<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکسپورٹ انڈسٹریز کیلئے وزیراعظم کا ریلیف پیکیج، صنعتکاروں کا خیر مقدم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282279/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرستِ اعلیٰ ایس ایم تنویر نے وزیرِاعظم شہباز شریف کے حالیہ اسٹریٹجک فیصلوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات پاکستان کی برآمدات پر مبنی صنعتوں کو بحال کرنے میں کلیدی کردارادا کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایم تنویر نےبزنس کمیونٹی کے رہنما ڈاکٹر گوہر اعجاز، صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام، سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں، تمام نائب صدور اور ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس کی قیادت کی بھی تعریف کی جنہوں نے سہل بزنس کے لیے حکومت کو قائل کرنے میں بھرپور آواز اٹھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بیان میں ایس ایم تنویر نے کہا کہ یہ اقدامات عالمی منڈی میں مقامی صنعتکاروں کے لیے برابر مواقع فراہم کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صنعتی شعبے کو درپیش بنیادی رکاوٹوں کے حل کیلئے 3 گیم چینجر اصلاحات کی نشاندہی کی ہے جیسے کہ ایکسپورٹ ری فنانس ریٹ کو کم کر کے 4.5 فیصد کردیا گیا جس سے صنعت کو کم لاگت پر ضروری لیکویڈٹی میسر آئے گی، اسکے علاوہ صنعتی شعبےسے دیگر صارفین کو دی جانے والی کراس سبسڈی کا خاتمہ جسکے نتیجے میں صنعت کے لیے بجلی کی قیمت میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی آئی ہے اور وہیلنگ چارجز میں طویل انتظار کے بعد کمی کر کے 9 روپے فی یونٹ سے کم کیا گیا جس سے فیکٹریاں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذریعے شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی زیادہ سستے داموں استعمال کر سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایم تنویر نے اعتماد کا اظہار کیا کہ خصوصاً توانائی لاگت میں یہ اصلاحات پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے ٹیکسٹائل سیکٹر میں نئی جان ڈالیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ فطری صلاحیت موجود ہے کہ وہ 2030 تک اشیا اور خدمات کی برآمدات 100 ارب ڈالر تک بڑھا سکے تاہم اس ہدف کے حصول کے لیے حکومت کی مسلسل سرپرستی اور فعال پالیسی سازی ناگزیر ہے تاکہ کاروبار کرنے کی لاگت خطے میں مسابقتی سطح پر برقرار رکھی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرستِ اعلیٰ ایس ایم تنویر نے وزیرِاعظم شہباز شریف کے حالیہ اسٹریٹجک فیصلوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات پاکستان کی برآمدات پر مبنی صنعتوں کو بحال کرنے میں کلیدی کردارادا کریں گے۔</strong></p>
<p>ایس ایم تنویر نےبزنس کمیونٹی کے رہنما ڈاکٹر گوہر اعجاز، صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام، سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں، تمام نائب صدور اور ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس کی قیادت کی بھی تعریف کی جنہوں نے سہل بزنس کے لیے حکومت کو قائل کرنے میں بھرپور آواز اٹھائی۔</p>
<p>اپنے بیان میں ایس ایم تنویر نے کہا کہ یہ اقدامات عالمی منڈی میں مقامی صنعتکاروں کے لیے برابر مواقع فراہم کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔</p>
<p>انہوں نے صنعتی شعبے کو درپیش بنیادی رکاوٹوں کے حل کیلئے 3 گیم چینجر اصلاحات کی نشاندہی کی ہے جیسے کہ ایکسپورٹ ری فنانس ریٹ کو کم کر کے 4.5 فیصد کردیا گیا جس سے صنعت کو کم لاگت پر ضروری لیکویڈٹی میسر آئے گی، اسکے علاوہ صنعتی شعبےسے دیگر صارفین کو دی جانے والی کراس سبسڈی کا خاتمہ جسکے نتیجے میں صنعت کے لیے بجلی کی قیمت میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی آئی ہے اور وہیلنگ چارجز میں طویل انتظار کے بعد کمی کر کے 9 روپے فی یونٹ سے کم کیا گیا جس سے فیکٹریاں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذریعے شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی زیادہ سستے داموں استعمال کر سکیں گی۔</p>
<p>ایس ایم تنویر نے اعتماد کا اظہار کیا کہ خصوصاً توانائی لاگت میں یہ اصلاحات پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے ٹیکسٹائل سیکٹر میں نئی جان ڈالیں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ فطری صلاحیت موجود ہے کہ وہ 2030 تک اشیا اور خدمات کی برآمدات 100 ارب ڈالر تک بڑھا سکے تاہم اس ہدف کے حصول کے لیے حکومت کی مسلسل سرپرستی اور فعال پالیسی سازی ناگزیر ہے تاکہ کاروبار کرنے کی لاگت خطے میں مسابقتی سطح پر برقرار رکھی جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282279</guid>
      <pubDate>Sat, 31 Jan 2026 13:51:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/31134707e8f0625.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/31134707e8f0625.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
