<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جے ایف 17 کی برآمدات میں تیزی، پاکستان کو سپلائی چیلنج کا سامنا، رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282396/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں 5 ممالک نے پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر فائٹر جیٹ میں غیر معمولی دلچسپی ظاہر کی ہے جو چین کے ساتھ پاکستان کے مشترکہ منصوبے کی موجودہ پیداواری صلاحیت سے تجاوز کرسکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب کئی ممالک نے شہرت یافتہ جے ایف-17  جنگی طیارے کو حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے جس کے وقار میں مئی 2025 میں پڑوسی حریف کے خلاف جنگ کے دوران اپنی بھرپور صلاحیتوں کے مظاہرے کے بعد مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ ہلکا لڑاکا طیارہ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے اور اسے پاکستان ہی میں تیار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی مسلح افواج کے مطابق صرف گزشتہ ایک ماہ کے دوران عراق، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا نے جے ایف-17 تھنڈر میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب رائٹرز کی ایک علیحدہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سعودی عرب اور لیبیا بھی اس طیارے کے حصول کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ پیداوار کی شرح سالانہ 20 یونٹس سے کم ہے جن میں سے زیادہ تر پاکستان ایئر فورس کے لیے مخصوص ہیں، اس لیے طلب میں یہ اچانک اضافہ ایک بڑا چیلنج پیش کررہا ہے، پاکستان ترقی پذیر دنیا کے لیے ہتھیار فراہم کنندہ کے طور پر خود کو مستحکم کرنے اور بیجنگ کے عالمی مارکیٹ اثر و رسوخ کو بڑھانے میں اہم شراکت دار بننے کی کوشش کررہا ہے، اس کی مینوفیکچرنگ انفرااسٹرکچر جلد ہی اپنی حدوں پر پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگاپور کے ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ریسرچ فیلو منوج ہرجانی کا کہنا ہے کہ جے ایف-17  کو مارکیٹ ڈسرپٹر (مارکیٹ میں ہلچل مچا دینے والے طیارے) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ اس کی کم قیمت اور سب سے بڑھ کر حالیہ جنگی معرکوں میں اس کی کامیابی ہے۔ یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ جے ایف-17 کو مزید وسیع پیمانے پر اپنایا جائے گا، خاص طور پر ان افواج کی جانب سے جو مغربی کمپنیوں کے تیار کردہ مہنگے لڑاکا طیاروں کی استطاعت نہیں رکھتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر انڈونیشیا اور سعودی عرب جے ایف-17  خرید لیتے ہیں تو یہ ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہو گی کیونکہ دونوں ممالک طویل عرصے سے مغربی پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ انڈونیشیا نے حال ہی میں فرانس کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت تین ڈاسو ایوی ایشن کے رافیل طیارے حاصل کیے ہیں اور 2023 میں بوئنگ کمپنی کے ساتھ 24 ایف-15 (F-15) جیٹ طیارے خریدنے کا معاہدہ بھی کیا تھا۔ اسی طرح سعودی عرب بھی امریکی اور یورپی طیاروں پر انحصار کرتا ہے اور اس نے ایف-35 خریدنے کی کوشش بھی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تذکرہ کرنا بجا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے کے لیے بات چیت کررہے ہیں جو گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کے چند ماہ بعد فوجی تعاون کو مزید گہرا کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پاکستان نے جے ایف 17 لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بنگلہ دیش کے ساتھ بھی تفصیلی بات چیت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر کے اسلحے کا معاہدہ بھی حاصل کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں انڈونیشیا کے ایک اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد نے پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات کی تاکہ تزویراتی ہوا بازی کے شعبے میں تعاون، بشمول جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں 5 ممالک نے پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر فائٹر جیٹ میں غیر معمولی دلچسپی ظاہر کی ہے جو چین کے ساتھ پاکستان کے مشترکہ منصوبے کی موجودہ پیداواری صلاحیت سے تجاوز کرسکتی ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب کئی ممالک نے شہرت یافتہ جے ایف-17  جنگی طیارے کو حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے جس کے وقار میں مئی 2025 میں پڑوسی حریف کے خلاف جنگ کے دوران اپنی بھرپور صلاحیتوں کے مظاہرے کے بعد مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ ہلکا لڑاکا طیارہ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے اور اسے پاکستان ہی میں تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی مسلح افواج کے مطابق صرف گزشتہ ایک ماہ کے دوران عراق، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا نے جے ایف-17 تھنڈر میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب رائٹرز کی ایک علیحدہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سعودی عرب اور لیبیا بھی اس طیارے کے حصول کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>موجودہ پیداوار کی شرح سالانہ 20 یونٹس سے کم ہے جن میں سے زیادہ تر پاکستان ایئر فورس کے لیے مخصوص ہیں، اس لیے طلب میں یہ اچانک اضافہ ایک بڑا چیلنج پیش کررہا ہے، پاکستان ترقی پذیر دنیا کے لیے ہتھیار فراہم کنندہ کے طور پر خود کو مستحکم کرنے اور بیجنگ کے عالمی مارکیٹ اثر و رسوخ کو بڑھانے میں اہم شراکت دار بننے کی کوشش کررہا ہے، اس کی مینوفیکچرنگ انفرااسٹرکچر جلد ہی اپنی حدوں پر پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>سنگاپور کے ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ریسرچ فیلو منوج ہرجانی کا کہنا ہے کہ جے ایف-17  کو مارکیٹ ڈسرپٹر (مارکیٹ میں ہلچل مچا دینے والے طیارے) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ اس کی کم قیمت اور سب سے بڑھ کر حالیہ جنگی معرکوں میں اس کی کامیابی ہے۔ یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ جے ایف-17 کو مزید وسیع پیمانے پر اپنایا جائے گا، خاص طور پر ان افواج کی جانب سے جو مغربی کمپنیوں کے تیار کردہ مہنگے لڑاکا طیاروں کی استطاعت نہیں رکھتیں۔</p>
<p>اگر انڈونیشیا اور سعودی عرب جے ایف-17  خرید لیتے ہیں تو یہ ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہو گی کیونکہ دونوں ممالک طویل عرصے سے مغربی پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ انڈونیشیا نے حال ہی میں فرانس کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت تین ڈاسو ایوی ایشن کے رافیل طیارے حاصل کیے ہیں اور 2023 میں بوئنگ کمپنی کے ساتھ 24 ایف-15 (F-15) جیٹ طیارے خریدنے کا معاہدہ بھی کیا تھا۔ اسی طرح سعودی عرب بھی امریکی اور یورپی طیاروں پر انحصار کرتا ہے اور اس نے ایف-35 خریدنے کی کوشش بھی کی ہے۔</p>
<p>یہ تذکرہ کرنا بجا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے کے لیے بات چیت کررہے ہیں جو گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کے چند ماہ بعد فوجی تعاون کو مزید گہرا کررہا ہے۔</p>
<p>اسی طرح پاکستان نے جے ایف 17 لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بنگلہ دیش کے ساتھ بھی تفصیلی بات چیت کی ہے۔</p>
<p>پاکستان نے لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر کے اسلحے کا معاہدہ بھی حاصل کرلیا ہے۔</p>
<p>مزید برآں انڈونیشیا کے ایک اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد نے پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات کی تاکہ تزویراتی ہوا بازی کے شعبے میں تعاون، بشمول جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282396</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Feb 2026 13:43:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/0313205830e08b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/0313205830e08b0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
