<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:55:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:55:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت، یورپی یونین تجارتی معاہدہ: پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282289/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے)، یورپی مارکیٹ میں پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ہوزری کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایچ ایم اے کے سینئر نائب چیئرمین (شمال) احمد افضال اعوان نے وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور یورپی یونین میں پاکستان کے برآمدی مفادات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اس وقت جی ایس ٹی پلس اسکیم کے تحت ڈیوٹی فری رسائی سے مستفید ہے، لیکن اگر بھارت ایف ٹی اے کے ذریعے اسی طرح کے ٹیرف فوائد حاصل کر لیتا ہے تو مسابقتی میدان غیر متوازن رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت 27 بین الاقوامی کنونشنز کے سخت تعمیل کی شرط سے مشروط ہے، جو انسانی حقوق، مزدور کے معیار، ماحولیاتی تحفظ اور حکمرانی کو کور کرتی ہیں اور برآمد کنندگان کے لیے لاگت کو نمایاں طور پر بڑھاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد افضال اعوان  نے اس بات پر زور دیا کہ صرف ٹیرف (ڈیوٹی) میں برابری ہی عالمی مارکیٹ میں مقابلے کی صلاحیت کی ضمانت نہیں دیتی، خاص طور پر جب پاکستان میں پیداواری لاگت پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے)، یورپی مارکیٹ میں پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ہوزری کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>پی ایچ ایم اے کے سینئر نائب چیئرمین (شمال) احمد افضال اعوان نے وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور یورپی یونین میں پاکستان کے برآمدی مفادات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اس وقت جی ایس ٹی پلس اسکیم کے تحت ڈیوٹی فری رسائی سے مستفید ہے، لیکن اگر بھارت ایف ٹی اے کے ذریعے اسی طرح کے ٹیرف فوائد حاصل کر لیتا ہے تو مسابقتی میدان غیر متوازن رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت 27 بین الاقوامی کنونشنز کے سخت تعمیل کی شرط سے مشروط ہے، جو انسانی حقوق، مزدور کے معیار، ماحولیاتی تحفظ اور حکمرانی کو کور کرتی ہیں اور برآمد کنندگان کے لیے لاگت کو نمایاں طور پر بڑھاتی ہیں۔</p>
<p>احمد افضال اعوان  نے اس بات پر زور دیا کہ صرف ٹیرف (ڈیوٹی) میں برابری ہی عالمی مارکیٹ میں مقابلے کی صلاحیت کی ضمانت نہیں دیتی، خاص طور پر جب پاکستان میں پیداواری لاگت پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282289</guid>
      <pubDate>Sat, 31 Jan 2026 16:19:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/3116082858c4d54.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/3116082858c4d54.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
