<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کی یورپی یونین کے ساتھ معاشی روابط بڑھانے کی کوششیں تیز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282267/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کے حتمی مراحل میں داخل ہونے کے بعد  یورپی منڈیوں میں بھارتی مصنوعات کے مقابلے میں اپنا مارکیٹ شیئر کھونے کے خدشے کے پیشِ نظر پاکستان نے یورپی یونین کے ساتھ اقتصادی روابط کے نئے مواقع تلاش کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جی ایس پی پلس جیسے اہم تجارتی مراعاتی منصوبے کی مدت میں توسیع کے لیے بھی کوشاں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایک اعلیٰ سطح کے بین الوزارتی اجلاس کی صدارت کی جس کا مقصد یورپی یونین کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کا جائزہ لینا اور انہیں مزید مستحکم کرنا تھا۔ اسلام آباد کی یہ کوششیں یورپی یونین کے ساتھ بھارت کے حالیہ تاریخی تجارتی معاہدے کے بعد اپنی مصنوعات کے لیے یورپی منڈیوں تک رسائی کو محفوظ بنانے کے تناظر میں کی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یورپی یونین اور بھارت کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے پر باقاعدہ دستخط رواں سال کے آخر تک ہوں گے، جب یہ معاہدہ یورپی پارلیمنٹ سے منظور ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سرکاری بیان کے مطابق پاکستانی حکام نے یورپی بلاک کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اجلاس کو اس وسیع تر سفارتی اور پالیسی مہم کا حصہ دیکھا جا رہا ہے جو بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مذاکرات کی تکمیل اور آزادانہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد شروع کی گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارتی برآمد کنندگان کو یورپ تک وسیع پیمانے پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہو جائے گی۔ پاکستانی برآمد کنندگان نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے عالمی منڈی میں پاکستان کی مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں، جو کہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے تجارتی تعاون کو فروغ دینے، اقتصادی روابط کے نئے مواقع تلاش کرنے اور پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے تجارتی تعاون بڑھانے، معاشی روابط کے نئے مواقع تلاش کرنے اور پاکستان و یورپی یونین کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جی ایس پی پلس باہمی فائدہ مند تجارت کے لیے ایک نہایت اہم فریم ورک ہے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے اس کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بین الوزارتی اجلاس کا انعقاد مشاورت کے ایک طویل سلسلے کے بعد کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان میں متعین یورپی یونین کے سفیر کے درمیان نئے منظر نامے میں پاک یورپی تعاون پر بات چیت ہوئی۔ دریں اثنا پاکستان کی تجارتی تنظیموں نے بھی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو یورپی ممالک کو ہونے والی برآمدات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2024-2025 میں یورپی یونین کے لیے پاکستان کی برآمدات 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جس کے بعد یورپی یونین ایک اولین اور کلیدی منڈی کے طور پر سامنے آئی ہے جہاں پاکستان کی مجموعی عالمی برآمدات کا تقریباً 24 سے 29 فیصد حصہ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی چیمبر کے نائب صدر، ثاقب فیاض مگوں نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ہونے والا معاہدہ یورپی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقتی برتری کو ختم کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کو یورپی یونین کے لیے ہونے والی اس کی تقریباً 80 فیصد برآمدات پر ڈیوٹی فری (ٹیکس سے پاک) رسائی دیتا ہے۔ اس وقت یورپی یونین کو پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات 6.2 ارب ڈالر ہیں جو بھارت کی 5.6 ارب ڈالر کی برآمدات سے تھوڑی زیادہ ہیں، حالانکہ بھارت کو فی الحال 12 فیصد ٹیرف (محصولات) کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی بھارت کو اس تجارتی معاہدے کے تحت زیرو ریٹڈ (صفر ٹیکس) رسائی حاصل ہوگی پاکستان کی یہ برتری ختم ہو جائے گی اور ہماری برآمدات کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جی ایس پی پلس اسکیم پاکستان اور یورپی یونین دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات کے دوران جی ایس پی پلس کے مستقبل پر پہلے ہی تفصیلی تبادلہ خیال کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم معاشی ماہرین کا استدلال ہے کہ پاکستان کے لیے محض جی ایس پی پلس فریم ورک میں توسیع ہی کافی ہونے کا امکان نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کے حتمی مراحل میں داخل ہونے کے بعد  یورپی منڈیوں میں بھارتی مصنوعات کے مقابلے میں اپنا مارکیٹ شیئر کھونے کے خدشے کے پیشِ نظر پاکستان نے یورپی یونین کے ساتھ اقتصادی روابط کے نئے مواقع تلاش کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جی ایس پی پلس جیسے اہم تجارتی مراعاتی منصوبے کی مدت میں توسیع کے لیے بھی کوشاں ہے۔</strong></p>
