<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کی کامیاب فروخت: نجکاری کمیشن کا سالانہ بجٹ میں اضافے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282266/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی کامیاب نجکاری کے بعد نجکاری کمیشن (پی سی) نے اپنے سالانہ بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعہ کو سامنے آنے والی معلومات کے مطابق کمیشن نے یہ مطالبہ نجکاری کے عمل کو وسعت دینے کے لیے مارکیٹ کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت کے پیشِ نظر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق پرائیویٹائزیشن کمیشن نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو اپنے سالانہ بجٹ میں اضافے کی تجویز سے آگاہ کیا، جس کا مقصد مسابقتی تنخواہوں پر مارکیٹ بیسڈ ماہرین کی بھرتی کو ممکن بنانا، ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط کرنا اور آئندہ سال نجکاری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس جمعے کو سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران بجٹ کی منظوری اور اس کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے وزارتِ نجکاری کے موجودہ بجٹ کے استعمال کا جائزہ لیا اور اسے بتایا گیا کہ پرائیویٹائزیشن ڈویژن اور پرائیویٹائزیشن کمیشن دونوں محدود بجٹ کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جس کا بڑا حصہ ملازمین سے متعلق اخراجات پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹریٹ کے مطابق پرائیویٹائزیشن کمیشن نے کمیٹی کو اپنے سالانہ بجٹ میں اضافے کی تجویز سے آگاہ کیا تاکہ مسابقتی تنخواہوں پر مارکیٹ بیسڈ ماہرین کی خدمات حاصل کی جا سکیں، جس کا مقصد ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور آئندہ سال نجکاری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024-25 کے لیے کمیشن کے لیے 8.17 ارب روپے کی منظوری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2025 میں پاکستان حکومت نے قومی ایئرلائن میں 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں فروخت کرنے کا معاہدہ مکمل کیا، جس کے ساتھ خسارے میں چلنے والی ایئرلائن کی نجکاری کی برسوں سے رکی کوششوں کا خاتمہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی ایئرلائن میں مینجنگ اسٹیک عارف حبیب کنسورشیم نے خریدا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنسورشیم میں عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی اسکولز (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور لیک سٹی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق کمیٹی نے جمعے کو نئی بھرتیوں کی ضرورت پر سوالات اٹھائے، خصوصاً اس تناظر میں کہ موجودہ افرادی قوت کے ساتھ ہی پی آئی اے کی نجکاری کامیابی سے مکمل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جواب میں کمیشن نے وضاحت کی کہ خصوصی مارکیٹ ماہرین ناگزیر ہیں، کیونکہ ایک ماہر بیک وقت زیادہ سے زیادہ دو نجکاری منصوبے ہی سنبھال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا کہ شعبہ جاتی مہارت، بالخصوص پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں ( ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے، انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ پینل کے چیئرمین نے کمیشن کی کاوشوں کو سراہا اور آپریشنل صلاحیت بڑھانے کے لیے ماہرین کی بھرتی کی تجویز سے اصولی طور پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ وزارتِ نجکاری کے تحت اس وقت کوئی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ( پی ایس ڈی پی ) منصوبہ زیرِ عمل نہیں، اس لیے پی ایس ڈی پی کے تحت فنڈز کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل پر تفصیلی بحث کی اور لین دین کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائیویٹائزیشن کمیشن کے سیکریٹری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ مکمل نجکاری کا عمل 90 سے 120 دن کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان نے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (ہولڈ کو) کے اثاثوں سے متعلق تفصیلی معلومات طلب کیں، جن میں ہینگرز کی مجموعی تعداد، اسپیئر پارٹس اور دیگر تکنیکی اثاثے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری نے یقین دہانی کرائی کہ مطلوبہ ڈیٹا آئندہ اجلاس میں فراہم کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ سائیڈ سروسز کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اراکین نے مسافروں کی سہولیات کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی نشاندہی کی، جن میں کھانے پینے کی خدمات اور واش رومز شامل ہیں، اور مشاہدہ کیا کہ آؤٹ سورسنگ کے ذریعے سروس ڈیلیوری بہتر بنائی جا سکتی ہے، کیونکہ حکومتیں تجارتی نوعیت کے آپریشنز چلانے کے لیے موزوں نہیں ہوتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ ایئرپورٹ سروسز کی آؤٹ سورسنگ ترجیحی شعبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کمیٹی نے سفارش کی کہ بڑے ایئرپورٹس پر آؤٹ سورسنگ کو کوئٹہ اور سکھر جیسے چھوٹے ایئرپورٹس کے ساتھ یکجا کیا جائے تاکہ بعد کے مرحلے میں وسائل کی دوبارہ تقسیم کے بجائے یکساں طور پر سروسز میں بہتری یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی کامیاب نجکاری کے بعد نجکاری کمیشن (پی سی) نے اپنے سالانہ بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعہ کو سامنے آنے والی معلومات کے مطابق کمیشن نے یہ مطالبہ نجکاری کے عمل کو وسعت دینے کے لیے مارکیٹ کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت کے پیشِ نظر کیا ہے۔</strong></p>
