<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان،108 دہشت گرد ہلاک، 10 اہلکار شہید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282296/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان بھر میں انسداد دہشت گردی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، یہ اقدامات فتنۂ ہندوستان سے منسلک دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے مربوط حملوں کی حالیہ لہر کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق دہشت گردوں نے گزشتہ 2 روز کے دوران صوبے کے مختلف مقامات پر حملے کیے۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث ان حملوں کو ناکام بنا دیا گیا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر تعاقبی کارروائیاں اور سرچ آپریشنز شروع کر دیے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی کہ جمعہ کی صبح سے جاری کارروائیوں میں 67 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جبکہ گزشتہ 2 روز کے دوران پنجگور اور شعبان کے علاقوں میں جھڑپوں کے دوران مزید 41 شدت پسند ہلاک کیے گئے تھے، یوں بلوچستان میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 108 ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری آپریشنز کے دوران شہریوں اور اہم تنصیبات کا دفاع کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے 10 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک الگ اور نہایت افسوسناک واقعے میں دہشت گردوں نے گوادر میں بلوچ مزدور خاندانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 11 نہتے شہری جاں بحق ہو گئے، جن میں 5 مرد، 3 خواتین اور 3 بچے شامل تھے۔ یہ تمام افراد یومیہ اجرت کی غرض سے بندرگاہی شہر آئے ہوئے تھے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس حملے میں ملوث تمام دہشت گردوں کو بعد ازاں ہلاک کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی فورسز فضائی نگرانی کی مدد سے وسیع پیمانے پر سرچ، تعاقب اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ گرد و نواح کے علاقوں میں موجود کسی بھی باقی ماندہ عسکری خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ غریب مزدوروں کو نشانہ بنانا اس گروہ کے اس ارادے کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بلوچستان میں امن، ترقی اور معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے ان واقعات کی کوریج اور تشہیر سے شدت پسند بیانیے کی پشت پناہی اور ہم آہنگی مزید عیاں ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے واضح کیا ہے کہ مکمل کلیئرنس تک آپریشنز جاری رہیں گے اور شہریوں کو نشانہ بنانے والوں کے ساتھ فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان بھر میں انسداد دہشت گردی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، یہ اقدامات فتنۂ ہندوستان سے منسلک دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے مربوط حملوں کی حالیہ لہر کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>حکام کے مطابق دہشت گردوں نے گزشتہ 2 روز کے دوران صوبے کے مختلف مقامات پر حملے کیے۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث ان حملوں کو ناکام بنا دیا گیا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر تعاقبی کارروائیاں اور سرچ آپریشنز شروع کر دیے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی کہ جمعہ کی صبح سے جاری کارروائیوں میں 67 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جبکہ گزشتہ 2 روز کے دوران پنجگور اور شعبان کے علاقوں میں جھڑپوں کے دوران مزید 41 شدت پسند ہلاک کیے گئے تھے، یوں بلوچستان میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 108 ہو گئی ہے۔</p>
<p>جاری آپریشنز کے دوران شہریوں اور اہم تنصیبات کا دفاع کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے 10 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔</p>
<p>ایک الگ اور نہایت افسوسناک واقعے میں دہشت گردوں نے گوادر میں بلوچ مزدور خاندانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 11 نہتے شہری جاں بحق ہو گئے، جن میں 5 مرد، 3 خواتین اور 3 بچے شامل تھے۔ یہ تمام افراد یومیہ اجرت کی غرض سے بندرگاہی شہر آئے ہوئے تھے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس حملے میں ملوث تمام دہشت گردوں کو بعد ازاں ہلاک کر دیا گیا۔</p>
<p>سیکیورٹی فورسز فضائی نگرانی کی مدد سے وسیع پیمانے پر سرچ، تعاقب اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ گرد و نواح کے علاقوں میں موجود کسی بھی باقی ماندہ عسکری خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ غریب مزدوروں کو نشانہ بنانا اس گروہ کے اس ارادے کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بلوچستان میں امن، ترقی اور معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے ان واقعات کی کوریج اور تشہیر سے شدت پسند بیانیے کی پشت پناہی اور ہم آہنگی مزید عیاں ہوتی ہے۔</p>
<p>حکام نے واضح کیا ہے کہ مکمل کلیئرنس تک آپریشنز جاری رہیں گے اور شہریوں کو نشانہ بنانے والوں کے ساتھ فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282296</guid>
      <pubDate>Sun, 01 Feb 2026 09:40:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نزہت نذر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/01093643995b274.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/01093643995b274.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
