<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم کورٹ کااعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں ایف بی آر کو زیر التوا مقدمات کا جائزہ لینے کا حکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282299/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے تمام زیر التوا مقدمات کا ازسرِنو جائزہ لے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ ان میں اٹھائے گئے قانونی نکات پہلے ہی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے ذریعے طے ہو چکے ہیں یا نہیں۔ یہ ہدایت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں دی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں ایک بار پھر واضح کیا کہ شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد 120 دن کے اندر حکم جاری کرنا لازمی تقاضا ہے، جو محض ہدایتی نہیں ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ موجودہ مقدمے میں شوکاز نوٹس 15 نومبر 2023 کو جاری ہوا جبکہ آرڈر اِن اوریجنل 20 مارچ 2024 کو جاری کیا گیا، جو مقررہ 120 دن کی مدت سے زیادہ ہے، لہٰذا اس بنیاد پر اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو یونٹ III راولپنڈی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے، جن میں سپر ایشیا اور میسرز ویک لمیٹڈ کے مقدمات شامل ہیں، آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت محکمے پر لازم ہیں۔ اس کے باوجود درخواست گزاروں نے یہ مؤقف اختیار کر کے دوبارہ وہی قانونی نکتہ اٹھانے کی کوشش کی کہ 120 دن کی مدت لازمی نہیں بلکہ محض ہدایتی ہے، جو کہ پہلے ہی عدالت عظمیٰ واضح کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ طے شدہ قانونی معاملات پر بار بار اپیلیں دائر کرنا آئینی اصولوں، عدالتی نظیروں کے احترام اور انتظامیہ کے اندر عدالتی نظم و ضبط کو کمزور کرتا ہے۔ جب ریاستی ادارے خود پابند نظیروں کو نظرانداز کرتے ہیں تو اس سے ماتحت عدالتوں، ٹریبونلز اور فریقین کو غلط پیغام جاتا ہے۔ ایسے مقدمات سے سرکاری وسائل پر بھی بوجھ پڑتا ہے کیونکہ وکلا کی فیس، عدالتی اخراجات اور انتظامی کارروائیاں عوامی خزانے سے ادا کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے نشاندہی کی کہ اس طرز عمل سے عدالتوں کا وقت ضائع ہوتا ہے اور اہم آئینی و فوجداری مقدمات، جن میں ذاتی آزادی جیسے بنیادی حقوق شامل ہوتے ہیں، متاثر ہوتے ہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ اپیل دائر کرنے سے پہلے سرکاری محکموں میں داخلی احتساب اور مؤثر قانونی جانچ پڑتال ناگزیر ہے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو واضح ہو جاتا کہ اس مقدمے میں اٹھایا گیا بنیادی قانونی سوال پہلے ہی متعدد فیصلوں میں طے ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیس کے پس منظر میں لاہور ہائی کورٹ نے بھی قرار دیا تھا کہ متعلقہ قانون کی شق کے تحت 120 دن کی مدت لازمی ہے، جس کے خلاف ایف بی آر نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے محکمے کی اپیل خارج کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے تمام زیر التوا مقدمات کا ازسرِنو جائزہ لے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ ان میں اٹھائے گئے قانونی نکات پہلے ہی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے ذریعے طے ہو چکے ہیں یا نہیں۔ یہ ہدایت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں دی گئی۔</strong></p>
<p>عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں ایک بار پھر واضح کیا کہ شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد 120 دن کے اندر حکم جاری کرنا لازمی تقاضا ہے، جو محض ہدایتی نہیں ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ موجودہ مقدمے میں شوکاز نوٹس 15 نومبر 2023 کو جاری ہوا جبکہ آرڈر اِن اوریجنل 20 مارچ 2024 کو جاری کیا گیا، جو مقررہ 120 دن کی مدت سے زیادہ ہے، لہٰذا اس بنیاد پر اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو یونٹ III راولپنڈی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے، جن میں سپر ایشیا اور میسرز ویک لمیٹڈ کے مقدمات شامل ہیں، آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت محکمے پر لازم ہیں۔ اس کے باوجود درخواست گزاروں نے یہ مؤقف اختیار کر کے دوبارہ وہی قانونی نکتہ اٹھانے کی کوشش کی کہ 120 دن کی مدت لازمی نہیں بلکہ محض ہدایتی ہے، جو کہ پہلے ہی عدالت عظمیٰ واضح کر چکی ہے۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ طے شدہ قانونی معاملات پر بار بار اپیلیں دائر کرنا آئینی اصولوں، عدالتی نظیروں کے احترام اور انتظامیہ کے اندر عدالتی نظم و ضبط کو کمزور کرتا ہے۔ جب ریاستی ادارے خود پابند نظیروں کو نظرانداز کرتے ہیں تو اس سے ماتحت عدالتوں، ٹریبونلز اور فریقین کو غلط پیغام جاتا ہے۔ ایسے مقدمات سے سرکاری وسائل پر بھی بوجھ پڑتا ہے کیونکہ وکلا کی فیس، عدالتی اخراجات اور انتظامی کارروائیاں عوامی خزانے سے ادا کی جاتی ہیں۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے نشاندہی کی کہ اس طرز عمل سے عدالتوں کا وقت ضائع ہوتا ہے اور اہم آئینی و فوجداری مقدمات، جن میں ذاتی آزادی جیسے بنیادی حقوق شامل ہوتے ہیں، متاثر ہوتے ہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ اپیل دائر کرنے سے پہلے سرکاری محکموں میں داخلی احتساب اور مؤثر قانونی جانچ پڑتال ناگزیر ہے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو واضح ہو جاتا کہ اس مقدمے میں اٹھایا گیا بنیادی قانونی سوال پہلے ہی متعدد فیصلوں میں طے ہو چکا ہے۔</p>
<p>کیس کے پس منظر میں لاہور ہائی کورٹ نے بھی قرار دیا تھا کہ متعلقہ قانون کی شق کے تحت 120 دن کی مدت لازمی ہے، جس کے خلاف ایف بی آر نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے محکمے کی اپیل خارج کر دی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282299</guid>
      <pubDate>Sun, 01 Feb 2026 10:17:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیرنس جے سگامونی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/011015314ab4bcb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/011015314ab4bcb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
