوج ہونا، یکطرفہ ٹیرف میں مسلسل اضافہ، پابندیوں کا معمول بننا اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کا بڑھتا ہوا استعمال یہ سب ایک دباؤ کے شکار نظام کی نشاندہی کر رہے تھے۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں جو تبدیلی آئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ دراڑیں اب ایک وسیع تر بالادستی کی جنگ میں بدل چکی ہیں، جہاں منصوبہ بندی کے ساتھ  برتری حاصل کرنے کے لیے معاشی آلات کو کھلے عام استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ماحول میں تجارت اب قوانین کے تابع نہیں رہی بلکہ حریفوں کی کشمکش سے تشکیل پا رہی ہے۔</p>
<p>ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے حالیہ اجلاس نے اس تبدیلی کو واضح طور پر ظاہر کیا۔ اگرچہ تعاون کی زبان برقرار رہی  لیکن اندرونی لہجہ بالکل مختلف تھا۔ اتفاقِ رائے کی کوئی خواہش نہیں تھی اور سمجھوتے کے لیے صبر و تحمل کی شدید کمی تھی۔ کینیڈا کو چین سے منسلک تجارت پر امریکہ کی طرف سے تادیبی ٹیرف کی دھمکیاں اور صنعتی پالیسی و پلانٹڈ صف بندی پر یورپ کو دیے گئے سخت پیغامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پرانے مفروضے کس حد تک ختم ہو چکے ہیں۔</p>
<p>یہ رویہ کوئی اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک گہری حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، عالمی تجارت اب معاشی اور ٹیکنالوجیکل برتری کی جنگ میں الجھ چکی ہے۔ مینوفیکچرنگ، سپلائی چین اور ٹیکنالوجی میں چین کے عروج نے توازن بدل دیا ہے۔ امریکی ردعمل یہ رہا ہے کہ اس نے اپنی ہی  آزاد تجارت کی روایت کو چھوڑ کر اس کی جگہ صنعتی سبسڈی، برآمدی کنٹرول اور انتخابی تحفظ پسندی کو دے دی ہے۔ یورپ جو انحصار اور خودمختاری کے درمیان پھنسا ہوا ہے  بڑی احتیاط سے اپنی ترجیحات دوبارہ طے کر رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا مستقل متغیر ہے جہاں عدم استحکام تیزی سے براعظموں میں معاشی جھٹکے منتقل کر سکتا ہے۔</p>
<p>جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ معروف ماہرِ سیاسیات پروفیسر جان میئر شائمر کے دیرینہ استدلال سے مطابقت رکھتا ہے کہ ”ایک انارکی کے شکار بین الاقوامی نظام میں بڑی طاقتیں شائستگی سے مقابلہ نہیں کرتیں۔ وہ جہاں ممکن ہو غلبہ حاصل کرنا چاہتی ہیں  جہاں ضروری ہو اپنا بچاؤ کرتی ہیں اور نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے تجارت سمیت ہر دستیاب آلے کا استعمال کرتی ہیں۔“</p>
<p><strong>تجارت بطور پالیسی ایک ہتھیار:</strong></p>
<p>آج تجارتی پالیسی مخصوص مفادات کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ٹیرف شراکت داروں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لیے ہیں، پابندیاں مارکیٹوں کی نئی تشکیل کر رہی ہیں اور ٹیکنالوجی پر پابندیاں حریفوں کی رفتار سست کر رہی ہیں۔سپلائی چین اب کارکردگی کے بجائے  لچک اور بچاؤ کے لیے ڈیزائن کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>یہ تبدیلی کل شروع نہیں ہوئی بلکہ یہ مسلسل بڑھ رہی ہے جس کا نتیجہ ایک بکھری ہوئی عالمی معیشت کی صورت میں نکلا ہے جہاں منڈیوں اور یہاں تک کہ مالیات تک رسائی بھی تیزی سے شرائط کے تابع ہو رہی ہے۔ وہ لبرل وعدہ کہ تجارت ایک غیر جانبدار اور سیاست سے پاک قوت کے طور پر کام کرے گی اب حقیقت کے سامنے دم توڑ چکا ہے۔ ایسی معیشتوں کے لیے جن کے پاس محدود تنوع اور کمزور مسابقت ہے یہ ماحول انتہائی سنگدلانہ ہے۔</p>
<p>پاکستان عالمی انتشار کے اس مرحلے میں محدود دفاعی وسائل کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ پاکستان کی اہمیت بالکل ختم ہوگئی ہے۔ جغرافیہ، آبادی کا حجم اور علاقائی نقل وحمل اب بھی اسے اہمیت فراہم کرتی ہیں۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان کی معاشی ساکھ بدلتے ہوئے عالمی نظام کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکی۔ ایسی دنیا میں جہاں تجارتی تعلقات پیداوری صلاحیت، ویلیو ایڈیشن اور اسٹریٹجک افادیت سے طے پاتے ہیں پاکستان کی محدود برآمدات اور درآمدات پر مسلسل انحصار اسے خطرات سے دوچار کر دیتا ہے۔</p>
