<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>راست کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی ادائیگی، ایکسچینج کمپنیوں کیلئے طریقہ کار جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282272/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نےایکسچینج کمپنیوں (ای سیز) کیلئے راست کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی ادائیگی کا تفصیلی طریقہ کار جاری کردیا ہے، یہ قدم جس کی اصولی منظوری پہلے ہی دی جا چکی تھی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذرائع کو مضبوط بنانے، شفافیت کو بڑھانے اور ملک میں ترسیلاتِ زر کی تیز رفتار اور محفوظ منتقلی کو ممکن بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں حال ہی میں اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کے لیے اپنی ہدایات میں ترمیم کی ہے اور کیش لیس معیشت کے اقدامات کی حمایت کے لیے راست کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی ڈیجیٹل ادائیگی کی اجازت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ترمیم کے بعد پیشگی منظوری اور آن بورڈنگ (نظام میں شمولیت) کی ضروریات پوری کرنے کے بعد ایکسچینج کمپنیاں اب ترسیلاتِ زر کی رقم براہِ راست وصول کنندگان کے بینک اکاؤنٹس یا موبائل والٹس میں منتقل کر سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق اب وہ ایکسچینج کمپنی جس نے اجازت حاصل کرلی ہے، اسے راست کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی ادائیگی کے لیے کسی بھی مجاز بینک کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اجازت ہے۔ یہ اجازت مطلوبہ شرائط و ضوابط کی تکمیل سے مشروط ہے اور ایکسچینج کمپنی اس لین دین کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تمام متعلقہ شرائط کی تعمیل کو یقینی بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فری سینڈ ماڈل (ٹی ٹی چارجز اسکیم) کے تحت ترسیلاتِ زر کی وصولی کی صورت میں ایکسچینج کمپنی وصول کنندہ سے کوئی فیس وصول نہیں کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی متعلقہ بینک کو الیکٹرانک پروسیڈز رئیلائزیشن سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لیے ضروری معلومات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوگی اور بینک کے ساتھ اس معاہدے میں اسٹیٹ بینک کی پیشگی منظوری کے بغیر کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں یہ کمپنی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ مجوزہ معاہدہ اسٹیٹ بینک کے قواعد و ضوابط بشمول اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل ) اور نو یور کسٹمر کے تقاضوں اور دیگر متعلقہ ہدایات کے عین مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنی کو ہدایت دی ہے کہ وہ معاہدے کے مسودے میں مذکورہ شرائط کے مطابق ترمیم کرے اور راست کے ذریعے اندرونِ ملک ترسیلاتِ زر کی ادائیگیوں کے آغاز سے قبل ریکارڈ کے لیے نظرثانی شدہ حتمی معاہدہ ای پی ڈی کو دوبارہ جمع کرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سہولت کے ذریعے ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے افراد اپنے فنڈز بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں یا ای-منی اداروں  میں موجود اپنے اکاؤنٹس اور والٹس میں محفوظ اور مؤثر طریقے سے وصول کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت کیش لیس معیشت کے مجموعی قومی مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک بوستان نے اسٹیٹ بینک کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت ایکسچینج کمپنیوں کو ’راست‘ کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی ادائیگی کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے اسے کیش لیس معیشت کے فروغ اور ترسیلاتِ زر کے لین دین کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ٹرانزیکشن کے وقت میں نمایاں کمی آئے گی اور وصول کنندگان کو بڑی سہولت میسر ہوگی جو اب ایکسچینج کمپنیوں کے دفاتر جائے بغیر براہِ راست اپنے بینک اکاؤنٹس میں رقم وصول کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“انہوں نے مطلع کیا کہ اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کو چار بینکوں بینک آف پنجاب، حبیب بینک لمیٹڈ ، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ  اور بینک الحبیب کے ساتھ راست کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی ادائیگی کے معاہدے کرنے کی اجازت دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کو رواں مالی سال کے اختتام تک ورکرز ریمیٹنس  کی مد میں تقریباً 42 ارب ڈالر موصول ہونے کی توقع ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ حجم 38 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بوستان نے نشاندہی کی کہ اگرچہ اس وقت اشیاء کی برآمدات دباؤ کا شکار ہیں، تاہم ترسیلاتِ زر میں اضافے اور دفاعی برآمدات میں بڑھوتری سے اس کمی کو پورا کرنے اور بیرونی کھاتے کو سہارا ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسٹیٹ بینک کے گورنر کی پیش گوئی کا بھی حوالہ دیا کہ بہتر ان فلو (رقوم کی آمد) کی بدولت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر سال کے اختتام تک 20.20 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ملک بوستان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی کرنسی کی وافر آمد کے ساتھ، آنے والے مہینوں میں شرحِ مبادلہ  میں مزید بہتری متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نےایکسچینج کمپنیوں (ای سیز) کیلئے راست کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی ادائیگی کا تفصیلی طریقہ کار جاری کردیا ہے، یہ قدم جس کی اصولی منظوری پہلے ہی دی جا چکی تھی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذرائع کو مضبوط بنانے، شفافیت کو بڑھانے اور ملک میں ترسیلاتِ زر کی تیز رفتار اور محفوظ منتقلی کو ممکن بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔</strong></p>
