<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا پی آئی اے میں باقی 25 فیصد حصص فروخت کرنے پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282333/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کا عمل اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، اور حکام کے مطابق انتظامی کنٹرول نجی کنسورشیم کو منتقل ہونے کے بعد حکومت کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ تین ماہ کی مدت میں اپنے باقی ماندہ 25 فیصد حصص فروخت کر دے، جن کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے بنتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے حکام کے مطابق ایئرلائن اب ایک نئے ملکیتی ڈھانچے کے تحت کام کر رہی ہے، جس میں حکومت کے پاس 25 فیصد شیئرز ہیں جبکہ 75 فیصد انتظامی اختیار نجی شعبے کے کنسورشیم کے پاس ہے جس کی قیادت عارف حبیب گروپ کر رہا ہے اور جس نے آپریشنل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ اس وقت ایئرلائن کے بیڑے میں 18 طیارے شامل ہیں، جن میں سے 12 لیز پر ہیں جبکہ 6 کمپنی کی ملکیت ہیں اور ضروری مرمت کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بیڑا نیٹ ورک میں توسیع کے لیے ناکافی ہے اور خدمات کو بہتر بنانے کے لیے فوری طور پر مزید طیاروں کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروازوں کی بحالی کے حوالے سے پی آئی اے نے تصدیق کی کہ لندن کے لیے پروازیں 29 مارچ سے شروع کی جا رہی ہیں، جبکہ پیرس کے لیے سروس پہلے ہی ہفتے میں دو پروازوں کے ساتھ جاری ہے۔ مانچسٹر کے لیے ہفتہ وار تین پروازیں چلانے کا منصوبہ ہے، جبکہ ملائیشیا کے لیے پروازیں بھی جاری ہیں۔ سعودی عرب کے لیے آپریشن خاص طور پر حج اور عمرہ ٹریفک پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئرلائن کی بیلنس شیٹ سے متعلق پی آئی اے نے واضح کیا کہ اس کے پرانے اثاثے اور واجبات الگ کر کے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد ایئرلائن کے آپریشنل کھاتے کلیئر اور تجارتی بنیادوں پر مرکوز ہو گئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق یہ تنظیم نو نجی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور ایئرلائن کو مسابقتی بنیادوں پر چلانے کے لیے ناگزیر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل اور پیرس کا اسکرائب ہوٹل، جو پہلے پی آئی اے کی ملکیت تھے، نجکاری کے معاہدے میں شامل نہیں تھے۔ یہ جائیدادیں اب بھی حکومت کے پاس پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے پورٹ فولیو میں موجود ہیں اور ان کے تجارتی مستقبل کے حوالے سے الگ حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے حکام کے مطابق تنظیم نو اور اثاثوں کی منتقلی کے بعد آپریشنل منافع میں بہتری آئی ہے اور مالی نتائج مثبت سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایئرلائن نے 2024 میں تقریباً 26 ارب روپے منافع حاصل کیا، جبکہ 2025 کے پہلے چھ ماہ میں مزید تقریباً 6.8 ارب روپے منافع ریکارڈ کیا گیا، جس میں بیلنس شیٹ کی کلیئرنس کا نمایاں کردار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیڑے کی ضروریات کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ پائیدار بنیادوں پر آپریشن اور مجوزہ توسیع کے لیے پی آئی اے کو کم از کم 25 سے 30 طیاروں کی ضرورت ہوگی، تاہم اس ہدف کے حصول کی مدت کا تعین ابھی نہیں کیا گیا اور یہ نئے مالکان کی حکمت عملی پر منحصر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کا عمل اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، اور حکام کے مطابق انتظامی کنٹرول نجی کنسورشیم کو منتقل ہونے کے بعد حکومت کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ تین ماہ کی مدت میں اپنے باقی ماندہ 25 فیصد حصص فروخت کر دے، جن کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے بنتی ہے۔</strong></p>
<p>پی آئی اے حکام کے مطابق ایئرلائن اب ایک نئے ملکیتی ڈھانچے کے تحت کام کر رہی ہے، جس میں حکومت کے پاس 25 فیصد شیئرز ہیں جبکہ 75 فیصد انتظامی اختیار نجی شعبے کے کنسورشیم کے پاس ہے جس کی قیادت عارف حبیب گروپ کر رہا ہے اور جس نے آپریشنل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ اس وقت ایئرلائن کے بیڑے میں 18 طیارے شامل ہیں، جن میں سے 12 لیز پر ہیں جبکہ 6 کمپنی کی ملکیت ہیں اور ضروری مرمت کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بیڑا نیٹ ورک میں توسیع کے لیے ناکافی ہے اور خدمات کو بہتر بنانے کے لیے فوری طور پر مزید طیاروں کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>پروازوں کی بحالی کے حوالے سے پی آئی اے نے تصدیق کی کہ لندن کے لیے پروازیں 29 مارچ سے شروع کی جا رہی ہیں، جبکہ پیرس کے لیے سروس پہلے ہی ہفتے میں دو پروازوں کے ساتھ جاری ہے۔ مانچسٹر کے لیے ہفتہ وار تین پروازیں چلانے کا منصوبہ ہے، جبکہ ملائیشیا کے لیے پروازیں بھی جاری ہیں۔ سعودی عرب کے لیے آپریشن خاص طور پر حج اور عمرہ ٹریفک پر مرکوز ہے۔</p>
<p>ایئرلائن کی بیلنس شیٹ سے متعلق پی آئی اے نے واضح کیا کہ اس کے پرانے اثاثے اور واجبات الگ کر کے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد ایئرلائن کے آپریشنل کھاتے کلیئر اور تجارتی بنیادوں پر مرکوز ہو گئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق یہ تنظیم نو نجی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور ایئرلائن کو مسابقتی بنیادوں پر چلانے کے لیے ناگزیر تھی۔</p>
<p>حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل اور پیرس کا اسکرائب ہوٹل، جو پہلے پی آئی اے کی ملکیت تھے، نجکاری کے معاہدے میں شامل نہیں تھے۔ یہ جائیدادیں اب بھی حکومت کے پاس پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے پورٹ فولیو میں موجود ہیں اور ان کے تجارتی مستقبل کے حوالے سے الگ حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔</p>
<p>پی آئی اے حکام کے مطابق تنظیم نو اور اثاثوں کی منتقلی کے بعد آپریشنل منافع میں بہتری آئی ہے اور مالی نتائج مثبت سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایئرلائن نے 2024 میں تقریباً 26 ارب روپے منافع حاصل کیا، جبکہ 2025 کے پہلے چھ ماہ میں مزید تقریباً 6.8 ارب روپے منافع ریکارڈ کیا گیا، جس میں بیلنس شیٹ کی کلیئرنس کا نمایاں کردار ہے۔</p>
<p>بیڑے کی ضروریات کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ پائیدار بنیادوں پر آپریشن اور مجوزہ توسیع کے لیے پی آئی اے کو کم از کم 25 سے 30 طیاروں کی ضرورت ہوگی، تاہم اس ہدف کے حصول کی مدت کا تعین ابھی نہیں کیا گیا اور یہ نئے مالکان کی حکمت عملی پر منحصر ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282333</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Feb 2026 09:14:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نزہت نذر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/0209123570691c3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/0209123570691c3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