<p>یہ کمزوری اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ مانیٹری پالیسی میں بھی جھلکتی ہے۔ پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھ کر  مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مہنگائی میں کمی کے باوجود احتیاط کا اشارہ دیا ہے۔ اگرچہ مہنگائی کم ہو کر 5.6 فیصد پر آ گئی ہے لیکن بنیادی  مہنگائی اب بھی 7.4 فیصد پر ہے، جو غیر حل شدہ ڈھانچہ جاتی دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک کی یہ احتیاط بجا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال محض عارضی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے توانائی کے اخراجات، سپلائی کا کمزور ردعمل، مالیاتی بے ضابطگیاں اور درآمدی انحصار جیسے عوامل ہیں۔ ایسے حالات میں مانیٹری پالیسی میں ضرورت سے زیادہ نرمی پائیدار ترقی پیدا کرنے کے بجائے بیرونی خطرات کو دوبارہ جنم دے سکتی ہے۔ یہ خطرات پہلے ہی تجارتی اعداد و شمار میں واضح ہیں۔</p>
<p><strong>تجارتی عدم توازن اور ڈھانچہ جاتی حدود:</strong></p>
<p>مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 34.6 فیصد اضافے کے ساتھ 19.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 14.3 ارب ڈالر تھا۔ برآمدات تقریباً 9 فیصد کم ہو کر 15.2 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ درآمدات 34.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہ نمونہ گہری ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی برآمدات تاحال جمود کا شکار ہیں۔ کرنسی کی قدر میں تبدیلی اور قلیل مدتی مراعات سے بہت کم فائدہ ہو رہا ہے۔ برآمدات اب بھی کم قیمت والی ٹیکسٹائل مصنوعات اور خام مال پر مشتمل ہیں اور ہائی ٹیک یا اعلیٰ قیمت والے شعبوں میں ہماری رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔</p>
<p>بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں حالیہ 6.01 فیصد اضافہ صرف جزوی اطمینان فراہم کرتا ہے۔ اس بحالی کا زیادہ تر انحصار مقامی کھپت بالخصوص گاڑیوں اور پیٹرولیم کے شعبوں پر ہے، جس سے برآمدی صلاحیت یا زرمبادلہ کے ذخائر میں کوئی بڑا اضافہ نہیں ہوتا۔ ایک ایسی عالمی معیشت میں جہاں تجارت تک رسائی تیزی سے سیاسی رنگ اختیار کر رہی ہے ایسا معاشی ڈھانچہ خطرناک ہے۔ ماہانہ 6 ارب ڈالر سے زائد کی درآمدات اور صرف 2.3 ارب ڈالر کی برآمدات پائیدار نہیں ہیں خاص طور پر جب سرمائے کی نقل و حرکت غیر مستحکم اور جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھ رہے ہوں۔</p>
<p><strong>نازک معاشی استحکام کا بیانیہ:</strong></p>
<p>میکرو اکنامک استحکام کو اکثر ایک کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مہنگائی کم ہوئی ہے، ذخائر مستحکم ہوئے ہیں اور شرحِ مبادلہ میں اتار چڑھاؤ کم ہوا ہے۔ یہ کامیابیاں حقیقت ہیں لیکن یہ تاحال نازک ہیں۔ استحکام زیادہ تر قرضوں کی واپسی میں تاخیر، مؤخر ادائیگیوں اور بیرونی امداد کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔ اس مالی سال میں 25.7 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے ساتھ پاکستان کے پاس غلطی کی گنجائش بہت کم ہے۔ عالمی ادارے اور دوست ممالک ہمیں سانس لینے کی مہلت تو دے سکتے ہیں لیکن مستقل تحفظ نہیں۔ ایسی دنیا میں جہاں معاشی امداد اب مکمل طور پر لین دین  بن چکی ہے، بحرانوں کے بار بار آنے والے چکروں کے لیے صبر اب ختم ہو رہا ہے۔</p>
<p><strong>جیو پولیٹکس اور محدود انتخاب:</strong></p>
