<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:47:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:47:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی شرح کم، بجلی سستی، نمایاں برآمد کنندگان کیلئے دو سال تک بلیو پاسپورٹس کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282246/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہبازشریف نے جمعہ کو ملکی صنعت، تجارت اور برآمدات کو مستحکم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اقدامات میں برآمد کنندگان کیلئے ری فنانس ریٹ میں 300 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے اسے 4.5 فیصد تک لانا، صنعتی بجلی کے نرخوں اور ویلنگ چارجز میں کمی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ معاشی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیلئے ملک کے بڑے برآمد کنندگان اور کاروباری رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے سرمایہ کاری کی ترغیب اور برآمدات میں اضافے کی جاری کوششوں کے درمیان معیشت کو استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب لے جانے کیلئے وسیع روڈ میپ پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے اعلان کیا کہ برآمدات کے لیے ری فنانس ریٹ میں 300 بیسس پوائنٹس کی کمی کردی گئی ہے جس کے بعد یہ 7.5 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد پر آگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اسے مزید 10 روپے فی یونٹ تک کم کروں، اسی طرح حکومت نے صنعتوں کے لیے ویلنگ چارجز میں بھی 9 روپے فی کلو واٹ آور کمی کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت نے بہترین کارکردگی دکھانے والے برآمد کنندگان کو دو سال کے لیے بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آفس سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم صنعت، تجارت اور برآمدات کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا وژن پیش کریں گے جبکہ معیشت کو استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب لے جانے کے لیے مستقبل کا روڈ میپ بھی پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعلانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور معیشت کو دیرپا ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے اقتصادی سفر کو یاد کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ (ماضی میں) مہنگائی بے قابو تھی جبکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد پر کھڑا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کی بدولت اب پالیسی ریٹ کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گیا ہے جبکہ مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ کی سطح تک گر گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کے بعد پاکستان آخری لمحات میں ڈیفالٹ کے خطرے سے بچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے نوٹ کیا کہ پاکستان کے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر جو حالیہ مہینوں میں دوگنے ہوچکے ہیں، زیادہ تر دوست ممالک بشمول چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے قرضوں پر مشتمل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت نے استحکام تو حاصل کرلیا ہے لیکن یہ اب بھی کافی نہیں ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ برآمدات جمود کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان ان ممالک کا مقابلہ کررہے ہیں جو کم قیمتوں پر مصنوعات فراہم کررہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ بجلی نرخ اب بھی زیادہ ہیں جبکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آنے کے باوجود اب بھی بلند سطح پر ہے اور اسے مزید نیچے لایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز قبل اسٹیٹ بینک نے 2026 کی اپنی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں بنیادی پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کاروبار نجی شعبے کو چلانا چاہیے، حکومتوں کو نہیں، ملکی معیشت کو پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف بڑھنا چاہیے۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی بنیاد بھی برآمدات میں اضافے پر ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ٹیکس شرح کو کم کیا جانا چاہیے، مجھے یقین ہے کہ صنعت و برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ہمیں اپنے براہِ راست ٹیکسوں کی شرح میں کمی کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بالواسطہ ٹیکسوں کی وصولی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میں اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا اور اپنی کوششیں جاری رکھوں گا جب تک ہم آخری بالواسطہ ٹیکس بھی وصول نہ کر لیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہبازشریف نے جمعہ کو ملکی صنعت، تجارت اور برآمدات کو مستحکم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔</strong></p>
<p>ان اقدامات میں برآمد کنندگان کیلئے ری فنانس ریٹ میں 300 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے اسے 4.5 فیصد تک لانا، صنعتی بجلی کے نرخوں اور ویلنگ چارجز میں کمی شامل ہے۔</p>
<p>موجودہ معاشی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیلئے ملک کے بڑے برآمد کنندگان اور کاروباری رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے سرمایہ کاری کی ترغیب اور برآمدات میں اضافے کی جاری کوششوں کے درمیان معیشت کو استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب لے جانے کیلئے وسیع روڈ میپ پیش کیا۔</p>
<p>شہباز شریف نے اعلان کیا کہ برآمدات کے لیے ری فنانس ریٹ میں 300 بیسس پوائنٹس کی کمی کردی گئی ہے جس کے بعد یہ 7.5 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد پر آگیا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اسے مزید 10 روپے فی یونٹ تک کم کروں، اسی طرح حکومت نے صنعتوں کے لیے ویلنگ چارجز میں بھی 9 روپے فی کلو واٹ آور کمی کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت نے بہترین کارکردگی دکھانے والے برآمد کنندگان کو دو سال کے لیے بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم آفس سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم صنعت، تجارت اور برآمدات کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا وژن پیش کریں گے جبکہ معیشت کو استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب لے جانے کے لیے مستقبل کا روڈ میپ بھی پیش کریں گے۔</p>
<p>یہ اعلانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور معیشت کو دیرپا ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔</p>
<p>حکومت کے اقتصادی سفر کو یاد کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ (ماضی میں) مہنگائی بے قابو تھی جبکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد پر کھڑا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کی بدولت اب پالیسی ریٹ کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گیا ہے جبکہ مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ کی سطح تک گر گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کے بعد پاکستان آخری لمحات میں ڈیفالٹ کے خطرے سے بچ گیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے نوٹ کیا کہ پاکستان کے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر جو حالیہ مہینوں میں دوگنے ہوچکے ہیں، زیادہ تر دوست ممالک بشمول چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے قرضوں پر مشتمل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت نے استحکام تو حاصل کرلیا ہے لیکن یہ اب بھی کافی نہیں ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ برآمدات جمود کا شکار ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان ان ممالک کا مقابلہ کررہے ہیں جو کم قیمتوں پر مصنوعات فراہم کررہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ بجلی نرخ اب بھی زیادہ ہیں جبکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آنے کے باوجود اب بھی بلند سطح پر ہے اور اسے مزید نیچے لایا جانا چاہیے۔</p>
<p>چند روز قبل اسٹیٹ بینک نے 2026 کی اپنی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں بنیادی پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کاروبار نجی شعبے کو چلانا چاہیے، حکومتوں کو نہیں، ملکی معیشت کو پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف بڑھنا چاہیے۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی بنیاد بھی برآمدات میں اضافے پر ہونی چاہیے۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ٹیکس شرح کو کم کیا جانا چاہیے، مجھے یقین ہے کہ صنعت و برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ہمیں اپنے براہِ راست ٹیکسوں کی شرح میں کمی کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بالواسطہ ٹیکسوں کی وصولی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میں اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا اور اپنی کوششیں جاری رکھوں گا جب تک ہم آخری بالواسطہ ٹیکس بھی وصول نہ کر لیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282246</guid>
      <pubDate>Sat, 31 Jan 2026 11:16:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/30190734adabc4a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/30190734adabc4a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/vgfTrHARTwk/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/vgfTrHARTwk/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=vgfTrHARTwk"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