<p>اس سلسلے میں نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایک اعلیٰ سطح کے بین الوزارتی اجلاس کی صدارت کی جس کا مقصد یورپی یونین کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کا جائزہ لینا اور انہیں مزید مستحکم کرنا تھا۔ اسلام آباد کی یہ کوششیں یورپی یونین کے ساتھ بھارت کے حالیہ تاریخی تجارتی معاہدے کے بعد اپنی مصنوعات کے لیے یورپی منڈیوں تک رسائی کو محفوظ بنانے کے تناظر میں کی جارہی ہیں۔</p>
<p>تاہم یورپی یونین اور بھارت کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے پر باقاعدہ دستخط رواں سال کے آخر تک ہوں گے، جب یہ معاہدہ یورپی پارلیمنٹ سے منظور ہو جائے گا۔</p>
<p>ایک سرکاری بیان کے مطابق پاکستانی حکام نے یورپی بلاک کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>اس اجلاس کو اس وسیع تر سفارتی اور پالیسی مہم کا حصہ دیکھا جا رہا ہے جو بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مذاکرات کی تکمیل اور آزادانہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد شروع کی گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارتی برآمد کنندگان کو یورپ تک وسیع پیمانے پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہو جائے گی۔ پاکستانی برآمد کنندگان نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے عالمی منڈی میں پاکستان کی مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں، جو کہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے تجارتی تعاون کو فروغ دینے، اقتصادی روابط کے نئے مواقع تلاش کرنے اور پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے تجارتی تعاون بڑھانے، معاشی روابط کے نئے مواقع تلاش کرنے اور پاکستان و یورپی یونین کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>بیان کے مطابق انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جی ایس پی پلس باہمی فائدہ مند تجارت کے لیے ایک نہایت اہم فریم ورک ہے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے اس کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔</p>
<p>اس بین الوزارتی اجلاس کا انعقاد مشاورت کے ایک طویل سلسلے کے بعد کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان میں متعین یورپی یونین کے سفیر کے درمیان نئے منظر نامے میں پاک یورپی تعاون پر بات چیت ہوئی۔ دریں اثنا پاکستان کی تجارتی تنظیموں نے بھی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو یورپی ممالک کو ہونے والی برآمدات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں بریفنگ دی۔</p>
<p>سال 2024-2025 میں یورپی یونین کے لیے پاکستان کی برآمدات 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جس کے بعد یورپی یونین ایک اولین اور کلیدی منڈی کے طور پر سامنے آئی ہے جہاں پاکستان کی مجموعی عالمی برآمدات کا تقریباً 24 سے 29 فیصد حصہ جاتا ہے۔</p>
<p>وفاقی چیمبر کے نائب صدر، ثاقب فیاض مگوں نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ہونے والا معاہدہ یورپی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقتی برتری کو ختم کر سکتا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کو یورپی یونین کے لیے ہونے والی اس کی تقریباً 80 فیصد برآمدات پر ڈیوٹی فری (ٹیکس سے پاک) رسائی دیتا ہے۔ اس وقت یورپی یونین کو پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات 6.2 ارب ڈالر ہیں جو بھارت کی 5.6 ارب ڈالر کی برآمدات سے تھوڑی زیادہ ہیں، حالانکہ بھارت کو فی الحال 12 فیصد ٹیرف (محصولات) کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی بھارت کو اس تجارتی معاہدے کے تحت زیرو ریٹڈ (صفر ٹیکس) رسائی حاصل ہوگی پاکستان کی یہ برتری ختم ہو جائے گی اور ہماری برآمدات کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔</p>
<p>جمعرات کو دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جی ایس پی پلس اسکیم پاکستان اور یورپی یونین دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات کے دوران جی ایس پی پلس کے مستقبل پر پہلے ہی تفصیلی تبادلہ خیال کر چکا ہے۔</p>
<p>تاہم معاشی ماہرین کا استدلال ہے کہ پاکستان کے لیے محض جی ایس پی پلس فریم ورک میں توسیع ہی کافی ہونے کا امکان نہیں ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282267</guid>
      <pubDate>Sat, 31 Jan 2026 10:00:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فدا حسین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/310946217cccb3c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/310946217cccb3c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
