<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترسیلات زر کی پوشیدہ قیمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282238/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ خزانہ کی جنوری 2026 کی ماہانہ معاشی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک میں یہ انکشاف کہ سال 2025 کے دوران 762,499 پاکستانی روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑ گئے، شاید معیشت کی مجموعی طور پر مایوس کن تصویر کا سب سے واضح اور اہم ترین عدد ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں برآمدات، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) اور دیگر اہم اشاریوں میں کمزور کارکردگی دکھائی گئی ہے جس میں ایک واضح استثنا ترسیلاتِ زر (ریمیٹنسز) کا ہے جو رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 10.6 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلاتِ زر کی یہ آمد براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  سے 23 گنا زیادہ اور اسی مدت کے دوران برآمدات سے ہونے والی آمدنی سے 4.2 ارب ڈالر زائد تھی۔ ترسیلاتِ زر میں یہ نمایاں اضافہ واضح طور پر بیرونِ ملک ہجرت کے بڑھتے ہوئے عمل سے جڑا ہے جس میں حالیہ برسوں کے دوران تیزی آئی اور پاکستانیوں کی بڑی تعداد استحکام اور معاشی مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ کر جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی وزارت نے اس ہجرت کو مثبت انداز میں پیش کرنے میں تیزی دکھائی ہے، اور اس کی وجہ آسانی سے سمجھ میں آتی ہے: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی گئی ترسیلات سالانہ تقریباً 40 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جاتی ہیں، اور یہ اب بھی ملک کا سب سے بڑا غیر قرضی غیر ملکی آمدنی کا ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے اس بڑے پیمانے پر ہجرت کو فوری طور پر مثبت انداز میں پیش کیا ہے اور اس کی وجہ سمجھنا آسان ہے: سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر تک پہنچ جاتی ہیں اور یہ ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد کا وہ واحد سب سے بڑا ذریعہ ہے جو قرض پر مبنی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ملک چھوڑنے والوں کی یہ بڑی تعداد اس تلخ حقیقت کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ افرادی قوت روزگار کے محدود مواقع، معاشی حالات سے بیزاری اور ملک کی مجموعی سمت سے مایوسی کے باعث ہجرت کو ہی واحد حل سمجھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبر فورس کے تازہ ترین سروے کے مطابق بے روزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح یعنی 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے جس میں صنفی تفریق، عمر کے مختلف گروہوں اور دیہی و شہری دونوں علاقوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس تناظر میں یہ بات حیران کن نہیں کہ گزشتہ دو سال میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے ملک چھوڑا جنہیں جمود کا شکار اجرتوں، روزگار کے محدود و غیر محفوظ مواقع اور زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات (مہنگائی) نے ہجرت پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اب یہ ہجرت صرف خلیجی ممالک جانے والے غیر ہنر مند مزدوروں تک محدود نہیں رہی۔ اب آئی ٹی، طب، انجینئرنگ اور اکاؤنٹنگ سے وابستہ ماہر اور اعلیٰ پیشہ ور افراد بھی تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں جو ایک سنگین برین ڈرین (ذہانت کے ضیاع) کی نشاندہی ہے، یہ عمل ملک کی پیداواری صلاحیت کو کھوکھلا کرنے اور طویل مدتی ترقی کے امکانات کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص طور پر آئی ٹی  شعبے میں بیرونِ ملک ہجرت کی وجہ صرف تنخواہوں کا فرق ہی نہیں ہے۔ صنعتی ماہرین کے مطابق کیریئر میں ترقی کے محدود مواقع اور تحقیق و جدت کے نظام کا مسلسل پسماندہ ہونا بھی اتنے ہی بڑے محرکات ہیں، اس کے نتیجے میں اس ڈیجیٹل رکاوٹ سے مسلسل فرار دیکھا جارہا ہے جسے بہت سے لوگ حکام کی جانب سے انٹرنیٹ فائر والز اور دیگر کنٹرولز کی ترجیحات، غیر مستحکم انفرااسٹرکچر اور ان سماجی پابندیوں کے طور پر بیان کرتے ہیں جو مجموعی طور پر ڈیجیٹل معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان صرف ٹیک (آئی ٹی) کے شعبے تک محدود نہیں ہے بلکہ اب علم پر مبنی دیگر شعبوں میں بھی تیزی سے نمایاں ہو رہا ہے، اگرچہ سرحد پار افرادی قوت کی نقل و حرکت مہارتوں میں اضافے اور علم کی منتقلی کا سبب بن سکتی ہے، لیکن بہترین ٹیلنٹ کی مسلسل برآمد ان کی واپسی کے لیے کسی قابلِ بھروسہ راستے یا بیرونِ ملک سے ملکی معیشت میں ان کی بامعنی شمولیت کے بغیر پاکستان کو اس نہج پر چھوڑ دیتی ہے جہاں تعلیم اور تربیت کے اخراجات تو ملک برداشت کرتا ہے لیکن ان کی صلاحیتوں کا اصل فائدہ بالآخر دیگر ممالک کی معیشتیں اٹھاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی اگر اس کی معیشت کی بقا اپنے ہنرمند طبقے کی نشوونما اور انہیں اپنے اداروں کی مضبوطی کے لیے روکنے کے بجائے انہیں بیرونِ ملک بھیجنے پر منحصر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا حل پاکستان کو ایک ایسے ملک میں تبدیل کرنے میں پنہاں ہے جہاں ٹیلنٹ (ہنرمند افراد) ملک چھوڑنے کے بجائے یہاں رکنے اور کچھ تعمیر کرنے کی خواہش رکھے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک ایسا معاشی، سیاسی اور حفاظتی ماحول بنانا ضروری ہے جو کاروبار اور روزگار فراہم کرنے والوں کے پنپنے کے لیے سازگار ہو، ساتھ ہی ایسی ساختی اصلاحات کی جائیں جو صنعت اور برآمدات کو بحال کریں، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  کی حوصلہ افزائی کریں، ڈیجیٹل معیشت کا گلا گھونٹنے والی ریگولیٹری رکاوٹوں کو ختم کریں اور تمام شعبوں میں میرٹ پر مبنی نظام کو رائج کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورننس (نظامِ حکومت) کو مضبوط بنانا اور تعلیم، صحت، اور سائنس و ٹیکنالوجی میں بھرپور سرمایہ کاری کرنا بھی اتنا ہی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک ایسے کلچر کو فروغ دینا جو مہارت کی قدر کرے جس میں اعترافِ خدمت، پیشہ ورانہ خود مختاری اور فکری و ڈیجیٹل آزادیوں کا تحفظ شامل ہو ملک کے قابل ترین ذہنوں کو روکنے کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہو گا۔ محض ترسیلاتِ زر کا جشن منانا اور اس بڑے پیمانے پر ہجرت کے گہرے اثرات کا سامنا نہ کرنا، ان طویل مدتی نقصانات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہو گا جو ملک کو بھگتنا پڑسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ خزانہ کی جنوری 2026 کی ماہانہ معاشی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک میں یہ انکشاف کہ سال 2025 کے دوران 762,499 پاکستانی روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑ گئے، شاید معیشت کی مجموعی طور پر مایوس کن تصویر کا سب سے واضح اور اہم ترین عدد ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ میں برآمدات، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) اور دیگر اہم اشاریوں میں کمزور کارکردگی دکھائی گئی ہے جس میں ایک واضح استثنا ترسیلاتِ زر (ریمیٹنسز) کا ہے جو رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 10.6 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔</p>
<p>ترسیلاتِ زر کی یہ آمد براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  سے 23 گنا زیادہ اور اسی مدت کے دوران برآمدات سے ہونے والی آمدنی سے 4.2 ارب ڈالر زائد تھی۔ ترسیلاتِ زر میں یہ نمایاں اضافہ واضح طور پر بیرونِ ملک ہجرت کے بڑھتے ہوئے عمل سے جڑا ہے جس میں حالیہ برسوں کے دوران تیزی آئی اور پاکستانیوں کی بڑی تعداد استحکام اور معاشی مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ کر جارہی ہے۔</p>
<p>مالیاتی وزارت نے اس ہجرت کو مثبت انداز میں پیش کرنے میں تیزی دکھائی ہے، اور اس کی وجہ آسانی سے سمجھ میں آتی ہے: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی گئی ترسیلات سالانہ تقریباً 40 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جاتی ہیں، اور یہ اب بھی ملک کا سب سے بڑا غیر قرضی غیر ملکی آمدنی کا ذریعہ ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے اس بڑے پیمانے پر ہجرت کو فوری طور پر مثبت انداز میں پیش کیا ہے اور اس کی وجہ سمجھنا آسان ہے: سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر تک پہنچ جاتی ہیں اور یہ ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد کا وہ واحد سب سے بڑا ذریعہ ہے جو قرض پر مبنی نہیں ہے۔</p>
<p>تاہم ملک چھوڑنے والوں کی یہ بڑی تعداد اس تلخ حقیقت کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ افرادی قوت روزگار کے محدود مواقع، معاشی حالات سے بیزاری اور ملک کی مجموعی سمت سے مایوسی کے باعث ہجرت کو ہی واحد حل سمجھ رہی ہے۔</p>
