<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ناقص طرزِ حکمرانی سرکاری اداروں کے منافع میں کمی کا باعث</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282394/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے سرکاری اداروں (ایس او ایز) پر ہونے والی عوامی بحث طویل عرصے سے مسلسل خسارے میں چلنے والے اداروں اور ان مالیاتی بحران پر مرکوز رہی ہے ، یہ توجہ اگرچہ جائز ہے، لیکن اس کی وجہ سے ایک خاموش مگر یکساں طور پر نقصان دہ ناکامی نظروں سے اوجھل ہونے کا خطرہ ہے:اور وہ ہے ان سرکاری اداروں کے منافع میں مسلسل کمی جو اب بھی منافع کمارہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی تیار کردہ ایک حالیہ رپورٹ (جو اب بھی وفاقی کابینہ کی توثیق کی منتظر ہے) نے انکشاف کیا ہے کہ حکومتی ملکیت والے سرفہرست 15 اداروں کا مجموعی منافع مالی سال 25-2024 میں گر کر 622 ارب روپے رہ گیا جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں پانچ فیصد یا 30 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات صرف یہ کمزور اعدادوشمار نہیں بلکہ اصل تشویش ان کے پیچھے چھپی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں موربینڈ گورننس ڈھانچے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز نامکمل ہیں، ٹیمپلیٹ پر مبنی ہیں، جن میں جوابدہی کا فقدان ہے اور بورڈ کی تاثیر، نگرانی کے معیار یا فیصلہ سازی کی کارکردگی کا کوئی بامعنی جائزہ نہیں لیا جاتا۔ دوسرے لفظوں میں، موثر اور قابل گورننس کی عدم موجودگی کی وجہ سے منافع بخش سرکاری ادارے بھی زوال کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے بہت زیادہ تشہیر کیے گئے اصلاحاتی ایجنڈے کے بارے میں یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، خاص طور پر جب وزارتِ خزانہ خود اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں وفاداروں اور پسندیدہ افراد کو بھرنے کی روایت جڑ پکڑ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے پہلے مکمل مالی سال کے دوران پالیسی ساز نہ صرف مشکل ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرنے میں ناکام رہے بلکہ وہ وزیراعظم کی اس ابتدائی ہدایت پر بھی عملدرآمد نہ کروا سکے جس میں یہ تقاضا کیا گیا تھا کہ ایک سے زائد بورڈز میں خدمات انجام دینے والے بیوروکریٹس بورڈ فیس کی مد میں 10 لاکھ (1 ملین) روپے سے زائد رقم اپنے پاس نہیں رکھیں گے اور اضافی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظم وضبط کے اس معمولی اقدام پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا، اس کے برعکس بیوروکریسی کی مسلسل مزاحمت نے بالآخر وزیراعظم کو یہ ہدایت مکمل طور پر واپس لینے پر مجبور کر دیا، جو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح کمزور سیاسی عزم اور جڑیں مضبوط کیے ہوئے بیوروکریٹک طاقت اصلاحاتی وعدوں پر حاوی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ بورڈز میں برائے نام 50 فیصد آزاد ڈائریکٹرز شامل ہوتے ہیں، لیکن آڈٹ اور رسک کمیٹیاں حقیقی خود مختاری سے محروم ہیں اور انتظامیہ کو اہم فیصلوں کے دوران شاذ و نادر ہی کسی سخت جانچ پڑتال  کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلیدی کارکردگی کے اشاریوں (کے پی آئیز)، بورڈ کے فیصلوں اور خطرات (رسک ایکسپوژر) کی رپورٹنگ انتہائی غیر مستقل اور متضاد ہے جو احتساب کے کمزور ڈھانچے کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے اسٹیک ہولڈرز کارکردگی یا اداروں کے اصل مالیاتی خطرات کا صحیح معنوں میں اندازہ لگانے سے قاصر رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 36 فیصد سے بھی کم سرکاری اداروں (ایس او ایز) نے اپنے آڈٹ مکمل کیے ہیں جس کی وجہ سے مالیاتی رپورٹنگ کے دورانیے میں تاخیر اب ایک معمول بن چکی ہے اور اہم فیصلے عارضی اعداد و شمار  کی بنیاد پر کرنے پڑ رہے ہیں۔ دور رس نتائج کے حامل فیصلوں کے لیے تخمینوں پر یہ انحصار انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ یہ نہ صرف فیصلہ سازی کے عمل کو بگاڑتا ہے بلکہ اداروں کی قدر و قیمت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، جس سے مالیاتی اور ممکنہ واجبات  کے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامی ڈھانچے کی اس تنزلی کا خمیازہ اعداد و شمار میں واضح نظر آتا ہے۔ مالی سال 25-2024 کے دوران صرف ایک سرکاری ادارہ  آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (اوجی ڈی سی ایل)  100 ارب روپے کے منافع کی حد عبور کر سکا، جس نے 170 ارب روپے کمائے، اگرچہ یہ بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں منافع میں 19 فیصد کی نمایاں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کا نمبر رہا جس نے 90 ارب روپے کا منافع کمایا، لیکن اس کے منافع میں بھی 22 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ محض تین اداروں نے 50 ارب روپے سے زائد منافع کمایا جبکہ صرف 14 سرکاری ادارے  ایسے تھے جنہوں نے 10 ارب روپے سے زائد کا منافع رپورٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل بینک 57 ارب روپے کے منافع کے ساتھ پبلک سیکٹر کا تیسرا بہترین کارکردگی دکھانے والا ادارہ رہا اور یہ ان چند اداروں میں شامل تھا جن کے منافع میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس، تیل اور گیس کے شعبے کے مجموعی منافع میں تقریباً ایک چوتھائی (25 فیصد) کمی آئی اور یہ گر کر 366 ارب روپے رہ گیا۔ وزارتِ خزانہ اس گراوٹ کی وجہ گردشی قرضوں  میں پھنسی ہوئی رقوم اور مستقل انتظامی ناکامیوں کو قرار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی شخص اس بات پر غور کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ کیا منافع کی یہ کم ہوتی ہوئی سطح ایک حقیقی مسابقتی ماحول میں برقرار رہ پائے گی؟ خاص طور پر اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ بہت سے سرکاری ادارے اب بھی حکومتی ٹھیکوں تک ترجیحی رسائی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک حکام کی اصلاحاتی بیان بازی عملی اور قابلِ نفاذ تبدیلیوں میں تبدیل نہیں ہوتی یعنی بورڈز کو مضبوط بنانا، احتساب کو نافذ کرنا اور شفافیت کو یقینی بنانا، تب تک یہ منافع غیر مستحکم رہے گا اور ایک جدید اور فعال پبلک سیکٹر کا وعدہ محض ایک وعدہ ہی رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے سرکاری اداروں (ایس او ایز) پر ہونے والی عوامی بحث طویل عرصے سے مسلسل خسارے میں چلنے والے اداروں اور ان مالیاتی بحران پر مرکوز رہی ہے ، یہ توجہ اگرچہ جائز ہے، لیکن اس کی وجہ سے ایک خاموش مگر یکساں طور پر نقصان دہ ناکامی نظروں سے اوجھل ہونے کا خطرہ ہے:اور وہ ہے ان سرکاری اداروں کے منافع میں مسلسل کمی جو اب بھی منافع کمارہے ہیں۔</strong></p>
<p>مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی تیار کردہ ایک حالیہ رپورٹ (جو اب بھی وفاقی کابینہ کی توثیق کی منتظر ہے) نے انکشاف کیا ہے کہ حکومتی ملکیت والے سرفہرست 15 اداروں کا مجموعی منافع مالی سال 25-2024 میں گر کر 622 ارب روپے رہ گیا جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں پانچ فیصد یا 30 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>اہم بات صرف یہ کمزور اعدادوشمار نہیں بلکہ اصل تشویش ان کے پیچھے چھپی وجوہات ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں موربینڈ گورننس ڈھانچے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز نامکمل ہیں، ٹیمپلیٹ پر مبنی ہیں، جن میں جوابدہی کا فقدان ہے اور بورڈ کی تاثیر، نگرانی کے معیار یا فیصلہ سازی کی کارکردگی کا کوئی بامعنی جائزہ نہیں لیا جاتا۔ دوسرے لفظوں میں، موثر اور قابل گورننس کی عدم موجودگی کی وجہ سے منافع بخش سرکاری ادارے بھی زوال کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔</p>
<p>حکومت کے بہت زیادہ تشہیر کیے گئے اصلاحاتی ایجنڈے کے بارے میں یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، خاص طور پر جب وزارتِ خزانہ خود اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں وفاداروں اور پسندیدہ افراد کو بھرنے کی روایت جڑ پکڑ چکی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے پہلے مکمل مالی سال کے دوران پالیسی ساز نہ صرف مشکل ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرنے میں ناکام رہے بلکہ وہ وزیراعظم کی اس ابتدائی ہدایت پر بھی عملدرآمد نہ کروا سکے جس میں یہ تقاضا کیا گیا تھا کہ ایک سے زائد بورڈز میں خدمات انجام دینے والے بیوروکریٹس بورڈ فیس کی مد میں 10 لاکھ (1 ملین) روپے سے زائد رقم اپنے پاس نہیں رکھیں گے اور اضافی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائیں گے۔</p>
