<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سانحہ گل پلازہ : 69 میتیں شناخت کے بعد ورثاء کے سپرد، 7 خاندان تاحال پیاروں کے منتظر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282263/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے کمشنر سید حسن نقوی نے بتایا ہے کہ گل پلازہ کے المیے میں جاں بحق ہونے والے 79 افراد میں سے 69 کی میتیں ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ کمشنر نے ایک بیان میں کہا کہ باقی دس میتوں میں سے تین کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے، جبکہ حکام اب بھی دیگر سات افراد کے اہل خانہ کی تلاش میں ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کے اس بیان کے چند دن بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ گل پلازہ شاپنگ مال میں ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور جائے وقوعہ کو سیل کر دیا گیا ہے۔ میئر نے پیر کو بتایا تھا کہ  تحقیقاتی رپورٹ جلد عام کر دی جائے گی، جبکہ واقعے کی ایف آئی آر پہلے ہی درج کی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے آغاز میں شاپنگ مال میں آتشزدگی کے واقعے کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر کمشنر نقوی کی سربراہی میں  حقائق تلاش کرنے والی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ متاثرہ عمارت کو حتمی طور پر سیل کرنے سے قبل مختلف ریسکیو اداروں اور رضاکاروں کی جانب سے کئی روز تک تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان اور کمشنر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے جس میں اس ہولناک آتشزدگی کی تحقیقات حاضر سروس جج سے کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے تسلیم کیا کہ آگ بجھانے والے ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج  کارپوریشن کے ہائیڈرنٹ انچارج کو معطل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرجیل میمن نے کہا کہ صوبائی حکومت نے محکمہ سول ڈیفنس کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2023 سے گل پلازہ کے متعدد سیفٹی آڈٹ کرنے اور ہنگامی انتظامات کی کمی کے حوالے سے دو نوٹس جاری کرنے کے باوجود محکمہ عمل درآمد کرانے یا خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کرنے میں ناکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزیر نے کہا کہ ان  احتیاطی اور قانونی اقدامات کی کمی  کی وجہ سے ڈائریکٹر سول ڈیفنس (جنوبی) اور ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ان سے قبل میونسپل کمشنر افضل زیدی کو بھی معطل کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے کمشنر سید حسن نقوی نے بتایا ہے کہ گل پلازہ کے المیے میں جاں بحق ہونے والے 79 افراد میں سے 69 کی میتیں ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ کمشنر نے ایک بیان میں کہا کہ باقی دس میتوں میں سے تین کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے، جبکہ حکام اب بھی دیگر سات افراد کے اہل خانہ کی تلاش میں ہیں۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کے اس بیان کے چند دن بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ گل پلازہ شاپنگ مال میں ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور جائے وقوعہ کو سیل کر دیا گیا ہے۔ میئر نے پیر کو بتایا تھا کہ  تحقیقاتی رپورٹ جلد عام کر دی جائے گی، جبکہ واقعے کی ایف آئی آر پہلے ہی درج کی جا چکی ہے۔</p>
<p>رواں ماہ کے آغاز میں شاپنگ مال میں آتشزدگی کے واقعے کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر کمشنر نقوی کی سربراہی میں  حقائق تلاش کرنے والی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ متاثرہ عمارت کو حتمی طور پر سیل کرنے سے قبل مختلف ریسکیو اداروں اور رضاکاروں کی جانب سے کئی روز تک تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔</p>
<p>جمعرات کو ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان اور کمشنر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے جس میں اس ہولناک آتشزدگی کی تحقیقات حاضر سروس جج سے کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔</p>
<p>انتظامی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے تسلیم کیا کہ آگ بجھانے والے ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج  کارپوریشن کے ہائیڈرنٹ انچارج کو معطل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>شرجیل میمن نے کہا کہ صوبائی حکومت نے محکمہ سول ڈیفنس کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2023 سے گل پلازہ کے متعدد سیفٹی آڈٹ کرنے اور ہنگامی انتظامات کی کمی کے حوالے سے دو نوٹس جاری کرنے کے باوجود محکمہ عمل درآمد کرانے یا خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کرنے میں ناکام رہا۔</p>
<p>صوبائی وزیر نے کہا کہ ان  احتیاطی اور قانونی اقدامات کی کمی  کی وجہ سے ڈائریکٹر سول ڈیفنس (جنوبی) اور ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ان سے قبل میونسپل کمشنر افضل زیدی کو بھی معطل کیا جا چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282263</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Jan 2026 17:56:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/30172924938b9bd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/30172924938b9bd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
