<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’تمام بڑے معاہدوں کی ماں‘: بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282290/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت اور یورپی یونین کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے)، جسے دونوں فریقین نے ”تمام بڑے معاہدوں کی ماں“ قرار دیا ہے، محض محصولات میں کمی کا ایک روایتی اقدام نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ تقریباً دو دہائیوں پر محیط وقفے وقفے سے ہونے والے مذاکرات کے بعد اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تحفظاتی تجارتی پالیسیوں کے باعث پیدا ہونے والی نئی عالمی تجارتی کشیدگی کے پس منظر میں حتمی شکل پانے والا یہ معاہدہ عالمی معاشی اور تزویراتی صف بندی کی ازسرِنو تشکیل میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے لیے یہ معاہدہ ایک بڑی معاشی اور سفارتی کامیابی ہے۔ تقریباً 45 کروڑ صارفین اور دنیا کی بلند ترین قوتِ خرید رکھنے والی یورپی یونین بھارت کو ایک وسیع اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ منڈی تک ترجیحی رسائی فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دواسازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ مصنوعات، آٹو پارٹس اور ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کے شعبوں میں بھارتی برآمدات کو فوری فوائد حاصل ہونے کا امکان ہے۔ برآمدات کے علاوہ، یہ معاہدہ یورپی سرمایہ کاروں کے لیے ایک زیادہ متوقع ریگولیٹری اور قانونی ماحول فراہم کرتا ہے، جس سے بھارت کے مینوفیکچرنگ، قابلِ تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے بہاؤ کی حوصلہ افزائی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کے لیے بھی اس معاہدے کی وجوہات اتنی ہی تزویراتی ہیں۔ یورپی یونین امریکا اور چین، دونوں کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات میں غیر یقینی صورتِ حال کے پیشِ نظر متبادل راستے تلاش کر رہی ہے۔ بھارت کے ساتھ ایک زیادہ مربوط معاشی شراکت داری تنوع، ترقی کرتی منڈیوں تک رسائی اور پائیداری، ڈیجیٹل گورننس اور قواعد پر مبنی تجارت جیسے شعبوں میں ہم خیال شراکت دار کے ساتھ تعاون کے مواقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ عالمی سپلائی چینز اور منڈی میں موجود دیگر کھلاڑیوں پر اپنے اثرات کے اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ فطری طور پر امریکا کے ساتھ بھارت کے تعلقات پر اس کے ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات کو جنم دیتا ہے۔ عملی طور پر اس معاہدے سے کشیدگی پیدا ہونے کا امکان کم ہے۔ واشنگٹن بدستور بھارت کو انڈو پیسفک خطے میں ایک کلیدی شراکت دار اور چین کے مقابل ایک اہم توازن کے طور پر دیکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکی کمپنیاں خاموشی سے اس امر کا نوٹس لے سکتی ہیں کہ یورپی اداروں کو اب بعض تجارتی مراعات حاصل ہو گئی ہیں، تاہم دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی شراکت داری اور مشترکہ جغرافیائی و سیاسی خدشات پر مبنی وسیع تر امریکا۔بھارت تعلقات برقرار رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود یہ معاہدہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے کھیل کے ماحول میں بھارت اپنے معاشی مفادات کو آزادانہ طور پر آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے مغربی کمپنیاں چین پر حد سے زیادہ انحصار کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہیں اور “چائنا پلس ون” حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہیں، بھارت نے خود کو ایک قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کے ساتھ ترجیحی رسائی اور واضح قواعد حاصل کر کے بھارت نے ایک ایسے وقت میں، جب سپلائی چین کا استحکام تجارتی انتخاب کے بجائے ایک تزویراتی ضرورت بن چکا ہے، خود کو ایک مستحکم، قواعد پر مبنی مینوفیکچرنگ اور سروسز حب کے طور پر مزید مضبوط کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم چین اس معاہدے کو زیادہ تشویش کے ساتھ دیکھنے کا امکان رکھتا ہے۔ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان گہرا معاشی انضمام عالمی مینوفیکچرنگ نیٹ ورکس میں چین کی مرکزی حیثیت کو کسی حد تک کمزور کرتا ہے اور یورپی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے ایک متبادل منزل فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بھارت کا چین سے مکمل علیحدگی اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور دوطرفہ تجارت بدستور نمایاں رہے گی، تاہم یہ معاہدہ نئی دہلی کو زیادہ سفارتی دباؤ اور تزویراتی لچک فراہم کرتا ہے۔ موجودہ جغرافیائی و سیاسی ماحول میں ایسی گنجائش براہِ راست طاقت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے اس کے مضمرات گہری توجہ کے متقاضی ہیں۔ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) کے چیئرمین (جنوبی) نے بھارت۔یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے ملکی ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات پر ممکنہ اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ موجودہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے باوجود یہ معاہدہ پاکستان کو ساختی طور پر نقصان کی پوزیشن میں لے آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وزیرِاعظم سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور یورپی منڈی میں پاکستان کی برآمدات کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان کو اس وقت جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت یورپی یونین تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے — جو اس رسائی سے ملتی جلتی ہے جس کی توقع بھارت کو ایف ٹی اے کے تحت ہے — تاہم مسابقتی ماحول یکساں نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”پاکستان کی جی ایس پی پلس رسائی مشروط ہے۔ ہمیں انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق، ماحولیات اور گورننس سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق، عمل درآمد اور مسلسل رپورٹنگ کرنا ہوتی ہے۔ بھارت کو ایف ٹی اے کے تحت حاصل ہونے والی رسائی پر اس درجے کی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ”اصل مسئلہ لاگت کی مسابقت کا ہے۔ خطے میں پاکستان کی مینوفیکچرنگ لاگت تاریخی طور پر سب سے زیادہ رہی ہے، جبکہ بھارت کی پیداواری لاگت نمایاں طور پر کم ہے، جس سے ٹیرف برابری کی صورت میں بھارتی برآمد کنندگان کو فطری برتری حاصل ہو جاتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت سستی توانائی، کم فنانسنگ لاگت، بڑے پیمانے کی پیداوار، مربوط سپلائی چینز اور مضبوط لاجسٹکس انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھاتا ہے، جو بھارتی برآمد کنندگان کو یورپی منڈی میں زیادہ جارحانہ قیمتیں مقرر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ”جب ٹیرف کی برابری کو کم پیداواری لاگت اور نسبتاً کم تعمیلی تقاضوں کے ساتھ ملایا جائے تو پاکستان کے خلاف مسابقتی خلا نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور یورپی یونین کے درمیان پہلے سے موجود دوطرفہ تجارت کے بڑے حجم، جس نے اس آزاد تجارتی معاہدے کی راہ ہموار کی، کے باعث اسلام آباد قریبی مدت میں اسی نوعیت کے کسی معاہدے کا حقیقت پسندانہ طور پر خواہاں نہیں ہو سکتا۔ تاہم بھارت۔یورپی یونین معاہدے کو کسی طور بھی اخراجی یا پاکستان مخالف اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین پہلے ہی جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ شعبہ جاتی تجارتی انتظامات، سرمایہ کاری کے تحفظ کے بہتر میکنزم اور گرین ٹرانزیشن، کاربن مارکیٹس اور اسکلز ڈیولپمنٹ جیسے شعبوں میں تعاون کے ذریعے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان اور یورپی یونین کے معاشی تعلقات میں کسی بھی بامعنی بہتری کا انحصار سفارت کاری سے زیادہ اندرونی اصلاحات پر ہوگا۔ ریگولیٹری غیر یقینی صورتِ حال، ٹیکس اور کسٹمز کے غیر مربوط نظام، توانائی کی بلند لاگت اور سیاسی عدم استحکام کے تاثر بدستور پاکستان کی مذاکراتی حیثیت کو محدود کیے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کا تاثر بنیادی طور پر ایک قواعد پر مبنی فریق کا ہے، اور ترجیحی رسائی تعمیل، شفافیت اور ادارہ جاتی ساکھ سے الگ نہیں کی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت۔یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (جسے یورپی رکن ممالک اور یورپی پارلیمنٹ کی توثیق درکار ہے) سے حاصل ہونے والا وسیع تر سبق بالکل واضح ہے۔ تجارتی جنگوں، تزویراتی مسابقت اور کمزور ہوتی کثیرالجہتی ادارہ جاتی ساخت سے عبارت منقسم عالمی معیشت میں وہی ممالک شراکت داریاں حاصل کریں گے جو وسعت، استحکام اور قابلِ اعتبار قواعد پیش کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حقیقت کے باوجود کہ بھارت کا ریگولیٹری فریم ورک اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے فراہم کردہ لیول پلینگ فیلڈ حوصلہ افزا نہیں رہا اور یورپی یونین کے ساتھ ایف ٹی اے برسوں سے تعطل کا شکار تھا، بھارت نے تجارتی جنگوں سے متاثرہ اس منقسم عالمی معیشت کے لمحے کو استعمال کرتے ہوئے خود کو ابھرتے ہوئے عالمی معاشی ڈھانچے میں مضبوطی سے جوڑ لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس خود کو ازسرِنو پوزیشن کرنے کا موقع موجود ہے، تاہم یہ گنجائش تیزی سے سکڑ رہی ہے—اور اس کا انحصار مسلسل اندرونی اصلاحات پر ہی رہے گا۔ اس حوالے سے حکومت اور نجی شعبے، دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت اور یورپی یونین کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے)، جسے دونوں فریقین نے ”تمام بڑے معاہدوں کی ماں“ قرار دیا ہے، محض محصولات میں کمی کا ایک روایتی اقدام نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ تقریباً دو دہائیوں پر محیط وقفے وقفے سے ہونے والے مذاکرات کے بعد اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تحفظاتی تجارتی پالیسیوں کے باعث پیدا ہونے والی نئی عالمی تجارتی کشیدگی کے پس منظر میں حتمی شکل پانے والا یہ معاہدہ عالمی معاشی اور تزویراتی صف بندی کی ازسرِنو تشکیل میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔</strong></p>
<p>بھارت کے لیے یہ معاہدہ ایک بڑی معاشی اور سفارتی کامیابی ہے۔ تقریباً 45 کروڑ صارفین اور دنیا کی بلند ترین قوتِ خرید رکھنے والی یورپی یونین بھارت کو ایک وسیع اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ منڈی تک ترجیحی رسائی فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>دواسازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ مصنوعات، آٹو پارٹس اور ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کے شعبوں میں بھارتی برآمدات کو فوری فوائد حاصل ہونے کا امکان ہے۔ برآمدات کے علاوہ، یہ معاہدہ یورپی سرمایہ کاروں کے لیے ایک زیادہ متوقع ریگولیٹری اور قانونی ماحول فراہم کرتا ہے، جس سے بھارت کے مینوفیکچرنگ، قابلِ تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے بہاؤ کی حوصلہ افزائی ہوگی۔</p>