<p>سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق پرائیویٹائزیشن کمیشن نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو اپنے سالانہ بجٹ میں اضافے کی تجویز سے آگاہ کیا، جس کا مقصد مسابقتی تنخواہوں پر مارکیٹ بیسڈ ماہرین کی بھرتی کو ممکن بنانا، ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط کرنا اور آئندہ سال نجکاری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔</p>
<p>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس جمعے کو سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران بجٹ کی منظوری اور اس کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>کمیٹی نے وزارتِ نجکاری کے موجودہ بجٹ کے استعمال کا جائزہ لیا اور اسے بتایا گیا کہ پرائیویٹائزیشن ڈویژن اور پرائیویٹائزیشن کمیشن دونوں محدود بجٹ کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جس کا بڑا حصہ ملازمین سے متعلق اخراجات پر مشتمل ہے۔</p>
<p>سیکریٹریٹ کے مطابق پرائیویٹائزیشن کمیشن نے کمیٹی کو اپنے سالانہ بجٹ میں اضافے کی تجویز سے آگاہ کیا تاکہ مسابقتی تنخواہوں پر مارکیٹ بیسڈ ماہرین کی خدمات حاصل کی جا سکیں، جس کا مقصد ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور آئندہ سال نجکاری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔</p>
<p>مالی سال 2024-25 کے لیے کمیشن کے لیے 8.17 ارب روپے کی منظوری دی گئی تھی۔</p>
<p>دسمبر 2025 میں پاکستان حکومت نے قومی ایئرلائن میں 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں فروخت کرنے کا معاہدہ مکمل کیا، جس کے ساتھ خسارے میں چلنے والی ایئرلائن کی نجکاری کی برسوں سے رکی کوششوں کا خاتمہ ہوا۔</p>
<p>قومی ایئرلائن میں مینجنگ اسٹیک عارف حبیب کنسورشیم نے خریدا۔</p>
<p>کنسورشیم میں عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی اسکولز (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور لیک سٹی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق کمیٹی نے جمعے کو نئی بھرتیوں کی ضرورت پر سوالات اٹھائے، خصوصاً اس تناظر میں کہ موجودہ افرادی قوت کے ساتھ ہی پی آئی اے کی نجکاری کامیابی سے مکمل کی گئی۔</p>
<p>اس کے جواب میں کمیشن نے وضاحت کی کہ خصوصی مارکیٹ ماہرین ناگزیر ہیں، کیونکہ ایک ماہر بیک وقت زیادہ سے زیادہ دو نجکاری منصوبے ہی سنبھال سکتا ہے۔</p>
<p>مزید بتایا گیا کہ شعبہ جاتی مہارت، بالخصوص پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں ( ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے، انتہائی اہم ہے۔</p>
<p>سینیٹ پینل کے چیئرمین نے کمیشن کی کاوشوں کو سراہا اور آپریشنل صلاحیت بڑھانے کے لیے ماہرین کی بھرتی کی تجویز سے اصولی طور پر اتفاق کیا۔</p>
<p>کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ وزارتِ نجکاری کے تحت اس وقت کوئی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ( پی ایس ڈی پی ) منصوبہ زیرِ عمل نہیں، اس لیے پی ایس ڈی پی کے تحت فنڈز کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>دریں اثناء کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل پر تفصیلی بحث کی اور لین دین کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔</p>
<p>پرائیویٹائزیشن کمیشن کے سیکریٹری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ مکمل نجکاری کا عمل 90 سے 120 دن کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>اجلاس کے دوران سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان نے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (ہولڈ کو) کے اثاثوں سے متعلق تفصیلی معلومات طلب کیں، جن میں ہینگرز کی مجموعی تعداد، اسپیئر پارٹس اور دیگر تکنیکی اثاثے شامل ہیں۔</p>
<p>سیکریٹری نے یقین دہانی کرائی کہ مطلوبہ ڈیٹا آئندہ اجلاس میں فراہم کر دیا جائے گا۔</p>
<p>کمیٹی کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ سائیڈ سروسز کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>اراکین نے مسافروں کی سہولیات کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی نشاندہی کی، جن میں کھانے پینے کی خدمات اور واش رومز شامل ہیں، اور مشاہدہ کیا کہ آؤٹ سورسنگ کے ذریعے سروس ڈیلیوری بہتر بنائی جا سکتی ہے، کیونکہ حکومتیں تجارتی نوعیت کے آپریشنز چلانے کے لیے موزوں نہیں ہوتیں۔</p>
<p>کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ ایئرپورٹ سروسز کی آؤٹ سورسنگ ترجیحی شعبہ ہے۔</p>
<p>سینیٹ کمیٹی نے سفارش کی کہ بڑے ایئرپورٹس پر آؤٹ سورسنگ کو کوئٹہ اور سکھر جیسے چھوٹے ایئرپورٹس کے ساتھ یکجا کیا جائے تاکہ بعد کے مرحلے میں وسائل کی دوبارہ تقسیم کے بجائے یکساں طور پر سروسز میں بہتری یقینی بنائی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282266</guid>
      <pubDate>Sat, 31 Jan 2026 10:02:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/30225026f5ea1e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/30225026f5ea1e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
