<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے امریکہ سے پٹرولیم، دفاعی سازوسامان اور ہوائی جہاز خریدنے پر رضامندی ظاہر کر دی، عہدیدار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282386/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک سرکاری اہلکار نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ بھارت نے ایک تجارتی معاہدے کے تحت امریکہ سے پٹرولیم، دفاعی ساز و سامان، الیکٹرانکس، ادویات (فارما) اور ٹیلی کام مصنوعات کے ساتھ ہوائی جہاز خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو بھارت کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بھارتی اشیا پر امریکی محصولات کو 50 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کردیا گیا ہے۔ اس کے بدلے میں بھارت روسی تیل کی خریداری روکنے اور تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ بھارت نے بہت بڑے پیمانے پر امریکی مصنوعات خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بھارت ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر مصنوعات کے ساتھ ساتھ 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی توانائی اور کوئلہ خرید سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی سرکاری اہلکار نے جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بھارت نے امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے امریکی اشیا خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔ بھارت کی وزارتِ تجارت نے اس حوالے سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی ای میل کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے نومبر کے دوران امریکہ کو بھارت کی برآمدات سالانہ بنیادوں پر 15.88 فیصد اضافے کے ساتھ 85.5 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات کا حجم 46.08 ارب ڈالر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی مصنوعات خریدنے کے عزم میں ادویات (فارما)، ٹیلی کام، دفاع، پیٹرولیم اور ہوائی جہاز جیسے شعبے شامل ہیں۔ یہ خریداری آنے والے برسوں میں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکار نے مزید تفصیلات دیے بغیر کہا کہ ہم نے کچھ زرعی مصنوعات کے لیے بھی مارکیٹ تک رسائی کی پیشکش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے کہا کہ یہ معاہدہ پہلا مرحلہ (فرسٹ ٹرنچ) ہے اور آئندہ چند مہینوں میں ایک زیادہ جامع معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔ اس معاہدے کے تحت، واشنگٹن کے تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کے فوری مطالبے پر بھارت نے گاڑیوں پر عائد محصولات میں کمی کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اعلان سے منگل کو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کا بینچ مارک اسٹاک انڈیکس نفٹی 50 تقریباً 3 فیصد بڑھ گیا جبکہ ابتدائی کاروبار کے دوران روپیہ 1 فیصد سے زائد مضبوط ہو کر 90.40 فی ڈالر کی سطح پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کا بینچ مارک اسٹاک انڈیکس، نفٹی 50 تقریباً 3 فیصد بڑھ گیا اور ابتدائی تجارت کے دوران روپیہ 1 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ 90.40 فی ڈالر پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک سرکاری اہلکار نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ بھارت نے ایک تجارتی معاہدے کے تحت امریکہ سے پٹرولیم، دفاعی ساز و سامان، الیکٹرانکس، ادویات (فارما) اور ٹیلی کام مصنوعات کے ساتھ ہوائی جہاز خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو بھارت کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بھارتی اشیا پر امریکی محصولات کو 50 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کردیا گیا ہے۔ اس کے بدلے میں بھارت روسی تیل کی خریداری روکنے اور تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ بھارت نے بہت بڑے پیمانے پر امریکی مصنوعات خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بھارت ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر مصنوعات کے ساتھ ساتھ 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی توانائی اور کوئلہ خرید سکتا ہے۔</p>
<p>بھارتی سرکاری اہلکار نے جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بھارت نے امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے امریکی اشیا خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔ بھارت کی وزارتِ تجارت نے اس حوالے سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی ای میل کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے نومبر کے دوران امریکہ کو بھارت کی برآمدات سالانہ بنیادوں پر 15.88 فیصد اضافے کے ساتھ 85.5 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات کا حجم 46.08 ارب ڈالر رہا۔</p>
<p>اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی مصنوعات خریدنے کے عزم میں ادویات (فارما)، ٹیلی کام، دفاع، پیٹرولیم اور ہوائی جہاز جیسے شعبے شامل ہیں۔ یہ خریداری آنے والے برسوں میں کی جائے گی۔</p>
<p>اہلکار نے مزید تفصیلات دیے بغیر کہا کہ ہم نے کچھ زرعی مصنوعات کے لیے بھی مارکیٹ تک رسائی کی پیشکش کی ہے۔</p>
<p>عہدیدار نے کہا کہ یہ معاہدہ پہلا مرحلہ (فرسٹ ٹرنچ) ہے اور آئندہ چند مہینوں میں ایک زیادہ جامع معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔ اس معاہدے کے تحت، واشنگٹن کے تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کے فوری مطالبے پر بھارت نے گاڑیوں پر عائد محصولات میں کمی کر دی ہے۔</p>
<p>اس اعلان سے منگل کو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>بھارت کا بینچ مارک اسٹاک انڈیکس نفٹی 50 تقریباً 3 فیصد بڑھ گیا جبکہ ابتدائی کاروبار کے دوران روپیہ 1 فیصد سے زائد مضبوط ہو کر 90.40 فی ڈالر کی سطح پر آ گیا۔</p>
<p>بھارت کا بینچ مارک اسٹاک انڈیکس، نفٹی 50 تقریباً 3 فیصد بڑھ گیا اور ابتدائی تجارت کے دوران روپیہ 1 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ 90.40 فی ڈالر پر پہنچ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282386</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Feb 2026 11:16:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/031105486382f16.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/031105486382f16.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