<p>یورپی یونین کے لیے بھی اس معاہدے کی وجوہات اتنی ہی تزویراتی ہیں۔ یورپی یونین امریکا اور چین، دونوں کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات میں غیر یقینی صورتِ حال کے پیشِ نظر متبادل راستے تلاش کر رہی ہے۔ بھارت کے ساتھ ایک زیادہ مربوط معاشی شراکت داری تنوع، ترقی کرتی منڈیوں تک رسائی اور پائیداری، ڈیجیٹل گورننس اور قواعد پر مبنی تجارت جیسے شعبوں میں ہم خیال شراکت دار کے ساتھ تعاون کے مواقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>یہ معاہدہ عالمی سپلائی چینز اور منڈی میں موجود دیگر کھلاڑیوں پر اپنے اثرات کے اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p>یہ معاہدہ فطری طور پر امریکا کے ساتھ بھارت کے تعلقات پر اس کے ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات کو جنم دیتا ہے۔ عملی طور پر اس معاہدے سے کشیدگی پیدا ہونے کا امکان کم ہے۔ واشنگٹن بدستور بھارت کو انڈو پیسفک خطے میں ایک کلیدی شراکت دار اور چین کے مقابل ایک اہم توازن کے طور پر دیکھتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ امریکی کمپنیاں خاموشی سے اس امر کا نوٹس لے سکتی ہیں کہ یورپی اداروں کو اب بعض تجارتی مراعات حاصل ہو گئی ہیں، تاہم دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی شراکت داری اور مشترکہ جغرافیائی و سیاسی خدشات پر مبنی وسیع تر امریکا۔بھارت تعلقات برقرار رہیں گے۔</p>
<p>اس کے باوجود یہ معاہدہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے کھیل کے ماحول میں بھارت اپنے معاشی مفادات کو آزادانہ طور پر آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔</p>
<p>جیسے جیسے مغربی کمپنیاں چین پر حد سے زیادہ انحصار کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہیں اور “چائنا پلس ون” حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہیں، بھارت نے خود کو ایک قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔</p>
<p>یورپی یونین کے ساتھ ترجیحی رسائی اور واضح قواعد حاصل کر کے بھارت نے ایک ایسے وقت میں، جب سپلائی چین کا استحکام تجارتی انتخاب کے بجائے ایک تزویراتی ضرورت بن چکا ہے، خود کو ایک مستحکم، قواعد پر مبنی مینوفیکچرنگ اور سروسز حب کے طور پر مزید مضبوط کیا ہے۔</p>
<p>تاہم چین اس معاہدے کو زیادہ تشویش کے ساتھ دیکھنے کا امکان رکھتا ہے۔ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان گہرا معاشی انضمام عالمی مینوفیکچرنگ نیٹ ورکس میں چین کی مرکزی حیثیت کو کسی حد تک کمزور کرتا ہے اور یورپی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے ایک متبادل منزل فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ بھارت کا چین سے مکمل علیحدگی اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور دوطرفہ تجارت بدستور نمایاں رہے گی، تاہم یہ معاہدہ نئی دہلی کو زیادہ سفارتی دباؤ اور تزویراتی لچک فراہم کرتا ہے۔ موجودہ جغرافیائی و سیاسی ماحول میں ایسی گنجائش براہِ راست طاقت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے اس کے مضمرات گہری توجہ کے متقاضی ہیں۔ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) کے چیئرمین (جنوبی) نے بھارت۔یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے ملکی ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات پر ممکنہ اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ موجودہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے باوجود یہ معاہدہ پاکستان کو ساختی طور پر نقصان کی پوزیشن میں لے آئے گا۔</p>
<p>انہوں نے وزیرِاعظم سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور یورپی منڈی میں پاکستان کی برآمدات کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان کو اس وقت جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت یورپی یونین تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے — جو اس رسائی سے ملتی جلتی ہے جس کی توقع بھارت کو ایف ٹی اے کے تحت ہے — تاہم مسابقتی ماحول یکساں نہیں رہے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”پاکستان کی جی ایس پی پلس رسائی مشروط ہے۔ ہمیں انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق، ماحولیات اور گورننس سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق، عمل درآمد اور مسلسل رپورٹنگ کرنا ہوتی ہے۔ بھارت کو ایف ٹی اے کے تحت حاصل ہونے والی رسائی پر اس درجے کی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔“</p>
