<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کا عالمی سرمایہ کاروں کیلئے تاریخی ورچوئل روڈ شو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282224/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی جانب سے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس اور وزارتِ خزانہ و ریونیو کے اشتراک سے منعقد کیے گئے ورچوئل انویسٹر روڈ شو کو پاکستان کی سرمایہ کاری کہانی کے حوالے سے غیر معمولی اور تاریخی سطح کی عالمی توجہ قرار دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد کے مطابق اس روڈ شو میں 225 سرمایہ کاروں کی شرکت حالیہ برسوں میں پاکستان کے لیے ہونے والی سب سے بڑی، متنوع اور ادارہ جاتی نوعیت کی سرمایہ کار ملاقاتوں میں سے ایک تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں حقیقی سرمایہ کاری کرنے والے عالمی سرمایہ کار ایک منظم اور مشترکہ فورم پر اکٹھے ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ اس روڈ شو کی قیادت وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کی۔ انہوں نے پاکستان کی ابھرتی ہوئی سرمایہ کاری کہانی پیش کی جو معاشی استحکام، ساختی اصلاحات، بیرونی توثیق اور بہتر ہوتے معاشی منظرنامے پر مبنی ہے۔ ساتھ ہی بیرونی منڈیوں سے فنڈنگ کے آئندہ منصوبوں کے بارے میں واضح رہنمائی بھی فراہم کی گئی، جس میں متوقع آر ایف پیز کا ذکر شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکا میں زیادہ تر غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار شامل تھے جن میں عالمی اثاثہ جاتی مینیجرز، پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیاں، خودمختار اداروں سے منسلک سرمایہ کار، کارپوریٹ ادارے، ہائی نیٹ ورتھ افراد اور کثیرالجہتی مالیاتی ادارے شامل تھے۔ اس نمائندگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض قیاس آرائی پر مبنی دلچسپی نہیں بلکہ طویل مدتی سنجیدہ سرمایہ پاکستان کے معاشی اور اصلاحاتی سفر کا جائزہ لے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے شمالی امریکا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا پیسیفک سمیت دنیا کے بڑے مالیاتی خطوں سے شرکت کی۔ خاص طور پر دنیا کے چند بڑے اور بااثر اثاثہ جاتی منتظمین بھی فہرست میں شامل تھے، جو مجموعی طور پر 35 ٹریلین امریکی ڈالر سے زائد اثاثہ جات کا انتظام کرتے ہیں۔ خرم شہزاد کے مطابق یہ شمولیت اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر حقیقی سرمایہ مختص کرنے والوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے تاثر میں تبدیلی کی بنیادی وجہ نمایاں پیش رفت ہے۔ مہنگائی میں کمی، مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری، بیرونی کھاتوں کا استحکام اور زرِ مبادلہ کی منڈیوں میں ٹھہراؤ اس پیش رفت کا حصہ ہیں۔ ٹیکس نظام کی جدید کاری، توانائی شعبے کی تنظیمِ نو، سرکاری اداروں کی اصلاحات اور ضابطہ جاتی آسانیاں اب محض اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کی پابندی اور کثیرالجہتی اداروں کی دوبارہ شمولیت بھی پاکستان کی ساکھ مضبوط بنا رہی ہے۔ ان کے بقول یہ روڈ شو عالمی اعتماد کی بحالی کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی جانب سے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس اور وزارتِ خزانہ و ریونیو کے اشتراک سے منعقد کیے گئے ورچوئل انویسٹر روڈ شو کو پاکستان کی سرمایہ کاری کہانی کے حوالے سے غیر معمولی اور تاریخی سطح کی عالمی توجہ قرار دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>خرم شہزاد کے مطابق اس روڈ شو میں 225 سرمایہ کاروں کی شرکت حالیہ برسوں میں پاکستان کے لیے ہونے والی سب سے بڑی، متنوع اور ادارہ جاتی نوعیت کی سرمایہ کار ملاقاتوں میں سے ایک تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں حقیقی سرمایہ کاری کرنے والے عالمی سرمایہ کار ایک منظم اور مشترکہ فورم پر اکٹھے ہوئے۔</p>
<p>خرم شہزاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ اس روڈ شو کی قیادت وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کی۔ انہوں نے پاکستان کی ابھرتی ہوئی سرمایہ کاری کہانی پیش کی جو معاشی استحکام، ساختی اصلاحات، بیرونی توثیق اور بہتر ہوتے معاشی منظرنامے پر مبنی ہے۔ ساتھ ہی بیرونی منڈیوں سے فنڈنگ کے آئندہ منصوبوں کے بارے میں واضح رہنمائی بھی فراہم کی گئی، جس میں متوقع آر ایف پیز کا ذکر شامل تھا۔</p>
<p>شرکا میں زیادہ تر غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار شامل تھے جن میں عالمی اثاثہ جاتی مینیجرز، پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیاں، خودمختار اداروں سے منسلک سرمایہ کار، کارپوریٹ ادارے، ہائی نیٹ ورتھ افراد اور کثیرالجہتی مالیاتی ادارے شامل تھے۔ اس نمائندگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض قیاس آرائی پر مبنی دلچسپی نہیں بلکہ طویل مدتی سنجیدہ سرمایہ پاکستان کے معاشی اور اصلاحاتی سفر کا جائزہ لے رہا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے شمالی امریکا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا پیسیفک سمیت دنیا کے بڑے مالیاتی خطوں سے شرکت کی۔ خاص طور پر دنیا کے چند بڑے اور بااثر اثاثہ جاتی منتظمین بھی فہرست میں شامل تھے، جو مجموعی طور پر 35 ٹریلین امریکی ڈالر سے زائد اثاثہ جات کا انتظام کرتے ہیں۔ خرم شہزاد کے مطابق یہ شمولیت اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر حقیقی سرمایہ مختص کرنے والوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے تاثر میں تبدیلی کی بنیادی وجہ نمایاں پیش رفت ہے۔ مہنگائی میں کمی، مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری، بیرونی کھاتوں کا استحکام اور زرِ مبادلہ کی منڈیوں میں ٹھہراؤ اس پیش رفت کا حصہ ہیں۔ ٹیکس نظام کی جدید کاری، توانائی شعبے کی تنظیمِ نو، سرکاری اداروں کی اصلاحات اور ضابطہ جاتی آسانیاں اب محض اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کی پابندی اور کثیرالجہتی اداروں کی دوبارہ شمولیت بھی پاکستان کی ساکھ مضبوط بنا رہی ہے۔ ان کے بقول یہ روڈ شو عالمی اعتماد کی بحالی کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282224</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Jan 2026 09:12:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/30091013f38f6f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/30091013f38f6f1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
