<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں مالی سال نجی شعبے کے قرضوں میں 589 ارب روپے کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282330/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بینکنگ سیکٹر کی جانب سے نجی شعبے کو فراہم کردہ قرضوں میں رواں مالی سال (مالی سال 26) کے آغاز سے اب تک 589 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ حالیہ ریگولیٹری اقدامات اور مراعاتی اسکیموں کے باعث آنے والے مہینوں میں اس رفتار میں مزید تیزی آسکتی ہے۔ یہ اقدامات خاص طور پر بینکنگ انڈسٹری اور برآمدات پر مبنی شعبوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے حال ہی میں متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سب سے اہم قدم برآمدی ری فنانس ریٹ میں 300 بیسس پوائنٹس کی کمی ہے، جس کے بعد یہ شرح 4.5 فیصد کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد برآمدی اور اس سے منسلک شعبوں کو مالی ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ پیداواری سرگرمیوں اور برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھتے ہوئے بینکوں کے لیے کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آر آر) کو 6 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد بینکاری نظام میں لیکویڈیٹی بڑھانا اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت دینا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق یکم جولائی 2025 سے 16 جنوری 2026 تک بینکوں نے نجی شعبے کو 588.68 ارب روپے کے قرضے جاری کیے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 1.367 کھرب روپے تھی۔ ماہرین کے مطابق مقامی مارکیٹ میں بلند شرح سود کے باعث نجی شعبہ قرض لینے سے گریز کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکار میر بختیار علی خان نے سی آر آر میں کمی کے فیصلے کو بروقت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کمرشل بینکوں کی قرض دینے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق سی آر آر میں ایک فیصد کمی سے کم از کم 300 ارب روپے بینکوں کے لیے دستیاب ہو سکتے ہیں، جن میں سے اگر نصف بھی نجی شعبے کو دیا جائے تو معاشی سرگرمیوں میں واضح تیزی آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے خاص طور پر لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا، جس کی شرح نمو رواں مالی سال میں تقریباً 6 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) کے چیئرمین بابر خان نے برآمد کنندگان کے لیے مراعاتی پیکجز کو مثبت قرار دیا، تاہم کہا کہ پاکستان میں پیداواری لاگت اب بھی خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہے۔ ان کے مطابق توانائی کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں مزید کمی کیے بغیر پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت حاصل نہیں کر سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری اور مالیاتی شعبے کے تجزیہ کار ابراہیم امین نے برآمدی ری فنانس اسکیم میں کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ اس سہولت سے درمیانے اور چھوٹے برآمد کنندگان کو بھی مستفید ہونے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ای کامرس سے وابستہ نوجوان کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپس کو باضابطہ بینکاری نظام میں شامل کر کے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بینکنگ سیکٹر کی جانب سے نجی شعبے کو فراہم کردہ قرضوں میں رواں مالی سال (مالی سال 26) کے آغاز سے اب تک 589 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ حالیہ ریگولیٹری اقدامات اور مراعاتی اسکیموں کے باعث آنے والے مہینوں میں اس رفتار میں مزید تیزی آسکتی ہے۔ یہ اقدامات خاص طور پر بینکنگ انڈسٹری اور برآمدات پر مبنی شعبوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے حال ہی میں متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سب سے اہم قدم برآمدی ری فنانس ریٹ میں 300 بیسس پوائنٹس کی کمی ہے، جس کے بعد یہ شرح 4.5 فیصد کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد برآمدی اور اس سے منسلک شعبوں کو مالی ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ پیداواری سرگرمیوں اور برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔</p>
<p>دوسری جانب، اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھتے ہوئے بینکوں کے لیے کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آر آر) کو 6 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد بینکاری نظام میں لیکویڈیٹی بڑھانا اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت دینا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق یکم جولائی 2025 سے 16 جنوری 2026 تک بینکوں نے نجی شعبے کو 588.68 ارب روپے کے قرضے جاری کیے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 1.367 کھرب روپے تھی۔ ماہرین کے مطابق مقامی مارکیٹ میں بلند شرح سود کے باعث نجی شعبہ قرض لینے سے گریز کرتا رہا ہے۔</p>
<p>بینکار میر بختیار علی خان نے سی آر آر میں کمی کے فیصلے کو بروقت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کمرشل بینکوں کی قرض دینے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق سی آر آر میں ایک فیصد کمی سے کم از کم 300 ارب روپے بینکوں کے لیے دستیاب ہو سکتے ہیں، جن میں سے اگر نصف بھی نجی شعبے کو دیا جائے تو معاشی سرگرمیوں میں واضح تیزی آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے خاص طور پر لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا، جس کی شرح نمو رواں مالی سال میں تقریباً 6 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔</p>
<p>پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) کے چیئرمین بابر خان نے برآمد کنندگان کے لیے مراعاتی پیکجز کو مثبت قرار دیا، تاہم کہا کہ پاکستان میں پیداواری لاگت اب بھی خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہے۔ ان کے مطابق توانائی کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں مزید کمی کیے بغیر پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت حاصل نہیں کر سکتیں۔</p>
<p>بینکاری اور مالیاتی شعبے کے تجزیہ کار ابراہیم امین نے برآمدی ری فنانس اسکیم میں کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ اس سہولت سے درمیانے اور چھوٹے برآمد کنندگان کو بھی مستفید ہونے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ای کامرس سے وابستہ نوجوان کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپس کو باضابطہ بینکاری نظام میں شامل کر کے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282330</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Feb 2026 08:41:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/02083949e6ba1d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1920">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/02083949e6ba1d5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
