<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل اسمگلنگ پر کریک ڈاؤن کے بعد بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے، خواجہ آصف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282369/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کو دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں حالیہ تشدد میں اضافے کے پیچھے جرم کے جال ( کریمنل نیٹ ورکس ) کارفرما ہیں، جن کے ”جعلی نقاب“ یعنی قوم پرستی، سیاسی اور انسانی حقوق کی تحریکیں، تیل کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے بعد ناکام ہو گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ ”یہ گروہ اب کسی سیاسی یا نظریاتی تحریک کی نمائندگی نہیں کرتے۔ جو اب سامنے آیا ہے وہ ایک مجرموں کی تحریک ( موومنٹ آف کریمنلز) ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے چینی ان جالوں کے مالی نقصان کی تلافی کی کوششوں کے نتیجے میں شروع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ ایک منظم بدعنوانی کے جال ( کرپشن رنگ) کراچی میں اسمگل شدہ ایرانی تیل کو بڑھا چڑھا کر بیچ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ ”تیل جو تقریباً 60 روپے فی لٹر خریدی جا رہی تھی، اسے تقریباً 200 روپے فی لٹر فروخت کیا جا رہا تھا۔ یہ جال روزانہ تقریباً 4 ارب روپے کا منافع حاصل کر رہا تھا، جسے اب محدود کر دیا گیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں امن درہم برہم ہوا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع کے مطابق صورتحال اب ایک ایسے جال ( نیکسس) میں بدل چکی ہے جس میں بیوروکریسی، قبائلی قیادت اور مجرم گروہ ( کریمنل گروپس ) شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ مکمل طور پر ایک جال میں بدل گیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان میں سیکیورٹی چیلنجز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آصف نے کہا کہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں آبادی انتہائی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”تقریباً ہر 35 کلومیٹر پر ایک فرد موجود ہے۔ اتنے وسیع رقبے پر کنٹرول حاصل کرنا ایک گنجان آباد شہر کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے۔“ انہوں نے بڑے پیمانے پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ”ہماری فورسز تعینات ہیں اور کارروائی کر رہی ہیں، لیکن اتنے وسیع رقبے کی نگرانی اور گشت کے لیے جسمانی حدیں موجود ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ بلوچستان کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کو سیاسی قیادت نے بیوروکریٹک عناصر کے ساتھ ملی بھگت کر کے استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ تشدد کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ دو دن کے عرصے میں 177 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ 17 سیکیورٹی اہلکار، جن میں 10 پولیس افسران، چھ فرنٹیئر کور اہلکار اور ایک لیویز اہلکار شامل تھے، شہید ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اسی عرصے میں 33 عام شہری بھی جاں بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر افراد گوادر میں تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کو دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں حالیہ تشدد میں اضافے کے پیچھے جرم کے جال ( کریمنل نیٹ ورکس ) کارفرما ہیں، جن کے ”جعلی نقاب“ یعنی قوم پرستی، سیاسی اور انسانی حقوق کی تحریکیں، تیل کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے بعد ناکام ہو گئے ہیں۔</strong></p>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ ”یہ گروہ اب کسی سیاسی یا نظریاتی تحریک کی نمائندگی نہیں کرتے۔ جو اب سامنے آیا ہے وہ ایک مجرموں کی تحریک ( موومنٹ آف کریمنلز) ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے چینی ان جالوں کے مالی نقصان کی تلافی کی کوششوں کے نتیجے میں شروع ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے الزام لگایا کہ ایک منظم بدعنوانی کے جال ( کرپشن رنگ) کراچی میں اسمگل شدہ ایرانی تیل کو بڑھا چڑھا کر بیچ رہا تھا۔</p>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ ”تیل جو تقریباً 60 روپے فی لٹر خریدی جا رہی تھی، اسے تقریباً 200 روپے فی لٹر فروخت کیا جا رہا تھا۔ یہ جال روزانہ تقریباً 4 ارب روپے کا منافع حاصل کر رہا تھا، جسے اب محدود کر دیا گیا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں امن درہم برہم ہوا۔“</p>
<p>وزیر دفاع کے مطابق صورتحال اب ایک ایسے جال ( نیکسس) میں بدل چکی ہے جس میں بیوروکریسی، قبائلی قیادت اور مجرم گروہ ( کریمنل گروپس ) شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ مکمل طور پر ایک جال میں بدل گیا ہے۔“</p>
<p>بلوچستان میں سیکیورٹی چیلنجز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آصف نے کہا کہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں آبادی انتہائی کم ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”تقریباً ہر 35 کلومیٹر پر ایک فرد موجود ہے۔ اتنے وسیع رقبے پر کنٹرول حاصل کرنا ایک گنجان آباد شہر کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے۔“ انہوں نے بڑے پیمانے پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ”ہماری فورسز تعینات ہیں اور کارروائی کر رہی ہیں، لیکن اتنے وسیع رقبے کی نگرانی اور گشت کے لیے جسمانی حدیں موجود ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے الزام لگایا کہ بلوچستان کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کو سیاسی قیادت نے بیوروکریٹک عناصر کے ساتھ ملی بھگت کر کے استعمال کیا۔</p>
<p>حالیہ تشدد کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ دو دن کے عرصے میں 177 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ 17 سیکیورٹی اہلکار، جن میں 10 پولیس افسران، چھ فرنٹیئر کور اہلکار اور ایک لیویز اہلکار شامل تھے، شہید ہوئے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اسی عرصے میں 33 عام شہری بھی جاں بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر افراد گوادر میں تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282369</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Feb 2026 20:37:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/02201107193e670.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/02201107193e670.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