<p>نظم وضبط کے اس معمولی اقدام پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا، اس کے برعکس بیوروکریسی کی مسلسل مزاحمت نے بالآخر وزیراعظم کو یہ ہدایت مکمل طور پر واپس لینے پر مجبور کر دیا، جو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح کمزور سیاسی عزم اور جڑیں مضبوط کیے ہوئے بیوروکریٹک طاقت اصلاحاتی وعدوں پر حاوی رہتی ہے۔</p>
<p>مزید برآں رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ بورڈز میں برائے نام 50 فیصد آزاد ڈائریکٹرز شامل ہوتے ہیں، لیکن آڈٹ اور رسک کمیٹیاں حقیقی خود مختاری سے محروم ہیں اور انتظامیہ کو اہم فیصلوں کے دوران شاذ و نادر ہی کسی سخت جانچ پڑتال  کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>کلیدی کارکردگی کے اشاریوں (کے پی آئیز)، بورڈ کے فیصلوں اور خطرات (رسک ایکسپوژر) کی رپورٹنگ انتہائی غیر مستقل اور متضاد ہے جو احتساب کے کمزور ڈھانچے کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے اسٹیک ہولڈرز کارکردگی یا اداروں کے اصل مالیاتی خطرات کا صحیح معنوں میں اندازہ لگانے سے قاصر رہتے ہیں۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 36 فیصد سے بھی کم سرکاری اداروں (ایس او ایز) نے اپنے آڈٹ مکمل کیے ہیں جس کی وجہ سے مالیاتی رپورٹنگ کے دورانیے میں تاخیر اب ایک معمول بن چکی ہے اور اہم فیصلے عارضی اعداد و شمار  کی بنیاد پر کرنے پڑ رہے ہیں۔ دور رس نتائج کے حامل فیصلوں کے لیے تخمینوں پر یہ انحصار انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ یہ نہ صرف فیصلہ سازی کے عمل کو بگاڑتا ہے بلکہ اداروں کی قدر و قیمت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، جس سے مالیاتی اور ممکنہ واجبات  کے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>انتظامی ڈھانچے کی اس تنزلی کا خمیازہ اعداد و شمار میں واضح نظر آتا ہے۔ مالی سال 25-2024 کے دوران صرف ایک سرکاری ادارہ  آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (اوجی ڈی سی ایل)  100 ارب روپے کے منافع کی حد عبور کر سکا، جس نے 170 ارب روپے کمائے، اگرچہ یہ بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں منافع میں 19 فیصد کی نمایاں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>اس کے بعد پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کا نمبر رہا جس نے 90 ارب روپے کا منافع کمایا، لیکن اس کے منافع میں بھی 22 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ محض تین اداروں نے 50 ارب روپے سے زائد منافع کمایا جبکہ صرف 14 سرکاری ادارے  ایسے تھے جنہوں نے 10 ارب روپے سے زائد کا منافع رپورٹ کیا۔</p>
<p>نیشنل بینک 57 ارب روپے کے منافع کے ساتھ پبلک سیکٹر کا تیسرا بہترین کارکردگی دکھانے والا ادارہ رہا اور یہ ان چند اداروں میں شامل تھا جن کے منافع میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس، تیل اور گیس کے شعبے کے مجموعی منافع میں تقریباً ایک چوتھائی (25 فیصد) کمی آئی اور یہ گر کر 366 ارب روپے رہ گیا۔ وزارتِ خزانہ اس گراوٹ کی وجہ گردشی قرضوں  میں پھنسی ہوئی رقوم اور مستقل انتظامی ناکامیوں کو قرار دیتی ہے۔</p>
<p>کوئی بھی شخص اس بات پر غور کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ کیا منافع کی یہ کم ہوتی ہوئی سطح ایک حقیقی مسابقتی ماحول میں برقرار رہ پائے گی؟ خاص طور پر اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ بہت سے سرکاری ادارے اب بھی حکومتی ٹھیکوں تک ترجیحی رسائی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔</p>
<p>جب تک حکام کی اصلاحاتی بیان بازی عملی اور قابلِ نفاذ تبدیلیوں میں تبدیل نہیں ہوتی یعنی بورڈز کو مضبوط بنانا، احتساب کو نافذ کرنا اور شفافیت کو یقینی بنانا، تب تک یہ منافع غیر مستحکم رہے گا اور ایک جدید اور فعال پبلک سیکٹر کا وعدہ محض ایک وعدہ ہی رہے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282394</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Feb 2026 14:11:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/031301470b8299f.webp" type="image/webp" medium="image" height="515" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/031301470b8299f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
