<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ کپ سے قبل پاکستان نے آسٹریلیا کو کلین سویپ کر دیا، آخری ٹی ٹوئنٹی میں 111 رنز سے عبرتناک شکست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282328/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے اتوار کو  قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں آسٹریلیا کو 111 رنز سے عبرتناک شکست دے کر سیریز میں 3-0 سے تاریخی وائٹ واش مکمل کر لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے گرین شرٹس نے 5 وکٹوں کے نقصان پر 207 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ کھڑا کیا۔ اوپنر صائم ایوب نے 56 رنز کی جارحانہ باری کھیلی جبکہ بابر اعظم 50 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ اننگز کے آخری لمحات میں شاداب خان نے صرف 19 گیندوں پر 46 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیل کر مجموعے کو بلندی تک پہنچایا، جبکہ خواجہ نافع نے بھی 21 رنز کی برق رفتار اننگز سے اپنا حصہ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں آسٹریلوی بیٹنگ لائن پاکستانی بولرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پوری ٹیم لڑکھڑا گئی۔ صرف مارکس اسٹوئنس اور کیمرون گرین ہی 20 رنز کی حد عبور کرنے میں کامیاب ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے محمد نواز سب سے نمایاں بولر رہے، جنہوں نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح شاہین شاہ آفریدی نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ابرار احمد اور نسیم شاہ نے ایک ایک وکٹ لے کر اس بڑی فتح میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف 7 سال بعد پہلی ٹی ٹوئنٹی سیریز جیت کر اسے یادگار بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹیمیں" href="#ٹیمیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ٹیمیں:&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان الیون:&lt;/strong&gt; فخر زمان، صائم ایوب، بابر اعظم، سلمان علی آغا (کپتان)، خواجہ نافع، شاداب خان، محمد نواز، فہیم  اشرف، شاہین آفریدی، نسیم شاہ، ابرار احمد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا الیون:&lt;/strong&gt; میتھیو شارٹ، کیمرون گرین، میٹ رینشا، مچل مارش (کپتان)، مارکس اسٹوئنس، جوش فلپ، مچل اوون، کوپر کونیلی، بین ڈوارشوس، میتھیو کوہنیمین، ایڈم زمپا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے اتوار کو  قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں آسٹریلیا کو 111 رنز سے عبرتناک شکست دے کر سیریز میں 3-0 سے تاریخی وائٹ واش مکمل کر لیا۔</strong></p>
<p>پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے گرین شرٹس نے 5 وکٹوں کے نقصان پر 207 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ کھڑا کیا۔ اوپنر صائم ایوب نے 56 رنز کی جارحانہ باری کھیلی جبکہ بابر اعظم 50 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ اننگز کے آخری لمحات میں شاداب خان نے صرف 19 گیندوں پر 46 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیل کر مجموعے کو بلندی تک پہنچایا، جبکہ خواجہ نافع نے بھی 21 رنز کی برق رفتار اننگز سے اپنا حصہ ڈالا۔</p>
<p>جواب میں آسٹریلوی بیٹنگ لائن پاکستانی بولرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پوری ٹیم لڑکھڑا گئی۔ صرف مارکس اسٹوئنس اور کیمرون گرین ہی 20 رنز کی حد عبور کرنے میں کامیاب ہو سکے۔</p>
<p>پاکستان کی جانب سے محمد نواز سب سے نمایاں بولر رہے، جنہوں نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔</p>
<p>اسی طرح شاہین شاہ آفریدی نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ابرار احمد اور نسیم شاہ نے ایک ایک وکٹ لے کر اس بڑی فتح میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف 7 سال بعد پہلی ٹی ٹوئنٹی سیریز جیت کر اسے یادگار بنا دیا۔</p>
<h3><a id="ٹیمیں" href="#ٹیمیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ٹیمیں:</strong></h3>
<p><strong>پاکستان الیون:</strong> فخر زمان، صائم ایوب، بابر اعظم، سلمان علی آغا (کپتان)، خواجہ نافع، شاداب خان، محمد نواز، فہیم  اشرف، شاہین آفریدی، نسیم شاہ، ابرار احمد۔</p>
<p><strong>آسٹریلیا الیون:</strong> میتھیو شارٹ، کیمرون گرین، میٹ رینشا، مچل مارش (کپتان)، مارکس اسٹوئنس، جوش فلپ، مچل اوون، کوپر کونیلی، بین ڈوارشوس، میتھیو کوہنیمین، ایڈم زمپا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282328</guid>
      <pubDate>Sun, 01 Feb 2026 20:22:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/012016414d9af3f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/012016414d9af3f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
