<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 17:30:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 17:30:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محمد اورنگزیب کا خیبر پختونخوا کے مسائل کا اعتراف، این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم پر تعاون کی یقین دہانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282397/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے  خیبر پختونخوا کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ فنانس ڈویژن رائج قوانین، طے شدہ فریم ورک اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق نیشنل فنانس کمیشن (ایف ایف سی) اور دیگر متعلقہ مدات کے تحت صوبے کو جائز فنڈز کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کے بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے یہ بات وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم سے ملاقات کے دوران کہی۔ملاقات میں مالیاتی اور ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں ضم شدہ اضلاع (فاٹا) کے لیے اہم ترقیاتی مدات میں فنڈز کا بروقت اجرا، عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (ٹی ڈی پیز) کی بحالی و امداد سے متعلق واجب الادا ضروریات اور این ایف سی سمیت صوبائی استحقاق اور فنڈز کی تقسیم کا وسیع تر فریم ورک شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کی ٹیم نے ضم شدہ اضلاع کی آپریشنل اور ترقیاتی ترجیحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جاری منصوبوں کو برقرار رکھنے اور فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے فنڈز کا بروقت اور یقینی اجرا ضروری ہے۔ انہوں نے بے گھر خاندانوں سے متعلق زیرِ التوا ذمہ داریوں اور دیگر وعدوں کی جانب بھی توجہ دلائی جن کے لیے مشترکہ حل کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے وفد کے مسائل کو غور سے سنا اور وفاق و  صوبوں کے ساتھ تعمیری روابط کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ فنڈز کے شفاف اور ہموار اجرا کے لیے اکاؤنٹس کی بروقت مفاہمت اور موثر ہم آہنگی لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا بالخصوص ضم شدہ اضلاع کو درپیش منفرد ترقیاتی اور سیکیورٹی چیلنجز سے پوری طرح آگاہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریقین نے این ایف سی سے متعلق جاری کام اور مشاورت کا بھی جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ کلیدی مسائل پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے تکنیکی بات چیت اور ذیلی گروپوں کے روابط میں تیزی لائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بقایا مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے متعلقہ فورمز کے ذریعے قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا، تاکہ مالیاتی انتظامات سے ترقیاتی اہداف اور عوامی خدمات کی فراہمی میں مدد مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کا اختتام مثبت انداز میں ہوا، جس میں قومی مفاد میں باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے اور مسائل کے بروقت حل کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے  خیبر پختونخوا کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ فنانس ڈویژن رائج قوانین، طے شدہ فریم ورک اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق نیشنل فنانس کمیشن (ایف ایف سی) اور دیگر متعلقہ مدات کے تحت صوبے کو جائز فنڈز کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون کرے گا۔</strong></p>
<p>فنانس ڈویژن کے بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے یہ بات وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم سے ملاقات کے دوران کہی۔ملاقات میں مالیاتی اور ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں ضم شدہ اضلاع (فاٹا) کے لیے اہم ترقیاتی مدات میں فنڈز کا بروقت اجرا، عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (ٹی ڈی پیز) کی بحالی و امداد سے متعلق واجب الادا ضروریات اور این ایف سی سمیت صوبائی استحقاق اور فنڈز کی تقسیم کا وسیع تر فریم ورک شامل تھا۔</p>
<p>خیبر پختونخوا کی ٹیم نے ضم شدہ اضلاع کی آپریشنل اور ترقیاتی ترجیحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جاری منصوبوں کو برقرار رکھنے اور فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے فنڈز کا بروقت اور یقینی اجرا ضروری ہے۔ انہوں نے بے گھر خاندانوں سے متعلق زیرِ التوا ذمہ داریوں اور دیگر وعدوں کی جانب بھی توجہ دلائی جن کے لیے مشترکہ حل کی ضرورت ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے وفد کے مسائل کو غور سے سنا اور وفاق و  صوبوں کے ساتھ تعمیری روابط کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ فنڈز کے شفاف اور ہموار اجرا کے لیے اکاؤنٹس کی بروقت مفاہمت اور موثر ہم آہنگی لازمی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا بالخصوص ضم شدہ اضلاع کو درپیش منفرد ترقیاتی اور سیکیورٹی چیلنجز سے پوری طرح آگاہ ہے۔</p>
<p>فریقین نے این ایف سی سے متعلق جاری کام اور مشاورت کا بھی جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ کلیدی مسائل پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے تکنیکی بات چیت اور ذیلی گروپوں کے روابط میں تیزی لائی جائے۔</p>
<p>دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بقایا مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے متعلقہ فورمز کے ذریعے قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا، تاکہ مالیاتی انتظامات سے ترقیاتی اہداف اور عوامی خدمات کی فراہمی میں مدد مل سکے۔</p>
<p>ملاقات کا اختتام مثبت انداز میں ہوا، جس میں قومی مفاد میں باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے اور مسائل کے بروقت حل کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282397</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Feb 2026 13:38:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/0313213914fbec6.webp" type="image/webp" medium="image" height="1318" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/0313213914fbec6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
