<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل نے رفح بارڈر کراسنگ محدود پیمانے پر کھول دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282360/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل نے پیر کے روز غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر کراسنگ کو پیدل آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا، جس کے بعد فلسطینیوں کو غزہ سے باہر جانے اور جنگ کے دوران نقل مکانی کے بعد واپس آنے کا محدود موقع مل سکے گا۔ تاہم اس بارڈر کی بحالی محدود نوعیت کی ہے اور اسرائیل نے آنے جانے والے فلسطینیوں کے لیے سخت سکیورٹی جانچ کی شرط عائد کی ہے۔ اسرائیل اور مصر دونوں کی جانب سے مسافروں کی تعداد پر حد مقرر کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے مئی 2024 میں رفح کراسنگ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ یہ جنگ اکتوبر میں ایک عارضی جنگ بندی کے ذریعے روکی گئی تھی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ رفح کراسنگ کی بحالی ٹرمپ کے اس وسیع منصوبے کے پہلے مرحلے کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے، جس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی روکنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق یورپی نگرانی کرنے والی ٹیمیں بھی کراسنگ پر پہنچ چکی ہیں اور اب مقامی افراد کی محدود نقل و حرکت شروع ہو گئی ہے۔ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں بڑی تعداد میں فلسطینی مصر فرار ہوئے تھے اور فلسطینی حکام کے مطابق تقریباً 100,000 افراد غزہ چھوڑ چکے ہیں۔ کچھ کو امدادی تنظیموں نے سہارا دیا جبکہ دیگر نے مصر میں اجازت حاصل کرنے کے لیے رشوت بھی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رفح کی بندش کے باعث زخمی اور بیمار فلسطینیوں کے لیے بیرونِ ملک علاج کا راستہ بھی متاثر ہوا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگرچہ چند ہزار افراد کو علاج کے لیے تیسرے ممالک جانے کی اجازت ملی، لیکن اب بھی ہزاروں مریض بیرونِ ملک طبی سہولتوں کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیل اب بھی غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہا۔ غیر ملکی پریس ایسوسی ایشن نے اس پابندی کو چیلنج کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس سے دنیا آزاد معلومات کے اہم ذریعے سے محروم ہو رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی موجودگی فوجیوں اور خود رپورٹرز کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی تباہ شدہ گھروں اور عارضی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ علاقے کا بڑا حصہ کھنڈر بن چکا ہے۔ جنگ بندی کے باوجود حالیہ مہینوں میں جھڑپیں جاری ہیں اور فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل نے پیر کے روز غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر کراسنگ کو پیدل آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا، جس کے بعد فلسطینیوں کو غزہ سے باہر جانے اور جنگ کے دوران نقل مکانی کے بعد واپس آنے کا محدود موقع مل سکے گا۔ تاہم اس بارڈر کی بحالی محدود نوعیت کی ہے اور اسرائیل نے آنے جانے والے فلسطینیوں کے لیے سخت سکیورٹی جانچ کی شرط عائد کی ہے۔ اسرائیل اور مصر دونوں کی جانب سے مسافروں کی تعداد پر حد مقرر کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>اسرائیل نے مئی 2024 میں رفح کراسنگ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ یہ جنگ اکتوبر میں ایک عارضی جنگ بندی کے ذریعے روکی گئی تھی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ رفح کراسنگ کی بحالی ٹرمپ کے اس وسیع منصوبے کے پہلے مرحلے کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے، جس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی روکنا ہے۔</p>
<p>ایک اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق یورپی نگرانی کرنے والی ٹیمیں بھی کراسنگ پر پہنچ چکی ہیں اور اب مقامی افراد کی محدود نقل و حرکت شروع ہو گئی ہے۔ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں بڑی تعداد میں فلسطینی مصر فرار ہوئے تھے اور فلسطینی حکام کے مطابق تقریباً 100,000 افراد غزہ چھوڑ چکے ہیں۔ کچھ کو امدادی تنظیموں نے سہارا دیا جبکہ دیگر نے مصر میں اجازت حاصل کرنے کے لیے رشوت بھی دی۔</p>
<p>رفح کی بندش کے باعث زخمی اور بیمار فلسطینیوں کے لیے بیرونِ ملک علاج کا راستہ بھی متاثر ہوا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگرچہ چند ہزار افراد کو علاج کے لیے تیسرے ممالک جانے کی اجازت ملی، لیکن اب بھی ہزاروں مریض بیرونِ ملک طبی سہولتوں کے منتظر ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیل اب بھی غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہا۔ غیر ملکی پریس ایسوسی ایشن نے اس پابندی کو چیلنج کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس سے دنیا آزاد معلومات کے اہم ذریعے سے محروم ہو رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی موجودگی فوجیوں اور خود رپورٹرز کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔</p>
<p>غزہ میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی تباہ شدہ گھروں اور عارضی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ علاقے کا بڑا حصہ کھنڈر بن چکا ہے۔ جنگ بندی کے باوجود حالیہ مہینوں میں جھڑپیں جاری ہیں اور فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282360</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Feb 2026 15:30:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/021529078928104.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/021529078928104.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