<p>ان کے مطابق ”اصل مسئلہ لاگت کی مسابقت کا ہے۔ خطے میں پاکستان کی مینوفیکچرنگ لاگت تاریخی طور پر سب سے زیادہ رہی ہے، جبکہ بھارت کی پیداواری لاگت نمایاں طور پر کم ہے، جس سے ٹیرف برابری کی صورت میں بھارتی برآمد کنندگان کو فطری برتری حاصل ہو جاتی ہے۔“</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت سستی توانائی، کم فنانسنگ لاگت، بڑے پیمانے کی پیداوار، مربوط سپلائی چینز اور مضبوط لاجسٹکس انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھاتا ہے، جو بھارتی برآمد کنندگان کو یورپی منڈی میں زیادہ جارحانہ قیمتیں مقرر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ”جب ٹیرف کی برابری کو کم پیداواری لاگت اور نسبتاً کم تعمیلی تقاضوں کے ساتھ ملایا جائے تو پاکستان کے خلاف مسابقتی خلا نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔“</p>
<p>بھارت اور یورپی یونین کے درمیان پہلے سے موجود دوطرفہ تجارت کے بڑے حجم، جس نے اس آزاد تجارتی معاہدے کی راہ ہموار کی، کے باعث اسلام آباد قریبی مدت میں اسی نوعیت کے کسی معاہدے کا حقیقت پسندانہ طور پر خواہاں نہیں ہو سکتا۔ تاہم بھارت۔یورپی یونین معاہدے کو کسی طور بھی اخراجی یا پاکستان مخالف اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔</p>
<p>یورپی یونین پہلے ہی جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ شعبہ جاتی تجارتی انتظامات، سرمایہ کاری کے تحفظ کے بہتر میکنزم اور گرین ٹرانزیشن، کاربن مارکیٹس اور اسکلز ڈیولپمنٹ جیسے شعبوں میں تعاون کے ذریعے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔</p>
<p>تاہم پاکستان اور یورپی یونین کے معاشی تعلقات میں کسی بھی بامعنی بہتری کا انحصار سفارت کاری سے زیادہ اندرونی اصلاحات پر ہوگا۔ ریگولیٹری غیر یقینی صورتِ حال، ٹیکس اور کسٹمز کے غیر مربوط نظام، توانائی کی بلند لاگت اور سیاسی عدم استحکام کے تاثر بدستور پاکستان کی مذاکراتی حیثیت کو محدود کیے ہوئے ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین کا تاثر بنیادی طور پر ایک قواعد پر مبنی فریق کا ہے، اور ترجیحی رسائی تعمیل، شفافیت اور ادارہ جاتی ساکھ سے الگ نہیں کی جا سکتی۔</p>
<p>بھارت۔یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (جسے یورپی رکن ممالک اور یورپی پارلیمنٹ کی توثیق درکار ہے) سے حاصل ہونے والا وسیع تر سبق بالکل واضح ہے۔ تجارتی جنگوں، تزویراتی مسابقت اور کمزور ہوتی کثیرالجہتی ادارہ جاتی ساخت سے عبارت منقسم عالمی معیشت میں وہی ممالک شراکت داریاں حاصل کریں گے جو وسعت، استحکام اور قابلِ اعتبار قواعد پیش کر سکیں۔</p>
<p>اس حقیقت کے باوجود کہ بھارت کا ریگولیٹری فریم ورک اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے فراہم کردہ لیول پلینگ فیلڈ حوصلہ افزا نہیں رہا اور یورپی یونین کے ساتھ ایف ٹی اے برسوں سے تعطل کا شکار تھا، بھارت نے تجارتی جنگوں سے متاثرہ اس منقسم عالمی معیشت کے لمحے کو استعمال کرتے ہوئے خود کو ابھرتے ہوئے عالمی معاشی ڈھانچے میں مضبوطی سے جوڑ لیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے پاس خود کو ازسرِنو پوزیشن کرنے کا موقع موجود ہے، تاہم یہ گنجائش تیزی سے سکڑ رہی ہے—اور اس کا انحصار مسلسل اندرونی اصلاحات پر ہی رہے گا۔ اس حوالے سے حکومت اور نجی شعبے، دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282290</guid>
      <pubDate>Sat, 31 Jan 2026 18:04:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/311806133078b63.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/311806133078b63.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
