<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تاجر برادری کا برآمدی صنعت کے لیے وزیراعظم کے نئے مراعاتی پیکیج کا خیرمقدم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282351/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن(پی آر جی ایم ای اے) نارتھ زون کے سابق چیئرمین ادیب اقبال شیخ نے  ایک بیان میں برآمدی صنعت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ مراعاتی پیکیج کا خیر مقدم کیا ہے۔ کاروباری طبقے نے اس اقدام کو ملکی مینوفیکچرنگ سیکٹر کی بحالی اور عالمی سطح پر مسابقت بڑھانے کے لیے ایک ناگزیر قدم قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعلان ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب پاکستان کی برآمدی صنعت کو بھارت اور یورپی یونین کے درمیان متوقع آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو خدشہ ہے کہ اس معاہدے کے بعد عالمی خریدار بھارت کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے ٹیکسٹائل، چمڑے اور لائٹ انجینئرنگ کے شعبوں میں پاکستان کا مارکیٹ شیئر بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مفادات کے تحفظ کے لیے فوری پالیسی سازی کی جائے۔ انہوں نے ایک مخصوص ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ  کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کنندگان کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس  اسٹیٹس کو برقرار رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت یورپی یونین معاہدے کے بعد صرف جی ایس پی پلس کافی نہیں ہوگا بلکہ ہمیں مزید ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادیب اقبال شیخ کے مطابق برآمدی صنعت کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے  زیرو پرسنٹ جی ایس ٹی نظام کی ضرورت ہے۔ موجودہ ٹیکس ڈھانچہ برآمد کنندگان کے منافع کو کم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں انہوں نے بنگلہ دیش کے ماڈل کی طرز پر لیبر قوانین میں اصلاحات کی تجویز دی، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔ بنگلہ دیش نے لچکدار لیبر قوانین کے ذریعے گارمنٹ سیکٹر میں نمایاں ترقی کی ہے اور پاکستان میں ایسی ہی اصلاحات سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجر برادری نے واضح کیا کہ حکومتی اقدامات کا اصل دارومدار ان کے فوری نفاذ پر ہے۔ انہوں نے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آج کیے گئے فیصلے پاکستان کی مستقبل کی معاشی سمت کا تعین کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن(پی آر جی ایم ای اے) نارتھ زون کے سابق چیئرمین ادیب اقبال شیخ نے  ایک بیان میں برآمدی صنعت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ مراعاتی پیکیج کا خیر مقدم کیا ہے۔ کاروباری طبقے نے اس اقدام کو ملکی مینوفیکچرنگ سیکٹر کی بحالی اور عالمی سطح پر مسابقت بڑھانے کے لیے ایک ناگزیر قدم قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ اعلان ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب پاکستان کی برآمدی صنعت کو بھارت اور یورپی یونین کے درمیان متوقع آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو خدشہ ہے کہ اس معاہدے کے بعد عالمی خریدار بھارت کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے ٹیکسٹائل، چمڑے اور لائٹ انجینئرنگ کے شعبوں میں پاکستان کا مارکیٹ شیئر بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>صنعتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مفادات کے تحفظ کے لیے فوری پالیسی سازی کی جائے۔ انہوں نے ایک مخصوص ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ  کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کنندگان کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس  اسٹیٹس کو برقرار رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت یورپی یونین معاہدے کے بعد صرف جی ایس پی پلس کافی نہیں ہوگا بلکہ ہمیں مزید ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔</p>
<p>ادیب اقبال شیخ کے مطابق برآمدی صنعت کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے  زیرو پرسنٹ جی ایس ٹی نظام کی ضرورت ہے۔ موجودہ ٹیکس ڈھانچہ برآمد کنندگان کے منافع کو کم کر رہا ہے۔</p>
<p>مزید برآں انہوں نے بنگلہ دیش کے ماڈل کی طرز پر لیبر قوانین میں اصلاحات کی تجویز دی، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔ بنگلہ دیش نے لچکدار لیبر قوانین کے ذریعے گارمنٹ سیکٹر میں نمایاں ترقی کی ہے اور پاکستان میں ایسی ہی اصلاحات سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>تاجر برادری نے واضح کیا کہ حکومتی اقدامات کا اصل دارومدار ان کے فوری نفاذ پر ہے۔ انہوں نے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آج کیے گئے فیصلے پاکستان کی مستقبل کی معاشی سمت کا تعین کریں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282351</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Feb 2026 13:33:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/021317230cefb4e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/021317230cefb4e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
