<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کابینہ کمیٹی نے جی آئی ڈی سی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دیدی،400 ارب روپے کے استعمال کی راہ ہموار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282331/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کابینہ کمیٹی برائے امورِ قانون سازی (سی سی ایل سی) نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس(جی آئی ڈی سی) ایکٹ 2015 میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جن کا مقصد 400 ارب روپے سے زائد کی پھنسی ہوئی جی آئی ڈی سی رقم کے استعمال سے متعلق دیرینہ مسئلے کو حل کرنا ہے۔ ، باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ یہ پیش رفت طویل قانونی پیچیدگیوں اور عدالتی کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن نے 22 جنوری 2026 کو کابینہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ایکٹ 2011 اور 2014 کا آرڈیننس سپریم کورٹ کی جانب سے 2014 میں کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ بعد ازاں مئی 2015 میں نیا جی آئی ڈی سی ایکٹ نافذ کیا گیا، جسے سابقہ ادوار میں وصول کیے گئے سیس پر بھی لاگو کیا گیا۔ اس سیس کا بنیادی مقصد گھریلو اور کمرشل صارفین کے علاوہ دیگر گیس صارفین سے فنڈز اکٹھے کر کے بڑے گیس منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم کرنا تھا، جن میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن، ترکمانستان افغانستان پاکستان انڈیا (تاپی) پائپ لائن، ایل این جی منصوبے اور دیگر متعلقہ اسکیمیں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس قانون کی آئینی حیثیت کو صنعتی، کھاد اور سی این جی شعبوں سے وابستہ صارفین نے مختلف ہائی کورٹس میں چیلنج کیا۔ بعد ازاں یہ مقدمات سپریم کورٹ تک گئے، جس نے 13 اگست 2020 کے فیصلے میں جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015 کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا، لیکن نئے سیس کے نفاذ کی اجازت دینے کے بجائے صرف بقایا جات قسطوں میں وصول کرنے کی اجازت دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جی آئی ڈی سی ایک ٹیکس نہیں بلکہ فیس ہے، لہٰذا اس کے بدلے مخصوص خدمات یا منصوبوں پر عملدرآمد لازمی ہے، ورنہ قانون کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود ہائی کورٹس میں مقدمات زیر التوا رہے، جس کے باعث 400 ارب روپے سے زائد کی رقم استعمال میں نہیں لائی جا سکی۔ اس صورتحال کے حل کے لیے وزیر اعظم نے نومبر 2022 میں ایک اعلیٰ سطح جی آئی ڈی سی کمیٹی قائم کی، تاہم طویل قانونی رکاوٹوں کے باعث خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ مارچ 2025 میں وزیر خزانہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایکٹ کی دفعہ 4 میں ترمیم کی جائے تاکہ قانونی ابہام دور کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی مسودہ ستمبر 2025 میں کابینہ کمیٹی نے مسترد کر دیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ ترامیم کو اصل قانون کے دائرہ کار تک محدود رکھا جائے۔ بعد ازاں پیٹرولیم ڈویژن نے مسودہ ازسرنو تیار کیا، جسے دسمبر 2025 میں وزارت قانون و انصاف نے قانونی توثیق فراہم کی۔ یکم جنوری 2026 کو پیش کی گئی سمری پر غور کے بعد کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی نے ترامیم کی مشروط منظوری دے دی، جس کے تحت وزارت قانون مجوزہ بل میں کمیٹی کی سفارشات شامل کرے گی، جس کے بعد معاملہ کابینہ کو حتمی فیصلے کے لیے پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کابینہ کمیٹی برائے امورِ قانون سازی (سی سی ایل سی) نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس(جی آئی ڈی سی) ایکٹ 2015 میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جن کا مقصد 400 ارب روپے سے زائد کی پھنسی ہوئی جی آئی ڈی سی رقم کے استعمال سے متعلق دیرینہ مسئلے کو حل کرنا ہے۔ ، باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ یہ پیش رفت طویل قانونی پیچیدگیوں اور عدالتی کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔</strong></p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن نے 22 جنوری 2026 کو کابینہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ایکٹ 2011 اور 2014 کا آرڈیننس سپریم کورٹ کی جانب سے 2014 میں کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ بعد ازاں مئی 2015 میں نیا جی آئی ڈی سی ایکٹ نافذ کیا گیا، جسے سابقہ ادوار میں وصول کیے گئے سیس پر بھی لاگو کیا گیا۔ اس سیس کا بنیادی مقصد گھریلو اور کمرشل صارفین کے علاوہ دیگر گیس صارفین سے فنڈز اکٹھے کر کے بڑے گیس منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم کرنا تھا، جن میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن، ترکمانستان افغانستان پاکستان انڈیا (تاپی) پائپ لائن، ایل این جی منصوبے اور دیگر متعلقہ اسکیمیں شامل تھیں۔</p>
<p>تاہم اس قانون کی آئینی حیثیت کو صنعتی، کھاد اور سی این جی شعبوں سے وابستہ صارفین نے مختلف ہائی کورٹس میں چیلنج کیا۔ بعد ازاں یہ مقدمات سپریم کورٹ تک گئے، جس نے 13 اگست 2020 کے فیصلے میں جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015 کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا، لیکن نئے سیس کے نفاذ کی اجازت دینے کے بجائے صرف بقایا جات قسطوں میں وصول کرنے کی اجازت دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جی آئی ڈی سی ایک ٹیکس نہیں بلکہ فیس ہے، لہٰذا اس کے بدلے مخصوص خدمات یا منصوبوں پر عملدرآمد لازمی ہے، ورنہ قانون کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود ہائی کورٹس میں مقدمات زیر التوا رہے، جس کے باعث 400 ارب روپے سے زائد کی رقم استعمال میں نہیں لائی جا سکی۔ اس صورتحال کے حل کے لیے وزیر اعظم نے نومبر 2022 میں ایک اعلیٰ سطح جی آئی ڈی سی کمیٹی قائم کی، تاہم طویل قانونی رکاوٹوں کے باعث خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ مارچ 2025 میں وزیر خزانہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایکٹ کی دفعہ 4 میں ترمیم کی جائے تاکہ قانونی ابہام دور کیا جا سکے۔</p>
<p>ابتدائی مسودہ ستمبر 2025 میں کابینہ کمیٹی نے مسترد کر دیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ ترامیم کو اصل قانون کے دائرہ کار تک محدود رکھا جائے۔ بعد ازاں پیٹرولیم ڈویژن نے مسودہ ازسرنو تیار کیا، جسے دسمبر 2025 میں وزارت قانون و انصاف نے قانونی توثیق فراہم کی۔ یکم جنوری 2026 کو پیش کی گئی سمری پر غور کے بعد کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی نے ترامیم کی مشروط منظوری دے دی، جس کے تحت وزارت قانون مجوزہ بل میں کمیٹی کی سفارشات شامل کرے گی، جس کے بعد معاملہ کابینہ کو حتمی فیصلے کے لیے پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282331</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Feb 2026 08:56:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/020853308991c1e.webp" type="image/webp" medium="image" height="416" width="625">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/020853308991c1e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