<p>لیبر فورس کے تازہ ترین سروے کے مطابق بے روزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح یعنی 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے جس میں صنفی تفریق، عمر کے مختلف گروہوں اور دیہی و شہری دونوں علاقوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس تناظر میں یہ بات حیران کن نہیں کہ گزشتہ دو سال میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے ملک چھوڑا جنہیں جمود کا شکار اجرتوں، روزگار کے محدود و غیر محفوظ مواقع اور زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات (مہنگائی) نے ہجرت پر مجبور کیا۔</p>
<p>سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اب یہ ہجرت صرف خلیجی ممالک جانے والے غیر ہنر مند مزدوروں تک محدود نہیں رہی۔ اب آئی ٹی، طب، انجینئرنگ اور اکاؤنٹنگ سے وابستہ ماہر اور اعلیٰ پیشہ ور افراد بھی تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں جو ایک سنگین برین ڈرین (ذہانت کے ضیاع) کی نشاندہی ہے، یہ عمل ملک کی پیداواری صلاحیت کو کھوکھلا کرنے اور طویل مدتی ترقی کے امکانات کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بن رہا ہے۔</p>
<p>خاص طور پر آئی ٹی  شعبے میں بیرونِ ملک ہجرت کی وجہ صرف تنخواہوں کا فرق ہی نہیں ہے۔ صنعتی ماہرین کے مطابق کیریئر میں ترقی کے محدود مواقع اور تحقیق و جدت کے نظام کا مسلسل پسماندہ ہونا بھی اتنے ہی بڑے محرکات ہیں، اس کے نتیجے میں اس ڈیجیٹل رکاوٹ سے مسلسل فرار دیکھا جارہا ہے جسے بہت سے لوگ حکام کی جانب سے انٹرنیٹ فائر والز اور دیگر کنٹرولز کی ترجیحات، غیر مستحکم انفرااسٹرکچر اور ان سماجی پابندیوں کے طور پر بیان کرتے ہیں جو مجموعی طور پر ڈیجیٹل معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔</p>
<p>یہ رجحان صرف ٹیک (آئی ٹی) کے شعبے تک محدود نہیں ہے بلکہ اب علم پر مبنی دیگر شعبوں میں بھی تیزی سے نمایاں ہو رہا ہے، اگرچہ سرحد پار افرادی قوت کی نقل و حرکت مہارتوں میں اضافے اور علم کی منتقلی کا سبب بن سکتی ہے، لیکن بہترین ٹیلنٹ کی مسلسل برآمد ان کی واپسی کے لیے کسی قابلِ بھروسہ راستے یا بیرونِ ملک سے ملکی معیشت میں ان کی بامعنی شمولیت کے بغیر پاکستان کو اس نہج پر چھوڑ دیتی ہے جہاں تعلیم اور تربیت کے اخراجات تو ملک برداشت کرتا ہے لیکن ان کی صلاحیتوں کا اصل فائدہ بالآخر دیگر ممالک کی معیشتیں اٹھاتی ہیں۔</p>
<p>کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی اگر اس کی معیشت کی بقا اپنے ہنرمند طبقے کی نشوونما اور انہیں اپنے اداروں کی مضبوطی کے لیے روکنے کے بجائے انہیں بیرونِ ملک بھیجنے پر منحصر ہو۔</p>
<p>اس کا حل پاکستان کو ایک ایسے ملک میں تبدیل کرنے میں پنہاں ہے جہاں ٹیلنٹ (ہنرمند افراد) ملک چھوڑنے کے بجائے یہاں رکنے اور کچھ تعمیر کرنے کی خواہش رکھے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک ایسا معاشی، سیاسی اور حفاظتی ماحول بنانا ضروری ہے جو کاروبار اور روزگار فراہم کرنے والوں کے پنپنے کے لیے سازگار ہو، ساتھ ہی ایسی ساختی اصلاحات کی جائیں جو صنعت اور برآمدات کو بحال کریں، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  کی حوصلہ افزائی کریں، ڈیجیٹل معیشت کا گلا گھونٹنے والی ریگولیٹری رکاوٹوں کو ختم کریں اور تمام شعبوں میں میرٹ پر مبنی نظام کو رائج کریں۔</p>
<p>گورننس (نظامِ حکومت) کو مضبوط بنانا اور تعلیم، صحت، اور سائنس و ٹیکنالوجی میں بھرپور سرمایہ کاری کرنا بھی اتنا ہی ناگزیر ہے۔</p>
<p>سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک ایسے کلچر کو فروغ دینا جو مہارت کی قدر کرے جس میں اعترافِ خدمت، پیشہ ورانہ خود مختاری اور فکری و ڈیجیٹل آزادیوں کا تحفظ شامل ہو ملک کے قابل ترین ذہنوں کو روکنے کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہو گا۔ محض ترسیلاتِ زر کا جشن منانا اور اس بڑے پیمانے پر ہجرت کے گہرے اثرات کا سامنا نہ کرنا، ان طویل مدتی نقصانات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہو گا جو ملک کو بھگتنا پڑسکتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282238</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Jan 2026 12:02:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/301145142457e44.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/301145142457e44.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
