<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ : شدید مندی کے بعد خریداری کا رجحان بحال، 100 انڈیکس میں 1 فیصد اضافہ ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282234/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج  میں شدید فروخت کے بعد خریداری کا رجحان بحال ہوا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعے کو 1,800 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری سیشن کے دوران خریداری کی رفتار برقرار رہی، جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران بلند ترین سطح 186,619.51 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 184,174.48 پوائنٹس پر بند ہوا، جو کہ 1,836.36 پوائنٹس یا 1.01 فیصد کے اضافے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں بتایا ہے کہ  انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت حصہ ڈالنے والے اسٹاکز میں لک، اینگرو ہولڈنگ، یوبی ایل ،ایم ای بی ایل ،ماری اور ایچ بی ایل شامل تھے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,197 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارت کے حجم کے لحاظ سے این بی پی، او جی ڈی سی، پی پی ایل ،ایف ایف سی اور پی ٹی سی سب سے زیادہ سرگرم رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹائل سیکٹر میں سرمایہ کار دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خریداری کے رجحان کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف کے 300 بیسس پوائنٹس کمی کے ساتھ ایکسپورٹ فنانس اسکیم کی شرح کو 4.5 فیصد کرنے کے اعلان کے بعد دلچسپی بڑھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق مارکیٹ کا جذباتی رجحان مثبت جیو پولیٹیکل پیش رفت کی وجہ سے بہتر ہوا، جس میں امریکہ اور ایران کی جانب سے باضابطہ بیانات شامل ہیں، جو بات چیت کی خواہش اور کشیدگی سے گریز کی نشاندہی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم کے اعلان کردہ اقدامات سے مارکیٹ کو مزید سہارا ملا، جن میں صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی قیمت میں 4.04 روپے/کلوواٹ فی گھنٹہ کمی، وہیلنگ چارجز میں 9 روپے/کلو واٹ فی گھنٹہ کمی اور ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی شرح میں کمی (پالیسی ریٹ مائنس 6 فیصد، پہلے مائنس 3 فیصد) شامل ہیں، جو صنعتی اور ایکسپورٹ سیکٹرز کے لیے نہایت ضروری ریلیف فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج میں شدید ا مندی دیکھنے میں آئی تھی، جہاں بھاری حصص میں زبردست فروخت کے دباؤ نے بینچ مارک انڈیکسز کو تیزی سے نیچے دھکیل دیا تھا۔ کارپوریٹ نتائج سے مایوسی، سٹے بازی پر مبنی پوزیشنز کے خاتمے اور بڑے پیمانے پر منافع وصولی کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد تیزی سے کمزور پڑ گیا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 6,042.27 پوائنٹس یا 3.21 فیصد کی بڑی کمی کے بعد 182,338.12 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعہ کو ابتدائی ایشیائی تجارت کے دوران حصص کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی شٹ ڈاؤن روکنے کے لیے ایک دو طرفہ معاہدے کی توثیق کی اور کہا کہ انہوں نے فیڈرل ریزرو کی سربراہی کے لیے نامزدگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع تر انڈیکس 0.2 فیصد نیچے رہا، جو کہ گزشتہ تین سالوں میں اپنی بہترین ماہانہ کارکردگی کی طرف بڑھنے کے بعد گزشتہ روز کی گراوٹ کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی منڈیوں میں ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.4 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جبکہ قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ رہا۔ جمعرات کو وال اسٹریٹ پر مائیکروسافٹ کے غیر تسلی بخش نتائج کے بعد حصص کی قیمتیں گر گئیں، جس نے مصنوعی ذہانت پر کیے گئے اخراجات کے منافع بخش ہونے کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے۔ اب تک رپورٹ کرنے والی ایس اینڈ پی 500 کی تقریباً ایک تہائی کمپنیوں میں سے 76 فیصد نے آمدنی کے تخمینوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، تاہم بڑی امریکی ٹیک کمپنیوں کے نتائج اب تک ملے جلے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء جمعے کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے مزید استحکام حاصل کیا اور اس کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ریکارد کیا گیا۔ کاروبارکے اختتام پر مقامی کرنسی 279.77 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کے اضافے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں حجم کم ہو کر 805.14 ملین رہ گیا، جو پچھلی بندش کے 933.10 ملین سے کم ہے۔ حصص کی کل مالیت بھی کم ہو کر 50.83 ارب روپے رہ گئی، جو پچھلے سیشن میں 66.41 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حجم کے لحاظ سے کے الیکٹرک لمیٹڈ سر فہرست رہی جس کے 81.41 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔ ہیسکول پیٹرول 66.47 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور ورلڈ کال ٹیلی کام 53.71 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے روز مجموعی طور پر 484 کمپنیوں کے حصص کی لین دین ہوئی، جن میں سے 258 کے شیئرز میں اضافہ، 175 میں کمی اور 51 کمپنیوں کے حصص میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/30175714f449f8e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/30175714f449f8e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج  میں شدید فروخت کے بعد خریداری کا رجحان بحال ہوا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعے کو 1,800 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>کاروباری سیشن کے دوران خریداری کی رفتار برقرار رہی، جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران بلند ترین سطح 186,619.51 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 184,174.48 پوائنٹس پر بند ہوا، جو کہ 1,836.36 پوائنٹس یا 1.01 فیصد کے اضافے کے مترادف ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں بتایا ہے کہ  انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت حصہ ڈالنے والے اسٹاکز میں لک، اینگرو ہولڈنگ، یوبی ایل ،ایم ای بی ایل ،ماری اور ایچ بی ایل شامل تھے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,197 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔</p>
<p>تجارت کے حجم کے لحاظ سے این بی پی، او جی ڈی سی، پی پی ایل ،ایف ایف سی اور پی ٹی سی سب سے زیادہ سرگرم رہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹائل سیکٹر میں سرمایہ کار دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خریداری کے رجحان کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف کے 300 بیسس پوائنٹس کمی کے ساتھ ایکسپورٹ فنانس اسکیم کی شرح کو 4.5 فیصد کرنے کے اعلان کے بعد دلچسپی بڑھی۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق مارکیٹ کا جذباتی رجحان مثبت جیو پولیٹیکل پیش رفت کی وجہ سے بہتر ہوا، جس میں امریکہ اور ایران کی جانب سے باضابطہ بیانات شامل ہیں، جو بات چیت کی خواہش اور کشیدگی سے گریز کی نشاندہی کرتے ہیں۔</p>
<p>وزیر اعظم کے اعلان کردہ اقدامات سے مارکیٹ کو مزید سہارا ملا، جن میں صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی قیمت میں 4.04 روپے/کلوواٹ فی گھنٹہ کمی، وہیلنگ چارجز میں 9 روپے/کلو واٹ فی گھنٹہ کمی اور ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی شرح میں کمی (پالیسی ریٹ مائنس 6 فیصد، پہلے مائنس 3 فیصد) شامل ہیں، جو صنعتی اور ایکسپورٹ سیکٹرز کے لیے نہایت ضروری ریلیف فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج میں شدید ا مندی دیکھنے میں آئی تھی، جہاں بھاری حصص میں زبردست فروخت کے دباؤ نے بینچ مارک انڈیکسز کو تیزی سے نیچے دھکیل دیا تھا۔ کارپوریٹ نتائج سے مایوسی، سٹے بازی پر مبنی پوزیشنز کے خاتمے اور بڑے پیمانے پر منافع وصولی کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد تیزی سے کمزور پڑ گیا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 6,042.27 پوائنٹس یا 3.21 فیصد کی بڑی کمی کے بعد 182,338.12 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعہ کو ابتدائی ایشیائی تجارت کے دوران حصص کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی شٹ ڈاؤن روکنے کے لیے ایک دو طرفہ معاہدے کی توثیق کی اور کہا کہ انہوں نے فیڈرل ریزرو کی سربراہی کے لیے نامزدگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع تر انڈیکس 0.2 فیصد نیچے رہا، جو کہ گزشتہ تین سالوں میں اپنی بہترین ماہانہ کارکردگی کی طرف بڑھنے کے بعد گزشتہ روز کی گراوٹ کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>امریکی منڈیوں میں ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.4 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جبکہ قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ رہا۔ جمعرات کو وال اسٹریٹ پر مائیکروسافٹ کے غیر تسلی بخش نتائج کے بعد حصص کی قیمتیں گر گئیں، جس نے مصنوعی ذہانت پر کیے گئے اخراجات کے منافع بخش ہونے کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے۔ اب تک رپورٹ کرنے والی ایس اینڈ پی 500 کی تقریباً ایک تہائی کمپنیوں میں سے 76 فیصد نے آمدنی کے تخمینوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، تاہم بڑی امریکی ٹیک کمپنیوں کے نتائج اب تک ملے جلے رہے ہیں۔</p>
<p>دریں اثناء جمعے کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے مزید استحکام حاصل کیا اور اس کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ریکارد کیا گیا۔ کاروبارکے اختتام پر مقامی کرنسی 279.77 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کے اضافے کے مترادف ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں حجم کم ہو کر 805.14 ملین رہ گیا، جو پچھلی بندش کے 933.10 ملین سے کم ہے۔ حصص کی کل مالیت بھی کم ہو کر 50.83 ارب روپے رہ گئی، جو پچھلے سیشن میں 66.41 ارب روپے تھی۔</p>
<p>حجم کے لحاظ سے کے الیکٹرک لمیٹڈ سر فہرست رہی جس کے 81.41 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔ ہیسکول پیٹرول 66.47 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور ورلڈ کال ٹیلی کام 53.71 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔</p>
<p>جمعے کے روز مجموعی طور پر 484 کمپنیوں کے حصص کی لین دین ہوئی، جن میں سے 258 کے شیئرز میں اضافہ، 175 میں کمی اور 51 کمپنیوں کے حصص میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/30175714f449f8e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/30175714f449f8e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282234</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Jan 2026 20:27:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/301055577213ace.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/301055577213ace.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