<p>اس سلسلے میں حال ہی میں اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کے لیے اپنی ہدایات میں ترمیم کی ہے اور کیش لیس معیشت کے اقدامات کی حمایت کے لیے راست کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی ڈیجیٹل ادائیگی کی اجازت دی ہے۔</p>
<p>اس ترمیم کے بعد پیشگی منظوری اور آن بورڈنگ (نظام میں شمولیت) کی ضروریات پوری کرنے کے بعد ایکسچینج کمپنیاں اب ترسیلاتِ زر کی رقم براہِ راست وصول کنندگان کے بینک اکاؤنٹس یا موبائل والٹس میں منتقل کر سکیں گی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق اب وہ ایکسچینج کمپنی جس نے اجازت حاصل کرلی ہے، اسے راست کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی ادائیگی کے لیے کسی بھی مجاز بینک کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اجازت ہے۔ یہ اجازت مطلوبہ شرائط و ضوابط کی تکمیل سے مشروط ہے اور ایکسچینج کمپنی اس لین دین کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تمام متعلقہ شرائط کی تعمیل کو یقینی بنائے گی۔</p>
<p>فری سینڈ ماڈل (ٹی ٹی چارجز اسکیم) کے تحت ترسیلاتِ زر کی وصولی کی صورت میں ایکسچینج کمپنی وصول کنندہ سے کوئی فیس وصول نہیں کرے گی۔</p>
<p>کمپنی متعلقہ بینک کو الیکٹرانک پروسیڈز رئیلائزیشن سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لیے ضروری معلومات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوگی اور بینک کے ساتھ اس معاہدے میں اسٹیٹ بینک کی پیشگی منظوری کے بغیر کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>علاوہ ازیں یہ کمپنی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ مجوزہ معاہدہ اسٹیٹ بینک کے قواعد و ضوابط بشمول اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل ) اور نو یور کسٹمر کے تقاضوں اور دیگر متعلقہ ہدایات کے عین مطابق ہے۔</p>
<p>مزید برآں اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنی کو ہدایت دی ہے کہ وہ معاہدے کے مسودے میں مذکورہ شرائط کے مطابق ترمیم کرے اور راست کے ذریعے اندرونِ ملک ترسیلاتِ زر کی ادائیگیوں کے آغاز سے قبل ریکارڈ کے لیے نظرثانی شدہ حتمی معاہدہ ای پی ڈی کو دوبارہ جمع کرائے۔</p>
<p>اس سہولت کے ذریعے ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے افراد اپنے فنڈز بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں یا ای-منی اداروں  میں موجود اپنے اکاؤنٹس اور والٹس میں محفوظ اور مؤثر طریقے سے وصول کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت کیش لیس معیشت کے مجموعی قومی مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔</p>
<p>چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک بوستان نے اسٹیٹ بینک کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت ایکسچینج کمپنیوں کو ’راست‘ کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی ادائیگی کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے اسے کیش لیس معیشت کے فروغ اور ترسیلاتِ زر کے لین دین کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ٹرانزیکشن کے وقت میں نمایاں کمی آئے گی اور وصول کنندگان کو بڑی سہولت میسر ہوگی جو اب ایکسچینج کمپنیوں کے دفاتر جائے بغیر براہِ راست اپنے بینک اکاؤنٹس میں رقم وصول کر سکیں گے۔</p>
<p>“انہوں نے مطلع کیا کہ اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کو چار بینکوں بینک آف پنجاب، حبیب بینک لمیٹڈ ، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ  اور بینک الحبیب کے ساتھ راست کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی ادائیگی کے معاہدے کرنے کی اجازت دے دی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کو رواں مالی سال کے اختتام تک ورکرز ریمیٹنس  کی مد میں تقریباً 42 ارب ڈالر موصول ہونے کی توقع ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ حجم 38 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>ملک بوستان نے نشاندہی کی کہ اگرچہ اس وقت اشیاء کی برآمدات دباؤ کا شکار ہیں، تاہم ترسیلاتِ زر میں اضافے اور دفاعی برآمدات میں بڑھوتری سے اس کمی کو پورا کرنے اور بیرونی کھاتے کو سہارا ملنے کی توقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے اسٹیٹ بینک کے گورنر کی پیش گوئی کا بھی حوالہ دیا کہ بہتر ان فلو (رقوم کی آمد) کی بدولت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر سال کے اختتام تک 20.20 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ملک بوستان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی کرنسی کی وافر آمد کے ساتھ، آنے والے مہینوں میں شرحِ مبادلہ  میں مزید بہتری متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282272</guid>
      <pubDate>Sat, 31 Jan 2026 12:19:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/31111336f90b3e3.webp" type="image/webp" medium="image" height="737" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/31111336f90b3e3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