<p>پاکستان کی بیرونی معاشی پوزیشن چین، خلیجی ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے درمیان ایک نازک توازن پر قائم ہے۔ چین ایک طویل مدتی شراکت دار ہے لیکن اس کی فنانسنگ اب زیادہ انتخابی اور تجارتی نوعیت کی ہو گئی ہے۔ خلیجی ممالک کے تعاون نے استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن یہ وقتی اور زیادہ تر قلیل مدتی ہے۔ آئی ایم ایف ڈسپلن اور ساکھ تو فراہم کرتا ہے لیکن اس کی قیمت پالیسی سازی میں محدود لچک کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ یہ صورتحال اسٹریٹجک خودمختاری کو محدود کرتی ہے اور اس حقیقت کو پختہ کرتی ہے کہ پائیدار معاشی استحکام باہر سے ادھار نہیں لیا جا سکتا۔</p>
<p><strong>سیکیورٹی سے پیداواری صلاحیت تک:</strong></p>
<p>بنیادی طور پر پاکستان کا چیلنج داخلی ہے۔ ریاست کی سیکیورٹی اور قلیل مدتی کنٹرول پر تاریخی توجہ، پیداواری صلاحیت اور مسابقت کی قیمت پر رہی ہے۔ یہ ماڈل شاید ایک زیادہ سازگار عالمی ماحول میں زندہ رہ سکتا تھا لیکن یہ اس دنیا کے لیے اب بالکل غیر موزوں ہے جہاں معاشی صلاحیت ہی آپ کی فیصلہ کن اہمیت کا تعین کرتی ہے۔</p>
<p>ایک پیداواری ریاست کی طرف منتقلی اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ ناگزیر ہے۔ اس کے لیے توانائی کے اخراجات کو کم کرنا، نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کی اصلاح، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے جو صنعت کاری کی راہ میں حائل ہیں۔ مانیٹری ڈسپلن اگرچہ ضروری ہے لیکن وہ سپلائی سائیڈ کی کمزوریوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔</p>
<p><strong>نتیجہ:</strong></p>
<p>عالمی تجارتی نظام وقت کے ساتھ کھوکھلا ہو چکا ہے اور اب معاشی اور اسٹریٹجک غلبے کی کھلی جدوجہد میں ضم ہو چکا ہے۔ قوانین کی جگہ طاقت نے اور کثیر جہتی نظام کی جگہ  انتخابی تعمیل نے لے لی ہے۔ تجارت اب کوئی غیر جانبدار پلیٹ فارم نہیں رہا، یہ اب طاقت، اتحاد اور صلاحیت سے طے ہونے والا ایک میدانِ جنگ بن چکا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے  یہ تبدیلی غلطی کی گنجائش کو کم کر دیتی ہے۔ قابلِ پیش گوئی تجارتی قوانین اور بیرونی تحفظ کے نیٹ ورکس سے ملنے والا سکون اب ماضی کا حصہ ہے۔ ادھار کی بنیاد پر حاصل کیا گیا استحکام صرف وقت خرید سکتا ہے لیکن یہ بنیادی حقائق کو تبدیل نہیں کرتا۔ مانیٹری سختی فوری گراوٹ کو تو روک سکتی ہے، لیکن یہ پیداواری صلاحیت، برآمدی اہمیت یا مسابقت کا متبادل نہیں ہو سکتی۔</p>
<p>لہٰذا مستقبل کے لیے انتخاب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہیں۔ پاکستان کو اپنی معاشی بنیادوں کو ایک ایسی دنیا کے مطابق ڈھالنا ہوگا جہاں دعوؤں کے مقابلے میں صلاحیت اور نعروں کے مقابلے میں لچک زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے لیے سیکیورٹی پر مبنی فریم ورک سے نکل کر پیداواری صلاحیت پر مبنی فریم ورک کی طرف فیصلہ کن پیش رفت کی ضرورت ہے، جہاں توانائی کی قیمتیں، صنعتی مسابقت، برآمدی تنوع اور اداروں کی ساکھ کو تکنیکی مسائل کے بجائے فیصلہ کن ترجیحات کے طور پر تسلیم کیا جائے۔</p>
<p>بڑی طاقتوں کی کشمکش کے عالمی ماحول میں جو ممالک اپنی داخلی معاشی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں ناکام رہتے ہیں وہ صرف ترقی ہی نہیں کھوتے بلکہ اپنی بات منوانے کی طاقت بھی کھو دیتے ہیں۔ پاکستان کا چیلنج اب ایک ایسے نظام میں راستہ تلاش کرنا نہیں جو ختم ہو رہا ہے بلکہ ایک ایسے  طاقت پر مبنی نظام  میں اپنی جگہ بنانا ہے جو دستک دے چکا ہے۔تبدیلی کا موقع اب بھی موجود ہے لیکن یہ ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282403</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Feb 2026 14:46:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خالد محمود رسول)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/031410506edb4d3.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/031410506edb4d3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
